118

چترال میں پی ایم ایل این بڑی سیاسی قوت بننے والی ہے ۔۔۔تحریرمحمداسماعیل شاہ

یہ بات ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ آج ہر پاکستانی فخر پاکستان ، وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کی طرز حکومت سے خوش اور مطمئن ہیں۔ جن کی بنیادی وجوہات میں سے ملک و قوم کے لئے پر خلوص قیادت ، ملکی وقومی مفادات کے تناظر میں نہایت جامع اور فہم وفراست پر مبنی فیصلے، خوش حالی اور ترقی پسندانہ فیصلے، چین سے اقتصادی راہداری (CPEC) کا تاريخی معاہدہ، لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کےلئے کئی توانائی منصوبوں کا قیام، امن و امان کے لئے جامع حکمت عملی، دہشت گردی سے نمٹنے کےلئے “Nation Action Plan” کا قیام، کرپشن اور ناانصافی کا خاتمہ ، بے روزگاروں کے لئے پرائم منسٹر بزنس لون سکیم اور عوامی روزگار پروگرام، نوجوانوں کےلئے پرائم منسٹر لیپ ٹاپ اسکیم ،کسانوں کےلئے کسان ریلیف پیکج ،غریبوں کی علاج و معالجے کے لئے قومی صحت پروگرام “Networks Communication” کی بہتری کے لئے موٹر ویز کی تعمیر ، ملک کو اقوام عالم کی ترقی یافتہ اور خوشحال قوموں کے قطارمیں کھڑا کرنے کے لئے منظم و مربوط اقدامات ، وطن عزیز کی Sovereignty اور Integrity کے لئے دو ٹوک موقوف ، بائے الیکشنز اور LG پولز میں عوامی بھر پور اعتماد شامل ہیں۔

جب سے میاں صاحب میدان سیاست میں قدم رکھا ہے سیاست کو عبادت سمجھ کر کی ہے۔اور وطن سے محبت ان کی رگ رگ میں پیوست ہیں اور حب الوطنی کا جذبہ انکے خون میں شامل ہے اسلئے پاکستان کے عوام نے تین مرتبہ وزیراعظم منتخب کیا۔ میاں صاحب  کے گزشتہ دور حکومتیں بھی اپنی مثال آپ تھی۔ مگر بعض مفاد پرست اور لیلیٰ اقتدار کے مجنونوں سے میاں صاحب کی حب الوطنی اور ترقی پسندانہ فیصلے ہضم نہیں ہوئےاور انکے دونوں حکومتیں ان کی Constitutionally fixed term  پوری ہونے سے پہلے ختم کردی گئی۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا اگر ان کی گزشتہ دور حکومتیں پوری کرنے دیتے توآج پاکستان دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں کے صفوں میں کھڑا نظر آتے ۔ 12 اکتوبر 1999ء کا دن ہماری تاریخ کا ایک سیاہ دن ہےکیونکہ اس دن یہاں جمہوری حکومت کا تختہ الٹا دیاگیا اور جمہوریت پر شب خون مارا گیا1973کے متفقہ دستور کو violate کیا گیا اور منتخب وزیراعظم کو پابند سلاسل بنادیاگیا ۔ اس وقت بہت سے مفاد پرست سیاست دان ایک ڈکٹیٹر کے گرد جمع ہوگئے تھےاور یہ نعرے لگارہے تھے کہ نواز شریف Exile ہی میں گزارے گا اور شہباز شریف کی وطن واپسی محض ایک خواب ۔مگر آج ہم دیکھ رہے ہیں ۔ وہی نواز شریف پاکستان کے وزیراعظم ہیں اور شہباز شریف وزیراعلیٰ پنجاب۔اسلئے سچ کو ہمیشہ فتح نصیب ہوتی ہے (Truth is evergreen) ۔ جو لوگ شریف برادران کے خلاف پرپیگنڈہ پھیلاکر لوگوں کو بدظن کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ آج وہ خود سیاسی طورپر معذور یا سیاسی یتیم نظر آتے ہیں۔ وطن عزیز کے لئے جو خدمات میاں نواز شریف نے سرانجام دی ہے انھیں تاریخ کے صفحوں پر سنہری حرفوں سے لکھا جاتاہے ۔ 28 مئی 1998 کا دن ہمارے لئے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ کیونکہ اسی دن ہمارا ملک عالمی دنیا کا ساتویں اور مسلم دنیا کا پہلا نیو کلیئر قوت بنا۔ 28 مئی کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے سامنے غیر متزلزل کھڑا رہنے والے اور ان کی نوازشات اور مراعات کو جوتی کی نوک پر رکھ کر ملکی دفاع اور سالمیت کو مقدم رکھتے ہوئے دلیرانہ اور بہادرانہ فیصلے کرنے والے نواز شریف ہی تھے۔ 28 مئی کا دن ملک دشمن قوتوں کے Intentions Nefarious کے خاتمے کا دن ہے۔ آج یہ بات ہر پاکستانی کے سوچ میں گردش کررہی ہے جس طرح میاں صاحب 28 مئی 1998 کو میاں صاحب نے ملک کو ناقابل تسخیر قوت بنایاتھاوہ وقت دور نہیں  کہ انہی کے دور حکومت میں پاکستان ایشین ٹائیگر بن جائےگا۔ اور یہاں ترقی اور خوشحالی کے شگوفیں پھوٹیں گے اور امن وآشتی کی باد نو بہار چلے گی۔یہ ہماری سب سے بڑی  بد قسمتی ہے کہ ہرزہ سرائی، الزام تراشی ، دشنام طرازی، اور Character Assassination  ہماری سیاست کا حصہ بن چکی ہیں۔ ہمارے سیاسی راہنما ایک دوسرے کی پگڑیاں اُچھالنے اور کیچڑ اُ چھالنے سے تھکتے نہیں اور سیاسی مفادات کے حصول کی خاطر اخلاقی اقدار کی دھجیاں اُڑارہے ہیں۔ جب Political Arena سج جاتی ہے تو ہمارے Political Paladin  ہوش وحواس کھو بیٹھتے ہیں۔ اور کردار کے غازی بن جانے کی بجائے گفتار کے غازی بن جاتے ہیں۔ اور ایک دوسرے کے خلاف “Dissemination of Rumours” اور Defamatory Language  کا استعمال ہماری سیاست میں عام ہے۔ جس پر انسان توانسان ہے مگر پرندے اور درندے بھی ان پر اپنی طنزیہ مسکراہٹیں بکھیر دیتی ہیں۔اکیسویں صدی کی اس ہوش رباء ٹیکنالوجی کے دور میں جھوٹے وعدوں اور کھوکھلے وعدوں سے عوام کو بے وقوف نہیں بنایا جاسکتا اورلوگوں کو سبز باغ دکھاکر اپنے مفادات حاصل کرنا نہایت مشکل ہے۔ اگر ہمارے سیاسی راہنما اپنی سیاسی بقاء کو قائم و دائم کرنا چاہتے ہیں ۔ تو انھیں چاہیے کہ اپنے ذاتی مفادات کو قومی مفادات کی خاطر قربان کرے، نیک نیتی ، خلوص دل اور دیانت داری سے عوام کی خدمت کرے اورایک دوسرے کے خلاف Melodramatic ٹانک سے اجتناب کرے۔ بات موضوع سے قدرے دور نکل گئی ۔ بات ہورہی تھی ہمارے سیاسی رہنماؤں کے رویوں کے حوالے سے ۔ چترال میں بعض حضرات پاکستان مسلم لیگ (ن) مقبولیت اور شہرت سے خوفزدہ اور بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے تھے اور مخالفین نے PML (N) کی Prestige  کو Tarnish کرنے کے لئے جھوٹی پرپیگنڈوں  سلسلہ شروع کیا کہ چترال کی طرف میاں نواز شریف کی کوئی دلچسپی نہیں۔ اور چترال کی ترقی کے حوالے سے کوئی سنجیدہ اقدام نہیں اُٹھا رہے ہیں۔ مگر پانی کی ڈوبی کہ ڈوبی کے مصداق وقت نے اُن کے جھوٹے پرپیگنڈوں کو طشت از بام کردیا ۔ جب چترال تاریخ کی بدترین سیلاب کی زد میں آگیا تو سب سے پہلے متاثرین سے اظہار یک جہتی کے لئے آنے والے میاں محمد نواز شریف ہی تھے۔ 26 اکتوبر 2015 ءکی Catastrophic Temblor  کے بعد یہ میاں نواز شریف ہی تھے ۔ جو اپنے بیرونی دورے مختصر کرکے چترال تشریف لائے۔ حالانکہ اس زلزلے سے ملک کے دیگر علاقے بھی شدیدمتاثر ہوئے تھے مگر میاں صاحب نے چترال کو ترجیح دی۔ وقت نے ثابت کردیاکہ میاں محمد نواز شریف کے دل میں چترالیوں کے لئے بے پناہ محبت موجود ہےاور اس انسیت کو کوئی مائی کا لعل نہیں مٹا سکتا۔اس کے ساتھ گورنر KPK جناب مہتاب احمد خان عباسی کی جانب سے چترال کو آفت زدہ قرار دے کر اس سال چترال سے تعلق رکھنے والے سٹڈونٹس کے لئے فیسوں کی معافی کا اعلان اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) چترال کی ترقی اور خوشحالی کے لئے کوشاں ہیں جو لوگ آمن و آشتی کے گہوارے چترال کی سرزمین میں PML (N) کے خلاف نفرت کے جو بیج بوئے تھے آج اس پر محبت کے پُھول کھلتے دیکھ کر حیران و پریشان ہیں۔ماضی میں یہ ہماری سیاست میں بری روایت رہی ہے جس ڈسٹرکٹ یاصوبے میں حکمران جماعت کو نمائندگی نہیں ملتی تھی۔ وہ علاقے حکمران جماعت کی عدم توجہی کا شکار رہتی تھی اور ان علاقے کی ترقی کے حوالے حکمران جماعت تجاہل عارفانہ برتنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑتے تھے یا Political Victimization کے تحت نظر انداز کردئیے جاتے تھے مگر تعصب سے مُبرا اذہان کے لئے میری اس بات میں کوئی مبالغہ آرائی نہیں کہ یا وہ شک اور تعصب کی عینک اُتار کر دیکھے تو انہیں یہ واضح نظر آجائے گا کہ میاں صاحب تمام صوبوں کو یکساں مواقع فراہم کررہاہے اور تمام صوبوں کو ایک ہی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ چترال میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت ایک ایسے شخصیت کررہے ہیں جن کے متعلق میں یہ کہنے میں اپنے آپکو حق بجانب سمجھتاہوں کہ وہ چترال کی سیاست کے افق پر ایک چمکتا دمکتا ستارہ اور چترال کی سیاست کے رموز واسرار سے واقف ، بے داغ ماضی کے حامل ، شیر دل رہنما اور veteran politician سعید احمدخان جوکہ دو مرتبہ چترال کے MPAبھی رہ چکے ہیں۔ چترال کے لئے ان کی خدمات اپنی مثال آپ ہیں۔ اس لئے پاکستان مسلم ن چترال میں ایک بڑی سیاسی قوت بن کر سامنے آنی والی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں