دادبیداد۔۔۔۔۔۔بلبل امان شاہ مرحوم۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

وہ میرا دوست تھا عمر میں مجھ سے5سال بڑا تھا۔ان کی پیدائش کا سال1947تھا میری پیدائش کا دن14اگست ہے مذاق میں کہتا تھا یا اپنی تاریخ پیدائش مجھے دیدویا میری پیدائش کا سال تم لے لو۔ہم دونوں تعلیم کے پیشے سے وابستہ تھے۔دونوں کا تعلق چترال کے مشرق میں واقع خوب صورت وادی لاسپور سے تھا اور دونوں ایک ہی زمانے کے باسی تھے میرا گاؤں بالیم اُن کے گاؤں بروک سے دوکلومیٹر آگے ہے۔اُن کے دوہم جماعت شیرعزیز خان اور رحمت عظیم خان میرے گاؤں کے تھے۔سردیوں میں امتحان کی تیاری کے لئے بلبل امان شاہ بالیم آجاتے شیر عزیز خان کے مہمان خانے میں آگ سلگاکر سارا دن پڑھتے رہتے۔ہائی سکول چترال میں مشہور قانون دان ولی الرحمن اُن کے ہم جماعت تھے۔مذاق مذاق میں وکیل صاحب کہتے ہم دونوں چترالی نہیں ہیں میرے اباواجداد شِغنان سے آئے۔میرا قبیلہ شِغنیے کہلاتا ہے ان کے اباواجداد کالام سے آئے ان کا قبیلہ”کلامے“کہلاتا ہے۔واقعہ یہ ہے کہ قریباً500سال پہلے رئیس حکمرانوں کے دور میں کلام سوات سے ترک وطن کرکے ان کا قبیلہ بروک میں سکونت پذیرہوا۔کھوار زبان میں ان کی جاگیر کو”کالاموٹی“کہاجاتا ہے۔چترال میں کسی اور جاگیر یا محلے کے لئے اس طرح کانام مستعمل نہیں ہے۔کلاموٹی سے ملحق بہرامے قبیلے کے محلے کوباراٹی کہا جاتاہے اور یہ بروک کی حدتک ہے ہونہار برواکے چکنے چکنے بات بلبل امان شروع ہی سے بڑے لائق اور فائق تھے۔تیسری جماعت میں پڑھتے تھے تو لوگ خط اور درخواست لکھوانے کے لئے ان کے پاس آتے تھے وہ کہا کرتے تھے کہ ایک دفعہ میری قابلیت میر ے لئے وبال جان بن گئی۔گاؤں کے کچھ لوگوں نے تحصیلدار کے نام درخواست میں گودام کلرک کے خلاف شکایت لگائی۔تحصیلدار نے گودام کلرک سے بہت سارے غلے کی ریکوری کرواکر گودام میں جمع کروائی گودام کلرک نے بھرے مجمع کے سامنے دھمکی دیدی کہ جس نے یہ درخواست لکھی ہے اس کے ساتھ دیکھوں گا۔گاؤں میں خط پڑھنے اور لکھنے والا میرے سوا کوئی نہیں تھا۔تقریباً6مہینے میں گودام کلرک کا سامنانہ کرسکا جب اس کی تبدیلی ہوگئی تو میری جان میں جان آگئی۔گورنمنٹ سنیٹنل ماڈل ہائی سکول چترال کے آنر بورڈ پر دوبار ان کا نام آیاہے۔1963ء میں اُس نے مڈل سٹنڈرڈکے امتحان میں ضلع بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کی1965ء میں ایک بار پھر میٹرک کے امتحان میں اول آئے۔بُغدادہ مردان کے میاں جمیل الدین سکول کے پرنسپل تھے۔وہ بھی بلبل امان کی لیاقت وقابلیت کے دلدادہ تھے۔میٹرک کے بعد ان کو وظیفہ مل گیا۔گورنمنٹ کالج چارسدہ سے ایف ایس سی کیا تو ریاستی حکومت نے ان کو بلاکر سائنس ٹیچر مقرر کیا۔1967میں انہوں نے گورنمنٹ ہائی سکول وریجون سے اپنی ملازمت کا آغاز کیا پرائیویٹ بی اے کرنے کے بعد ادارہ تعلیم وتحقیق(IER)پشاور یونیورسٹی سے بی ایڈ کیا۔ہیڈماسٹر کے عہدے پر ترقی کرنے سے پہلے وہ روزانہ6پیریڈ لیتے تھے۔ریاضی،فیزکس بھی پڑھاتے تھے۔کیمسٹری،بیالوجی اور انگریزی بھی۔ریاضی میں ان کو خصوصی مہارت حاصل تھی۔بچپن کے دلچسپ واقعات ان کو یاد تھے مثلاًدم درُود،ٹونے تعویذ وغیرہ سے بڑے امراض کا علاج ہوجاتا تھا۔ہرگاؤں میں حکیم اور طبیب ہوتے تھے وہ جڑی بوٹیوں سے لوگوں کا علاج کرتے تھے۔ہڈی ٹوٹے اس کو جوڑنے والے بھی گاؤں ہی میں تھے۔وہ کہا کرتے تھے کہ میرے گاؤں ٹرشیر ی ہسپتال کی یہ سہولیات مفت میں دستیاب تھیں۔اس لئے لوگ آسودہ حال تھے۔زندگی کے آخری ایام میں دوجوان بیٹوں کی وفات نے ان کو غم سے نڈھال کردیا تھا خاص کر ممتاز عالم مرحوم کی جدائی کا صدمہ ان کودم لینے نہیں دیتا تھا ان کے لواحقین میں دوبیٹے،امتیاز عالم اور محبوب عالم کے علاوہ 4بیٹیاں بھی ہیں۔ان کے چچازادبھائی سردار حسین اور محمد نادر بھی سوگواروں میں شامل ہیں۔
غزالاں تم تو واقف ہو کچھ کہو مجنون کے مرنے کی
دیوانہ مرگیا آ خرکو ویرانے پہ کیا گذری
غزالاں تم تو واقف ہو کچھ کہو مجنون کے مرنے کی
دیوانہ مرگیا۔

Print Friendly, PDF & Email