بلیک ہولز…….تحریر : فداالرحمن (ڈائیریکٹر شہید اسامہ وڑائچ کیرئیر اکیڈمی )

ہماری کائنات میں انتہائ طاقتور , ہیبت ناک اور خوفناک سوراخ موجود ہیں جن کی دسترس میں موجود ہر چیز بہت آسانی سے ان کے اندر ہضم ہوتے ہیں – کوئ بھی چیز ان سے نہیں بچ سکتے , بہت بڑا اور بھاری ستارہ ہو یا انتہائ ہلکی روشنی….کسی بھی چیز کے لیے ان کا پار کرنا ناممکن ہے – ان کی ثقلی قوت اتنی ذیادہ ہے کہ کوئ بھی چیز ان سے فرار حاصل نہیں کر سکتی – اگر ایک جسم روشنی کی رفتار میں بھی سفر کرے لیکن اس ہیبت ناک اور خوف ناک سوراخ کی حد میں داخل ہوتے ہی لڑکھڑانا شروع کرے گی اور یہ سوراخ اس کو انتہائ بے رحمی سے نگل سکتے ہیں – لیکن یہ سوراخ ہمیشہ سے پر اسرار رہے ہیں – ایک زمانہ تھا لوگ ان بلیک ہولز کو سائنسی خرافات سمجھہ کر ان کے تصور کا مذاق اڑاتے تھے , بعض لوگ ان کو سائنس فکشن کے دائرے میں ہی محدود کر کے ان کی حقیقت سے منکر تھے – ان کی حقیقی وجود کا اعتراف کرنے والے پاگل اور دیوانے تصور کیے جاتے تھے – لیکن بھلا ہو ماڈرن فزکس کا ……آج کل ہم ان کی حقیقی وجود کے معترف ہوئے ہیں –
تحقیق بتا رہا ہے کہ بلیک ہولز کائنات کے مرکز میں موجود ہوتے ہیں -بلیک ہولز کا براہ راست مشاہدہ ممکن نہیں ہے -ہم بلیک ہولز کے گرد موجود اجسام کا مشاہدہ کرتے ہیں پھر بلیک ہولز کے بارے رائے دے سکتے ییں -آئن سٹائین کے مطابق بلیک ہولز فنا کی طرف سفر کے آخری منازل ہیں ,ان ہولز کے قریب پہنچ کر فنا کو گلے لگانا ہوتا ہے , جو چیز ان کی event horizon میں داخل ہوتے ہیں وہ فنا کی راہوں میں ہمیشہ کے لیے معدوم ہو جاتے ہیں ,لیکن کوانٹم فزکس کا نظریہ اس بارے کافی مختلف ہے ,کوانٹم فزکس کے مطابق بلیک ہولز کے اندر کی دنیا ایک نئ زندگی کی مظہر ہو سکتی ہے –
اس سے پہلے کلاسیکل فزکس کی روشنی میں بلیک ہولز کا مطالعہ کرنے سے یہ قیاس مظبوط جڑ پکڑ چکا تھا کہ بلیک ہول میں جاتے ہی تمام انفارمیشن ختم ہو جاتی ہیں , فنا کو دوام حاصل ہوتی ہے –
لیکن کوانٹم فزکس اس سرزمین پر فتح کا علم بلند کیے نازل ہوا – شروع شروع میں آئین سٹائین کی جنرل تھیوری آف ریلیٹویٹی اس کے راستے میں زبردست رکاؤٹ ڈالی ,کوانٹم فزکس کو سر اٹھا کر چلنے کے قابل نہیں چھوڑا لیکن بعد میں سسکائیڈ اور برائن گرین کی کوششوں سے ان دو کے درمیان ایکا ہونے کی گنجائش پیدا ہوئ …پھر سٹرنگ تھیوری نے بھی بلیک ہولز کا میکینزم سمجھنے میں کافی مدد کی – یہاں پر مختصر کوانٹم فزکس اور جنرل تھیوری آف ریلیٹیویٹی کا تعارف کر کے آگے جائیں گے تاکہ پیچیدہ اجزا کو سمجھنے میں دشواری پیش نہ آئے –
جنرل تھیوری آف ریلیٹویٹی….یہ نظریہ ہمیں کشش ثقل کے حقیقی تصور سے آگاہی فراہم کی ….یہ نظریہ کائنات کو ایک واسیع النظر پیمانے پر پرکھتا ہے – اس کے مطابق آئن اسٹائن نے بتایا کہ زمان و مکان (ٹائم اینڈ اسپیس) آپس میں اس طرح ملے ہوئے ہیں جیسے کسی چادر میں تانے بانے (ایک دوسرے میں سے گزرتے ہوئے دھاگے) ہوتے ہیں اور یہ دونوں مل کر ہی کائنات کو وجود بخشتے ہیں۔ یعنی ہم اس پوری کائنات کو زمان و مکان کی ایک ایسی چادر سمجھ سکتے ہیں جو بیک وقت بہت مضبوط بھی ہو اور انتہائی لچک دار بھی۔اس کے مطابق کائنات چار ابعاد پر مشتمل ہے ..تین ابعاد مکان کے ہیں اور ایک زمان کا ہے -یہ چار ابعاد آپس میں بالکل متصل ہیں ..ان چار ابعاد پر ایک سطح بنتا ہے جسے زمان و مکان کی فیبرک بھی کہا جاتا ہے ,,زمان و مکان کی یہ سطح بڑے اور بھاری اجسام کی وجہ سے متاثر ہوتی ہے –
جہاں مادّہ ہوگا، وہاں کششِ ثقل (گریوی ٹیشنل فورس) بھی ضرور ہوگی۔ اور جہاں کششِ ثقل ہوگی، وہاں زمان و مکان کی اس چادر میں گڑھا بھی ضرور پڑے گا۔ آئن اسٹائن نے سیاروں سے لے کر عظیم الشان ستاروں اور کہکشاؤں تک کی کشش ثقل کو ’’زمان و مکان میں پڑنے والی شکنیں‘‘ قرار دیا۔ جس جگہ مادّہ جتنا زیادہ ہے، وہاں یہ شکنیں بھی اتنی ہی زیادہ ہیں۔
دوسرا نظریہ کوانٹم میکینکس کا ہے جو مادے کے اندر ایٹم کی انتہائ ذیلی سطحوں پہ ہونے والی تحرک کی واضحات کرتی ہے -تجرباتی سطح پر یہ نظریہ بہت جلد ہی کامیاب رہا تھا -یہ نظریہ کائنات کو انتہائ چھوٹے جوہری پیمانے پر پرکھتا ہے -یہ نظریہ بلیک ہولز سے کوانٹم میکینکل ابجیکٹز جیسا سلوک روا رکھا –
جاری ہے

Print Friendly, PDF & Email