پانچ ہزار روپے……..تحریر: ڈاکٹر شاکرہ نندنی

جب اُس کی پیدائش ہوئی تو پورے گھر میں اُس ہی کی معصوم کلکاریاں گونج رہیں تھیں، ہر کوئی اسے گود میں اٹھائے یہاں سے وہاں لے جارہا تھا۔ بہنیں اس کی بلائیں لے رہی تھیں اور بھائی اس کے سر پر ہاتھ  پھیر رہے تھے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اسے پیدا ہوتے ہی نعمتیں، نوازشیں اور بھائی بہن کا پیار ملنے لگا اور وہ زندگی کے مصائب سے بےفکرایک سانس سے دو سانس اور دو سے چار لیتا رہا۔

اس دوران اسے موسمی اور ماحولیاتی بیماریوں نے اپنا شکار بنایا مگر فوری اور جدید طرزِعلاج  نے اسے پلک جھپکتے اس کے چنگل سے آزاد کردیا۔ یعنی وہ صبح کو بیمار ہوتا اور شام کو میونسپل پارک میں دوستوں کے ساتھ  کھیل رہا ہوتا۔ دن ہفتے، ہفتے ماہ اور ماہ سالوں میں بدلنے لگے مگر اس کی بے فکری اور اس کے لئے گھر والوں کے پیار کا وہی عالم تھا۔ اسی بے فکری اورپیار کے عالم میں اسے پتا ہی نہیں چلا کہ کب وہ بچپن سے لڑکپن میں داخل ہوگیا اور اب جوانی کی دہلیز چھورہا تھا۔ اسے ہوش تو اس وقت آیا جب گھر کے بڑے لوگوں نے اس کی نوخیزی کی عمر میں ہی شادی کرادی، اس طرح انھوں نے”اپنا فرض” پورا کردیا۔

یہ شادی بس کہنے کوہی شادی تھی ورنہ دن میں تارے نظر آنا، کسے کہتے ہیں اسے اس کا تجربہ بخوبی ہورہا تھا۔ گو یہ کیفیت زیادہ دن نہیں رہی اس لئے کہ خاندانی دولت اس کا آسرا بن گئی مگر ایک دن اسے اس وقت شدید جھٹکا لگا جب اس کا مہربان ایک حادثے کی نذر ہو کر انھیں روتا بلکتا چھوڑ گیا۔ باپ کی اندوہناک اور دلدوز موت کا دس پانچ دن تو ماتم رہا مگر وقت نے جلد اس زخم کی مرہمی کر دی اوراتنا بڑا حادثہ آئی گئی بات بن کر رہ گیا۔

بھا ئیوں نے بندر بانٹ طریقے سے باپ کی اس میراث کو ہڑپ کرلیا جو انھوں نے خون پسینہ بہا بہا کر اور دن رات ایک کرکے جمع کی تھی اور اسے گنوا کر فاقہ کشی کی نوبت سے دوچار ہو نے لگے۔ بڑے بھا ئی تو جیسے تیسے اپنے تعلقات والوں اوردوستوں سے قرضے لے لے کر زندگی کی گاڑی آگے بڑھاتے رہے مگر چونکہ اس کے نہ تو دوست تھے یا جو تھے وہ اسی کی طرح دوسروں کے ٹکڑوں پر پلنے والے تھے نیز اس پر یہ حادثہ اچانک اورایک دم آن پڑا تھا اس لئے وہ پریشا ن ہو کر رہ گیا۔ اب اسے حقیقت میں دن میں تارے نظر آنے لگے مگر تاروں کو توڑ کرتھوڑا لایا جاسکتا ہے! لہٰذا وہ حسرت بھری نگاہوں سے آسمان کی طرف دیکھ کر رہ جاتا۔

ایک دن وہ پریشان اور بدحال، سڑکوں کی خاک چھانتا پھررہا تھا کہ اس کی نگاہ دیوار پر چسپاں ایک اشتہار پر پڑی جس پر موٹے موٹے لفظوں میں لکھا تھا ”امریکی کمپنیوں میں شامل ہو کر لاکھوں کمائیے….” اس کی ادھ کھلی آنکھیں اس راتوں رات دولت مند بنانے والے اشتہارکو دیکھ کر اورکھل گئیں۔ وہ اور نزدیک چلا گیا اور غور سے اوپر سے نیچے تک اس اشتہار کو پڑھنے لگا جس میں چھوٹے چھوٹے حرفوں میں کچھ ہدایات اور شرائط لکھی تھیں۔ وہ پڑھتا رہا اور اس کے اختتام تک اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ ضرور اس کمپنی میں شامل ہو کر اپنی بدحالی دور کرے گا اورایک دن پھر اپنے روٹھے دنوں کو منالے گا۔ وہ اس اشتہار کو ایسے انداز میں دیکھ رہا تھا جیسے صحرا میں کسی کو پانی کی جھیل نظر آجائے۔

دوسرے دن وہ اس کمپنی کی عالی شان عمارت میں پہنچ گیا۔ جس کے صدر دروازے پر جلی حرفوں میں لکھا تھا۔ ”گولڈن لائف۔ اے کمپنی فار انکم جنریٹر اینڈ اپرچُنیٹی” استقبالیہ کے سوال و جواب کے بعد وہ مینیجر کے کیبن میں چلاگیا۔

”جی کہیے! میں آپ کی کیا خدمت کرسکتاہوں۔” اخلاقیات کی انتہا ہی تو کردی تھی اس نے اورنووارد کے دل میں ایک خوشگوار خیال نے گھر بنالیا۔

"جی دراصل میں نے آ پ کا اشتہار دیکھا ہے، میں اسی جا ب اور اپرچُنیٹی کے بارے میں جان کاری حاصل کر نے آیا ہوں۔” اس نے کہا اور مینیجر کی کر سی پر بیٹھا شخص گھسے پٹے اور طوطے مینا کی طرح رٹے رٹا ئے جملے بولنے لگا۔ ایک ایک جملہ اس کے اندر اترتا چلا گیا۔ دولت مند بننے کا اتنا آسان ترین طریقہ اسے آج تک پتا نہیں تھا۔ وہ بنا سوچے سمجھے اس کے لئے تیار ہو گیا۔ ”ہاں میں جاب کرنا چاہتاہوں۔” اس نے پر جوش انداز میں کہا۔

”مگر…..اس کے لئے آپ کو کم سے کم 5ہزار روپے کا انتظام کرنا پڑے گا۔”

پانچ ہزار روپے….؟ اس کے نیچے سے زمین کھسکتی سی چلی گئی ۔

ہاں پانچ ہزار روپے۔۔ اس کے بنا آپ کی انٹری بھی ممکن نہیں ہے ۔ منیجر کے الفاظ سفاکی بیان کر رہے تھے۔

ٹھیک ہے۔ میں 5ہزارکا انتظام کروں گا۔ اس کا جوش ابھی تک باقی تھا ۔ اور پھر وہ اپنے بیوی بچو ں کی تنگ دستی اور بد حالی دور کر نے کے ایک نئے ولولے کے ساتھ اس عالی شان عمارت سے باہر آگیا جس کی دیواروں سے اسے اب غریبوں کے خون پسینے کی بو آرہی تھی۔

خدا جانے اس نے کہا ں کہاں سے پانچ ہزارروپے کا انتظام کیا اور”گولڈن لائف کمپنی” جب مشکل دوچار قدم رہی ہو گی کہ ایک تیز رفتار کار اس کے ارمان خاک میں ملا گئی ۔چشم زدن میں اسے پتا ہی نہ چلا کہاں سے کہاں چلا گیا، اب تو ہوش بھی نہیں تھا۔ اگر اسے کچھ دیر کو ہوش آجاتا تو میرا یقین ہے کہ وہ یہ ضرورکہتا ۔

← اگر طوفاں نہ آتا ساحل مل گیا ہو تا

مگر اب کوئی ساحل نہیں تھا بس زندگی کا چراغ تھا جو ساعت ساعت بجھتا جارہا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email