46

خفیہ ہاتھ کب اشکار ہونگے؟۔۔۔۔تحریر۔شہزادہ مبشرالملک

حضرت قائداعظم علیہ رحمہ کے بعد اس ملک میں کوئی” جمہوری مزاج “کا حکمران نہیں آیا بدقسمتی سے پاکستان میںسیاسی جماعتوں کے لوگ صرف پارلیمانی نظام حکومت کو ہی” جمہوریت “کا نام دیتے ہیں۔ حالانکہ دنیا کے بہت سے ممالک میں صدارتی نظام حکومت ایک ” کامیاب “نظام حکومت تصور کیا جاتا ہے خاص کر ہمارے جیسے منقسیم اوور نیم خواندہ معاشرے کے لیے ۔ ”صدارتی نظام“ حکومت ” بادشائی طرز حکومت “ ”اسلامی خلافت“ کو بھی کچھ ترامیم کے ساتھ کا میاب طرز حکومت مانا جاتا ہے۔ حضرت قائد کو حیات کے دن نصیب ہوتے تو اس ملک میں صدارتی نظام کے ” حامی“ تھے۔ان دنوں ملک میں پھر انتشار کے دروازے وا ہوتے جارہے ہیں اور ان چنگاریوں کو ہوا دینے میں ہمارے سیاست دان ان کے چیلے اور میڈیا میں ان کے نمک خوار بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔جنرل پرویز مشرف کے خلاف میں ان کے اقتدار پر قبضہ جمانے سے قابل ” کارگل“ کے زمانے سے ٹرسیر فائر کرتا رہا ہوں۔ اب جو اسے ہمارے اداروں نے اکیلا ” قربانی کا بکرا“ بناہی دیا ہے تو ہماری ہمدردیاں پہلی بار جنرل مشرف کی طرح مڑ گئیں ہیں۔بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ایک خاض بیانے کو جو ”انٹر نیشنل طاقتوں“ کی مفاد اور دئیے ہوئے مقاصد کی تکمیل کے لیے پاکستان کے قیام کے بعد سے چلا آرہا ہے اور اس کا کامیاب نمونہ ” بنگلہ دیش “ کی تقسیم کی صورت سامنے آچکا ہے اور اب اسے کامیابی سے تعلیمی ادروں ، سیاسی پارٹیوں ، اور میڈیا وار ، کے ذریعے عوام خصوصا پاکستانی یوتھ کو فوج سے متنفر کرانے کا ” منظم منصوبہ نمبر ون“ بنا کر زور و شو آگے بڑھایا جارہا ہے۔ ۔ اور اس عالمی فریضے کو احسن طریقے سے نبھانے میں ہزاروں ” وئپ سائڈئیس“ ”بیسیوں اینٹلی جنس ائجنسیاں“ مصروف عمل ہیں جو افغانستان ، انڈیا ، اسرائیل اور بہت سے” برادر نما ممالک “کے علاوہ ” بڑے دوست نما “ ممالک میں باہی اشتراک سے مصروف عمل ہیں اور ہم ” دفائی اداروں “کے افراد کی کمی کوتائیوں کو جواز بنا کر اس ملک کی جڑیں کاٹنے والوں کے لیے راہ فراہم کرتے جارہے ہیں۔یہ سوچنے کی بات ہے کہ ” عرب اسپرئیگ “ کے نام سے ” مصر ، لیبیا، عراق، شام ، یمن، “ میں دفاعی اداروں اور عوام کو لڑا کر جو تبائی مچائی گئی وہ سب کے سامنے ہیں اور ان ممالک میں ابھی تک استحکام نہیں آیا ۔ ترکی ، ایران اور سعودی عرب نے کچھ حد تک حالات کو قابو میں رکھا ہوا ہے مگر ابھی انہیں بہت کچھ اور بھی اقدامات کرنے ہیں ۔ پاکستان کے خلاف زبردست کوشیش جاری ہیں اور ان بیرونی طاقتوں کو موقع فراہم کرنے میں ہمارے اپنے اداروں کے سمجھ نہ آنے والے اقدمات مدگار ثابت ہوتے ہیں۔جن میں سیاسی جماعتوں کی اکھاڑ پچھاڑ ، حب الوطنی و وفاداری کے مختلف معیارات، میڈیا میں بھی پسند و ناپسند کے تمغے ، چھوٹے اور مذہبی تنظیموں کا ضرورت کے وقت استعمال اور بعداز ضرورت ” ٹیشو پیپرز بنا دینا ، کرپش کے غیر تصوراتی حد تک کے الزامات اور عدلتوں اور میڈیا میں زبردست کردار کشی اور آخر میں نکلا چوہا کی خوشخبری ۔

جیسے اقدمات اور فیصلے ملکی انتشار ،بے چینی اور ملکی اداروں سے نفرت کا ذریعہ بنتے جارہے ہیں۔حالیہ دنوں میں دو آرمی چیف کے حوالے سے ایک ختم نہ ہونے والا بحث مباحثہ ”تلخی “ کی حدوں کو چوکر” بیرونی طاقتوں“ کے لیے دلی اطمینان اور ان کی مقاصد کی تکمیل کا ذریعہ بنتا جارہا ہے جو نہ سول اداروں ، عدلیہ،فوج ۔عوام بلکہ ”ریاست پاکستان“ کے لیے بھی اچھا ”شگون“ نہیں ہے۔سابق دور میں بڑے منجھے ہوے مخلص اور صاحب کردار سیاست دان اس ملک میں ہوا کرتے تھے انہوں نے جان بوجھ کر آئین میں آرمی چیف کے لیے مدت اور توسیع کا تعین نہیں کیا کہ ملکی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے پارلمنٹ ، صدر آرمی چیف سے خدمات لے سکیں اگر ایک” ناہنجار قسم“ کا آرمی چیف براجمان ہو تو سے وقت سے پہلے ” ہٹایا“ بھی جاسکے اور تین سال انتظار نہ کیا جاسکے اور ہنگامی حالات میں اسے ضرورت کے مطابق” توسیع“ بھی دیا جاسکے۔ اب ایک بڑے اور حساس ذمہ پوسٹ کو فیس بک کی بازار میں نیلام کے لیے” لٹکا“ دیا گیا ہے جو شرم کی بات ہے۔53.56.77,99 کے مارشل لا ءلگنے کے بھی بہت سارئے عوامل تھے ۔کسی جنرل نے آسمان سے کود کر یہ حرکت نہیں کی بلکہ حالات ایسے پیدا ہوئے کہ یہ اقدام اٹھانا ہی پڑے اور ان سارے اقدامات کو ”نظریہ ضرورت “کا مہر لگا کر” عدالتی تحفظ“ دیا گیا۔اور ” جمہوری چوزے“ بھی ان ” جنریلی انڈوں“ سے برآمد ہوئے جنرل ایوب کے انڈوں سے جناب بھٹو برآمد ہوئے ، جنرل ضیاءکے انڈوں سے ووٹ کو عزت دینے کو نواز شریف نکلے اور جنرل مشرف کے بکھرے انڈوں سے بہت سے جمہوری چوزے نکل آئے جو اگرچہ کمزور صیع لیکن ”بے وقت ”چہک“ رہے ہیں خود ضرورت کے وقت” بھٹو صاحب “نے بھی کئی شہروں میں مارشل لا لگا کر سول مارشل لا ایڈمنسٹیٹر رہے۔ دینا بھر میں بوقت ضرورت ” ایمرجنسی “ لگائے اور ہٹائے جاتے ہیں ۔ اگر ملکی حالات خوش اسلوبی سے چل رہے ہوں اور کوئی ” جنرل دل پشوری “کے لیے مارشل لا لگا دئے تو یقینا بہت بڑا” جرم “ہے۔اب ایک حاضر سروس جنرل سرکاری دورئے سے واپس آتے ہوں اور ہوا م میںاس کی ” جہاز“ کو اپنے ہی ملک میں اترنے کی اجازت نہ ہو اور” بے عزتی“ سے دشمن ملک میں اترنے کے ااحکامات دیے جائیں اورملک کے تمام ” ایر پورٹ“ بند کر دیے جائیں اور” انجینر کور“ کے ایک جنرل کو اٹھا کر دنیا کے بہترین فوج کے لیے ”چیف“ بنا دیا جائے تو ایسے حالات میں کیا ایمر جنسی نہیں” لڈو “ بھانڈنے چائیں۔اس اقدام پر اس وقت کے کورٹ نے جناب نواز شریف کو بھی” سزا موت “دی تھی اس پر بھی عمل ہونا چاہئے تھا،پھر وہ” عربی سرکار“ کی مداخلت پر ڈیل کر کے یہاں سے” نو دو گیار ا “ ہوگئے تھے۔اگر سزا دینا ہی بنتا ہے تو تمام مارشل لاءلگانے والوں کے ساتھ ساتھ اس وقت ججز ، دیگر سہولت کاروں اور بھٹو مرحوم کو بھی سزا دینا چائیے ۔ مشرف والے فیصلے کو تمام بڑے وکلاء ریٹائرد جج صاحبان ٹی وی شوز میں بیٹھ کر ©” جنرل دوستم اور مولوی فضل اللہ “ کا فیصلہ قرار دے رہے ہیں۔ ملکی اور بیرونی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو کئی سوالات ذہن کے گوشے میں ابھرنے لگتے ہیں۔
کیا بیرونی طاقتیں جو زمانے سے چاہ رہیں تھیں کہ فوج اور دیگر اداروں کو آپس میں لڑایا جائے تاکہ عوام اور فوج کے درمیان عقیدت واحترام کو جذبہ ختم ہوسکے۔ کیا ان حالات میں نواز ااینڈ کمپنی کے تمام مفرورں کو چھوڑ کر صرف قربانی کے لیے آرمی کے بندے کو پیش کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا؟ ان حالات سے قبل نواز ، شہباز کو باہر نکالنا اور ان کے ساتھ مریم بی بی کے سیلے ہوئے لب کوئی اشارہ نہیں دے رہے؟ زرداری اور ان کے” ہم نواوں“ کا جیلوں سے باہر آنا اور بلاول خان کے باغیانہ بیانات کوئی معنی نہیں دے رہے؟فیصلے سے بہت ہی قبل ایک جج کا جو مجھے بہت پسند تھے ” مکا“ لہرا کر مشرف کو ”کالاپانی“ کا اشارہ دینا قبل از وقت اشارئے نہ تھے؟ مشرف کے ساتھ شامل ججز کو تمام مراعات دینا اور کابینہ کے افراد اور اسٹاف جنرلز کو چھوڑ دینے’ میں’ عقل و خرد “والوں کے لیے بہت کچھ موجود نہیں؟کیا ”آئین مقدس “ کے دیگر دفعات کے حوالے سے بھی اتنی ہی سرگرمی کسی پارلیمنٹ، عدالت اور پارٹیوں نے دیکھائی ہے۔ مثلا آئین میں ملک کا ”نظام اسلامی“ ہونے کا ذکر موجود ہے کیا اس ملک میں اسلامی نظام نافذ کرنے کے بھی ایسے ہی ”دلیرانا فیصلے“ ہونگے؟ کیا ”سود“ کے خلاف بھی عدالت کے احکامات صادر ہونگے؟ کیا غریب کو دو وقت کی ”روٹی“ کا بنیادی حق میسر آئے گا؟ کیا بے روز گاروں کے” روزگار“ کے حقوق کے فیصلے ہونگے؟ کیا ”تعلیم“ کے لیے آرڈر پاس ہونگے؟کیا کرپشن کا ”جن“ ڈی چوک میں ” مصلوب ہوگا“؟ کیا ” اردو “زبان کو زبان ملے گی؟ کیا امیر غریب کے لیے ایک جیسے ” مواقع“ میسر آنے کے احکامات صادر ہونگے؟کیا تعلیمی ادارے ، سرکاری دفاتر اور عدلت” یونین گردی“ سے آزاد ہوں گے؟
اگر یہ سب دفعات ” آئین کے بوتل “ میں” قید“ ہی رہے اور ایک ہی ” ارٹیکل 6 “ کا جن وہ بھی 2010 ء میں باہر نکلواکر صرف عصبیت، تعصب اور انتقام الود کرکے باقی ساروں کو چھوڑ کر صرف ” جنرل مشرف“ کھا جائے وہ مجھ جاہل سمیت مہذب دنیا کو کبھی بھی قابل قبول نہیں ہوگا۔ ایک آرمی چیف جو ملک اور اپنے ادارے کے لیے ” شہد کی مکھیوں “ کی ملکہ کی حیثت رکھتا ہے وہ کمزور ، نالائق ، ناہجار اور” آئین شکن“ تو ہوسکتا ہے ’ ’ غدار وطن“ کبھی نہیں ہوسکتا ۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ حکومت ، عدلیہ اور فوج کے بڑے آپس میں بیٹھ کر مستقبل کا لائحہ عمل ترتیب دیں اور ایسے عناصر کو اداروں میں ” سینگھ“ گھسانے کا موقع نہ دیں جو اداروں کو آپس میں لڑا کر اپنا او ر غیروں کا ” مفاد “ نکال رہے ہوں اگر ان حالات میں بھی ہمارے ” مقتدر ادارے “ ہوش کے ناخن نہ لیے تو بہت دیر ہوچکا ہوگا اور خفیہ ہاتھ والے بہت ” ہاتھ “ کر چکے ہوں گے۔
٭٭٭٭٭٭٭

Print Friendly, PDF & Email