40

داد بیداد۔۔۔۔قیمتوں میں استحکام۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

اخبارات میں تین خبریں ایک ساتھ لگی ہیں ایک خبر یہ ہے کہ دوست ملک چین نے پا کستان کو گیس اور تیل کی قیمتوں میں استحکام لانے کا مشورہ دیا ہے تا کہ بیرونی سر مایہ کاروں کو راغب کیا جا سکے دوسری خبر یہ ہے کہ ایران سے در آمدی ٹما ٹر کی نئی کھیپ آنے کے با جود کراچی، لا ہور، اسلام آباداور پشاور میں ٹما ٹر کے نر خوں کی اونچی اڑان میں کمی نہیں آئی کراچی اور لاہور میں ٹما ٹر 320روپے اسلام آباد میں 310روپے جبکہ پشاور میں چارسدہ میں پیداوار کی وجہ سے 220روپے کلو فروخت ہورہا ہے تیسری خبر یہ ہے کہ روان ہفتہ کے دوران اشیائے خوراک کی قیمتوں میں 11فیصد سے لیکر 18فیصد تک اضا فہ ہوا۔گھی اور خوردنی تیل کی اعلیٰ کوالٹی کے نرخ 18فی صد کے حساب سے بڑھ گئے ہیں دالوں کی قیمتوں میں 11فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ہمارے سادہ لو ح عوام ٹما ٹر خرید تے وقت بھی وزیر اعظم کا نا م لیتے ہیں حا لانکہ یہ وزیر اعظم کا کام نہیں ہے یہ انتظا می مشینری کا کام ہے کہ عوام کو بنیادی سہو لیات فراہم کرے قانون کی عملداری کویقینی بنائے اور گراں فروشوں کے خلاف قدم اُٹھا ئے جن لو گوں کی عمر یں 60سال سے اوپر ہیں ان کو یاد ہو گا کہ 1972سے 1977تک پشاور میں سر فراز خان مجسٹریٹ درجہ اول کا طوطی بولتا تھا وہ پاکستان ایڈ منسٹریٹیو سروس (APS)کا افسر نہیں تھا وہ پی سی ایس کیڈر سے بھی نہیں آیا تھا ان کا تعلق اُس گروپ سے تھا جن کو دفتری اصطلاح میں رینکر کہا جا تا ہے یعنی قانون گو اور نائب تحصیلدار سے تر قی کرکے مجسٹریٹ درجہ اول بنا تھا پورا بازار اس کی مٹھی میں ہوتا تھا وہ گران فروش کو 1972ء میں ایک ہزار روپے جر مانہ کرتا تو وہ دوسالوں کے لئے توبہ تائب ہو جا تا تھا اگر کوئی تاجر ایم پی اے یا ایم این اے کی سفارش لا تا تو جرمانہ دوگنا ہو جاتا اگر کسی وزیر کی سفارش لا تا تو جرمانہ تگنا ہوجا تا تھا سر فراز خان مجسٹریٹ درجہ اول کسی کو خا طر میں نہیں لاتے تھے اُن کا دوسرا طریقہ یہ تھا کہ وہ صرف پر چون فروش، قصائی، نا نبائی یا کبا بی اور ریڑھی والے پر اپنی طاقت نہیں آزما تا تھا بلکہ وہ تھوک بیو پاری پر بھی ہاتھ ڈالتا تھا جعلی اشیاء کی دونمبر فیکٹریوں پر بھی چھا پہ مار تا تھا اور گران فروشی کو ختم کرنے کا زرین اصول بھی یہی ہے کہ آڑھت، دڑھت، کمیشن ایجنٹ سے کام کا آغاز کیا جائے مال جب سبزی منڈی یا کمیشن ایجنٹ کے ہاں آجا تا ہے تو اس کی با قاعدہ نیلامی ہوتی ہے اس نیلا می میں کم سے کم اور زیا دہ سے زیا دہ نر خ کا پتہ لگ جا تا ہے اگر انتظا میہ کے حکام اس مر حلے پر نیلا می کی نگرا نی کریں گے تو بازار میں کساد بازاری کی گنجا ئش ختم ہو جائیگی ہمارا پر چون فروش ایک نمبر مال کی جگہ دو نمبر ما ل فروخت کر تا ہے تو اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایک نمبر ما ل میں منا فع کی شر ح 5فیصد سے 8فیصد تک ہو تی ہے جبکہ دو نمبر مال میں منا فع کی شرح 25فیصد سے 30فیصد تک ہوتی ہے کولڈ ڈرنکس چائے خشک اور گھی میں پر چون فروش کو 46فیصد منا فع بھی ملتا ہے اس لئے پر چون فروش پر ہاتھ ڈالنے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا اس کے لئے سر فراز خان مجسٹریٹ درجہ اول کا فارمو لہ اپنا نا ہو گا یعنی ایم پی اے، ایم این اے اور وزیر وں کو تھان پر باندھوں، اشیائے خوراک کی فیکٹریوں پر چھا پہ مارو، تھوک فروشوں کو 20لاکھ اور 30لاکھ روپیہ جر مانہ کرو قیمتوں کا استحکام سیا سی مسئلہ نہیں یہ انتظا می معا ملہ ہے۔

Print Friendly, PDF & Email