37

گرم چشمہ اورمستوج ہسپتال کے خلاف غلط کرنے والوں کے خلاف قانونی کاروائی کیا جائے/صمدگل/محمدظفرلال

چترال(پریس ریلیز ) چترال کے ممتازماہرتعلیم اور ریٹائرڈ ای ڈی اومحکمہ ایجوکیشن صمدگل اورسماجی کارکن محمدظفرلال مستوج نے ایک مشترکہ اخباری بیان میں کہاہے کہ آغاخان ہیلتھ سروس پاکستا ن چترال میں 1960کی دہائی سے صحت کے محکمے میں نمایاں خدمات انجام دے رہی ہے ۔گزشتہ دنوں چترال کے ایک غیرمقامی اخباری نمائندہ سوشل میڈیا میں گرم چشمہ اورمستوج میں پرائیویٹ پبلک پارٹنرشپ کے تحت چلنے والی ہسپتالوں کے خلاف بے بنیاد تحریر پوسٹ کر کے ادارے کی ساکھ کونقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے جوکہ من گھڑت اور بد نیتی پر مبنی ہے۔انہوں نے کہاکہ آغاخان ہیلتھ سروس چترال صحت کے شعبے میں کام کرنے والاواحدغیرسرکاری ادارہ ہے جو دن رات خدمات انجام دے رہا ہے۔ لیکن چندمفاد پرست عناصر بلیک میلنگ میں نہ آنے کی وجہ سے ادارے کے خلاف اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنے پر اُتر آئے ہیں جن کی ہم شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور اپنی ذاتی مفادات کی خاطر لوگوں کو گمراہ کرنے لئے من گھڑت اور بے بنیاد افواہیں پھیلا کر ادارے کی دلچسپی کو کم کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔انہوں نے  گرم چشمہ اورمستوج ہسپتال کے خلاف غلط بیانی کرنے پرحکومت سے مطالبہ کیاہے کہ اس طرح افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے جوعوام کوصحت کی سہولیات سے محروم کرنے پراُترآئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس وقت مستوج ہسپتال میں چھ سینئرڈاکٹرزاوردیگراسٹاف24گھنٹے ڈیوٹی انجام دے رہے ہیںاور صحت کے تمام سہولیات عوام کوگھرکی دہلیز پرفراہم کررہے ہیں۔ان ہسپتالوں میں آغاخان ہیلتھ سروس نے صحت سے متعلقہ تمام جدیدآلات نصب کئے گئے ہیں جہاں تمام ٹیسٹ انتہائی تسلی بخش اور مطلوبہ اسٹنڈر کے مطابق کئے جاتے ہیںاور ہسپتالوں میں صفائی بھی نہایت اطمینان بخش ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہسپتالوں میں 40لاکھ روپے مالیت کے جنریٹرلگائے گئے ہیں جولوڈشیڈنگ کی صورت میںدن رات بجلی مہیاکرتے ہیں۔دیگرتمام جدیدسہولیات ہسپتالوں میں موجودہے ۔انہوں نے کہاکہ گرم چشمہ میں ان تمام سہولیات کے ساتھ گائنی کالوجسٹ ڈاکٹربھی موجودہے ۔انہوں نے کہاکہ اے کے ایس ایچ پی آغا خان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک کی جانب سے صحت کے شعبہ سے تعلق رکھنے والی سرگرمیوں میں براہ راست اعانت سے دنیا بھر میں سالانہ پچاس لاکھ اور پاکستان میں تقریباً بیس لاکھ افراد فائدہ اٹھاتے ہیں اور یہ منصوبہ بندی، تربیت اور وسائل کو ترقی دینے کے لیے تعاون فراہم کرتاہے۔انہوں نے کہاکہ 1960کی دہائی میں ملک کے دورافتادہ ضلع چترال میں حکومت کی طرف سے دستیاب علاج معالجے کی سہولیات کا اندازہ ہر کوئی لگاسکتا ہے جوکہ آج سے پچاس سال پہلے کی بات ہے ۔ پچاس سال بعد آج کوئی موجودہ صورت حال کو سامنے رکھے تو یہ سمجھنا کوئی مشکل نہ ہوگاکہ اس عرصے میں حکومت کے ساتھ ساتھ کسی ادارے نے اس پسماندہ علاقے میں صحت کے شعبے میں قابل قدر خدمت انجام دیا ہے تو وہ آغا خان ہیلتھ سروس پاکستان ہے جوکہ آغا خان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک کا ایک جز ہے جوکہ دنیاکے پسماندہ ممالک میں اپنی مسیحائی کی حیثیت منوائی ہے جن میں سنٹرل ایشیاءکے ممالک خصوصی طور پر شامل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آغاخان ہیلتھ سروس پاکستان ایک موثر نظام لانے اور مریضوں کی بڑھتی ہوئی ضروریا ت کو پورا کرنے کے لئے آغاخان ہیلتھ سروس اپنی طبی سہولیا ت کی بحالی کر رہا ہے اور چترال کے دورافتادہ اورپسماندہ علاقوں میں حکومت کے شانہ بشانہ صحت کے بنیادی سہولیات فراہم کررہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ مستوج اورگرم چشمہ کے عوام صوبائی حکومت کامشکورہیں کہ انہوںنے ان ہسپتالوں پرائیویٹ پبلک پارٹنرشپ کے تحت آغاخان ہیلتھ سروس کودیاہے وہ اس معاہدے کے تحت کوالٹی ہیلتھ کئرسروس ان پسماندہ علاقوں میں فراہم کرتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email