53

اسلام میں بچوں کی صحت وتربیت اور غذائی حقوق۔۔۔۔۔تحریر: امیرجان حقانی

متوازن غذا کسی بھی انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔کسی بھی صحت مند معاشرے کے لیے متوازن غذا سب سے زیادہ ضروری ہے۔ آج کے جدید معاشرے میں ہزاروں بیماریاں اور مسائل متوازن غذاوں کی عدم موجودگی اور غیر معاری غذاوں کی بھرمار کی وجہ سے پیدا ہوچکی ہیں۔گلگت بلتستان میں بھی غیرمعیاری اور مضرصحت غذاوں کی بھرمار ہے۔متوازن غذا کے حوالے سے سکیلنگ آپ نیوٹریشن (SUN) پوری دنیا کے پچاس سے زائد ممالک میں کام کرتا ہے۔اسی طرح SUNپاکستان میں بھی کام کرتا ہے۔ گلگت بلتستاں میں بھی SUNکا ذیلی یونٹ محکمہ پلاننگ اینڈ ڈیویلیپمنٹ گلگت بلتستان کے ماتحت Scaling up Nutrition Moment Unit GB کے نام سے کام کرتا ہے۔ڈاکٹر نادر شاہ صاحب SUN جی بی کے کرتا دھرتا ہیں۔ڈاکٹر صاحب کی نگرانی اور برادرم طارق ندیم کی معاونت سے SUN پورے گلگت بلتستان میں سیمینارز کا انعقاد کررہا ہے جس میں اہل علم و فن اور ECD کے ماہرین اپنے مقالات اور پریذینٹیشنز پیش کرتے ہیں۔یہ سیمنارز پبلک سیکٹر اور سماجی سطح پر گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں منعقد کیے جارہے ہیں۔24دسمبر 2018کو SUN کی طرف سے ضلع دیامر چلاس میں ایڈوکیسی پر مشتمل ایک بہترین سیمنار منعقد کی گئی جس میں مجھے بطور key Note Speaker مدعو کیا۔اس سیمنار میں ”اسلام میں بچوں کی صحت و تربیت اور غذائی حقوق“پر مقالہ پیش کرنے کا موقع ملا۔بہت مفصل گفتگو ہوئی۔ سامعین کی طرف سے سوالات کا انبار لگایا گیا۔الحمد اللہ خوش اسلوبی کیساتھ تمام سوالات کے جوابات دیے گئے۔تمام اہل علم شرکاءمحفل نے احقر کی گفتگو کو سراہا ہے اور بہت ہی دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔مفصل گفتگو کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔ ملاحظہ کیجیے۔
بنی نوع انسان کی نسل نو
بچے بنی نوع انسان کی نسلِ نو ہیں۔ دنیا کے ہر معاشرے میں بچوں کا معاشرتی اور اخلاقی مقام ہے۔ بہت سے ایسے امور ہیں جن میں بچوں کو بھی تحفظ درکار ہوتا ہے۔ بچے نابالغ ہوتے ہیں اس لیے بہت ساری ذمہ داریاں والدین پر عائد ہوتی ہیں۔یہی بچے قوم کا معمار اور مستقبل بھی ہیں۔بچوں کی اچھی تربیت ہی کی بدولت اچھا معاشرہ وجود میں آسکتا ہے۔یہ طے ہے کہ ایک صحت مند اور مضبوط درخت ہی مستقبل میں ایک تناور اور خوش ذائقہ پھلوں اور پھولوں والا درخت بن سکتا ہے۔
عصرحاضر اور بچے
عصر حاضر میں بچوں کے حقوق اور ان کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے دنیا کے مختلف حصوں میں کام ہورہا ہے۔مختلف این جی اوز اور ادارے مختلف مدوں میں کام کررہے ہیں ہیں۔بہت سارے ممالک میں بچوں کے حقوق پر قانون سازی بھی کی جاچکی ہے ۔ہماری گلگت اسمبلی میں بھی بچوں کے حوالے سے قانون سازی ہوچکی ہے۔
دورِ جدید میں بچوں کے حقوق کا تحفط کرنے والی نمایاں دستاویز United Nations Convention on the Rights of the Child-1980 ہے۔ جس میں بچوں کے بنیادی انسانی حقوق کا ذکر کیا گیا ہے۔
اسلام میں بچوں کو عطا کردہ حقوق
اسلام نے بچوں کو بھی وہی مقام دیا ہے جو بنی نوع انسان کے دیگر طبقات کو حاصل ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بچوں کے ساتھ جو شفقت اور محبت پر مبنی سلوک اختیار فرمایا وہ معاشرے میں بچوں کے مقام و مرتبہ کا عکاس بھی ہے اور ہمارے لیے راہِ عمل بھی۔ اسلام میں بچوں کے حقوق کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے ہوتا ہے کہ اسلام نے بچوں کے حقوق کا آغاز ان کی پیدائش سے بھی پہلے کیا ہے۔ بچوں کے حقوق کا اتنا جامع احاطہ کہ ان کی پیدائش سے بھی پہلے ان کے حقوق کی ضمانت فراہم کی گئی ہے دنیا کے کسی نظامِ قانون میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔اسلام نے جو حقوق بچوں کو بلاتفریق(لڑکاولڑکی)عطا کیے ہیں ان کی ایک جھلک یہ ہے۔
1۔ قبل از پیدائش حقوق
۱۔زندگی کا حق،۲۔وراثت کا حق،۳۔ وصیت کا حق،۴۔ وقف کا حق، ۵۔تاخیرِ اِقامتِ حد کا حق،۶۔نفقہ کا حق،۷۔فطرانہ کا حق
2۔ بعد از پیدائش بچوں کے حقوق
۱۔زندگی کا حق،۲۔آدابِ اِسلامی سے شناسائی کا حق،۳۔حسنِ نام کا حق،۴۔نسب کا حق، ۵۔رضاعت کا حق، ۶۔پرورش کا حق،۷۔تربیت کا حق،۸۔شفقت و رحمت کا حق،۹۔عدل کا حق،۰۱۔یتیم کا حق،۱۱۔حقوقِ لقیط
بچے کے خوراک کا حق اور ضرورت
اسلام نے بچے کی ابتدائی دنوں سے اس کے خوراک کا بھی حکم دیا ہے۔پیدائش کے بعد بچے کو اپنی حفاظت اور افزائش کرنا اور خوراک کا اہتمام کرنا ، اور صفائی و ستھرائی کرنا اور اپنی دیگر ضروریات کا بندوبست کرناناممکن ہی ہے۔اللہ تعالی نے ماں کے اندر بچے کی قدرتی محبت و شفقت کا جذبہ موجزن کیا ہے۔اسی جذبہ کی وجہ سے ہی ماں بچے کو دودھ پلانے پر تیار ہوجاتی ہے اور اسلام نے عورت پر واجب قرار دیا ہے کہ وہ دو سال تک بچے کو دودھ پلائے۔
والوالدات یرضعن اولادھن حولین کاملین(البقرہ 233)
مائیں اپنے بچوں کو دودھ پلائیں پورے دو سال تک،یاد رہے کہ ماں کا دودھ بچے کی عمر اور جسمانی طاقت اور معدے کی ہضم کرنے کی صلاحیت کے مطابق بنتا ہے۔
جدید میڈیکل اور ماں کا دودھ
جدیدمیڈیکل ریسرچ سے بھی یہ بات ثابت ہے کہ یہ دوسالہ مدت ہر طرح سے بچہ کی صحت کے لیے ضروری ہے۔جدید طبی تحقیقات یہ بھی کہتی ہیں کہ بچہ کے جسمانی و نفسیاتی تقاضوں کے پیشِ نظر دو سال کی مدتِ رضاعت ضروری ہے۔اسلام کی آفاقی تعلیمات کا معجزہ یہ بھی ہے ک آج کے جدید دور کی آپ ٹوڈیٹ تحقیقات بھی ان احکام کی تائید و تصویب کرتی ہیں۔اسلام نے ہزاروں سال پہلے جن تعلیمات کا حکم دیا تھاان کی تائید وتصدیق آج کی سائنس کررہی ہے اور درست نتیجے پر پہنچ بھی رہی ہیں۔
بلا وجہ کوئی اور دودھ پلانا
بلاوجہ بکری ، بھینس ،گائے اور مصنوعی قسم کے دودھ اور غذائیں کھلانا کسی طرح مناسب نہیں۔ بچے کے لیے ماہ کا دودھ سے بہترین غذا ممکن نہیں۔ماں کے دودھ میں اللہ تعالی نے بچے کی ساخت اور طاقت و عمر کے اعتبار سے حیاتینی عناصر اور وٹامنز رکھے ہیں جن کا وجود دیگر کسی دودھ یا غذا میں سوچا بھی نہیں جاسکتا۔
لڑکوں کو لڑکیوں پر فوقیت دینا
ہمارا معاشرہ بنیادی طور پر مردوں کا معاشرہ کہلایا جاتا ہے۔ آج کے جدید دو رمیں بھی بچوں کے حقوق اور ان کی تعلیم و تربیت کی بات کی جاتی ہے تو فورا لڑکا ہی ذہن میں آتا ہے۔ ہم میں سے ہر ایک اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر کہیے کہ ہم اپنے قول اور فعل سے لڑکا اور لڑکی میں تفریق نہیں کرتے کیا۔۔؟ اللہ تعالی نے بچوں کے لیے ”ولد“ کا لفظ استعمال کیا ۔لسان العرب میں ولد کے معنی "والولد اسم یجمع الذکر والانثی”(لسان العرب ج 2 ص 4353) یعنی ولد کا لفظ بیٹا اور بیٹی دونوں کے لیے مستعمل ہے۔اسلام نے کبھی یہ تفریق نہیں کی۔حدیث کی مشہور کتاب ابوداود میں حدیث ہے۔اللہ کے رسول نے ارشاد فرمایا ہے کہ ” اعدلوا بین ابنائکم، اعدلوا بین ابنائکم، اعدلوا بین ابنائکم”(جلد 2،حدیث نمبر 3716) یعنی اپنی اولاد کے درمیان برابری کرو ، اپنی اولاد کے درمیان برابری کرو اپنی اولاد کے درمیان برابری کرو۔تین دفعہ کہنا کا مطلب سخت قسم کی تاکید ہے، لہذا لڑکا اور لڑکی کے درمیان کسی قسم کا فرق اور امتیاز نہیں کرنا چاہیے۔ بلکہ آج کے دور میں لڑکی کا زیادہ خیال کرنا چاہیے۔لڑکی زیادہ تعلیم و تربیت اور بہترین غذاں کی متقاضی ہے۔ ایک صحت مند ماہ ہی صحت مند اور ذہین و فطین اور طاقتور اولاد کا سبب بن سکتی ہے۔آج کی سائنس بھی یہی کہتی ہے کہ ماں صحت مند اور تندرست ہوگی اور اس کو بہترین غذا ملے گی بالخصوص حمل اور رضاعت کے دوران تو بچہ ہر اعتبار سے مکمل ہوگا۔
اولاد کابوسہ لینے اور محبت کرنے میں بھی اعتدال کا حکم
اسلام کی آفاقیت کا کیا کہنا کہ اپنی اولاد یعنی لڑکا لڑکی کا بوسہ لینے اور ظاہری محبت کرنے میں بھی اعتدال کا حکم دیا ہے۔آپ ﷺ نے اولاد کے درمیان بوسہ لینے تک میں عدل اور برابری کا ارشاد فرمایا ہے ۔ ابن نجار نے قانون شریعت میں یہ حدیث نقل کی ہے ،جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ”اپنی اولاد کو برابری دو، اگر میں کسی کو فضلیت دیتا تو لڑکیوں کو دیتا”۔
لڑکیوں کی پرورش و تربیت پر حدیث مبارکہ
یہ بھی ایک افواہ اور غلط بیانی ہی ہے کہ اسلام تو بچیوں کی تعلیم کا حکم نہیں دیتا اور نہ ہی ان کی تربیت و پرورش کوئی زیادہ ضروری ہے۔مگر سچ یہ ہے کہ سب سے زیادہ ضروری اور اہم بچیوں کی پرورش اور تربیت ہے۔آپ ﷺ کے واضح احکامات موجود ہیں۔بچیوں کی تربیت اور پرورش پر بڑے فضائل ہیں اور آپ ﷺ نے ڈائریکٹ جنت کی بشارت دی ہے۔
”جس نے دو بچیوں کو پالا پوسا، میں اور وہ جنت میں ان دو انگلیوں کی طرح ہونگے،شہادت اور ساتھ والی انگلی سے اشارہ کیا”۔(ترمذی ،باب ما جا فی النفق علی البنات،حدیث نمبر1981) اسطرح کی اور بھی احادیث ہیں۔حدیث میں پرورش پر اجرعظیم کی بشارت ہے۔
بیٹیاں محبت اور بیٹے وراثت بانٹتے ہیں
میں نے ایک عالم دین کی ممبر رسول پر کی گئی تقریرسنی، انہوں نے بیٹیوں کے حوالے سے اپنا ایک قصہ سنایا۔فرماتے ہیں کہ: ”میری تین بیٹیاں اور ایک بیٹا کوئی کھیل کھیل رہے تھے۔ ڈبہ کے اندر چار پرچیوں پر نام لکھ کر ڈالے جاتے ۔ ایک پرچی پر بادشاہ ، ایک پر وزیر ، ایک پر قاضی اور ایک پر چور لکھا ہوا ہوتا۔ میرا بڑا بیٹا اپنی بہنوں کیساتھ بار بار دھوکہ کررہا تھا۔ بادشاہ والی پرچی کو تھوڑا پھاڑ دیتا اور وہی پرچی بار بار نکال کر خود بادشاہ بنتا۔اب جو بچی چور ہوتی اس سے اپنے کام کروایا۔ کیوں کہ بادشاہ کو اختیار تھا کہ وہ چور سے اپنے جو چاہیے کام کروادیں۔ کبھی اپنے جوتے پالش کرواتا تو کھبی کیا۔ میں بیٹھے یہ سب دیکھ رہا تھا۔ میں بھی ان میں شامل ہوا۔ اب بادشاہ والی پرچی پر ہلکا سا نشان لگایا اور خود بادشاہ بن کر اپنے بیٹے سے کئی کام کروائے۔ پھر یہی تکنیک بیٹی کو سکھائی ، وہ بھی بادشاہ بننے لگی۔پھر ایک دفعہ میرے نام چور کی پرچی نکلی۔ اب سب نے دکھانا تو تھا کہ کس کے نام کیا پرچی نکلی ہے۔ جب میں نے اپنی پرچی دکھائی تو بیٹے پر خوشی طاری تھی لیکن میری چھوٹی بیٹی مجھ سے لپٹ کر رونے لگے کہ ” میرا بابا چور نہیں ہوسکتا، میرا بابا چور نہیں ہوسکتا”۔لاریب بیٹیاں محبت بانٹتیں ہیں اور بیٹے وراثت ۔کیا یہ سچ نہیں۔۔؟
قلت خوراک کی وجہ سے بچوں کو قتل کرنا۔گناہ کبیرہ
لوگ اولاد کی پرورش سے ڈرتے ہیں بلکہ حوصلہ کرکے ان کے لیے بہتر خوراک اور بہتر تعلیم وتربیت کا بندوبست کرنا چاہیے۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔ولا تقتلوا ولادکم خشیة اِملاق، نحن نرزقہم واِیاکم ن قتلہم کان خِطئا کبِیرا۔
”اورتم اپنی اولادکومفلسی کے ڈرسے قتل مت کرو،ہم ہی انہیں(بھی) روزی دیتے ہیں اورتمہیں بھی،بےشک ان کوقتل کرنابہت بڑاگناہ ہے”
تربیت وپرورش اولاد کا قرآنی حکم
اولاد کی بہترین تربیت و پروش کا اللہ نے الگ اور واضح حکم ارشاد کیا ہے۔
قوا انفسکم واھلیکم نارا (التحریم 6)
حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اس کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ
”علموہم و ادبوہم” یعنی اپنی اولاد کو علم سکھا اور ادب بھی۔بخاری شریف کی حدیث ہے ۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
”ما نحل والد افضل من ادب حسن“ (بخاری جلد 1) کوئی باپ اپنی اولاد کو اس سے بہتر گفٹ نہیں کرسکتا کہ اس کو اچھے اداب سکھا دے۔یعنی بہترین تعلیم و تربیت کا اہتمام کریں۔انہیں ایات و احایث اور اقوال کی روشنی میں فقہا نے والدین پر اولاد کی خوراک، پرورش، تعلیم و تربیت فرض قرار دیا ہے۔
خلاصہ ِکلام
اِسلام نے بچوں کو بھی زندگی کا حق قبل از پیدائش و بعدازپیدائش، تعلیم و تربیت اور دیگر تمام اہم حقوق کی ضمانت دی ہے۔جب بچوں کے حقوق محفوظ ہونگے تو ایک مثالی تہذیب اور ایک کامیاب معاشرہ وجود میں آئے گا۔اسلام نے بچوں کے حقوق کی ضمانت قبل از پیدائش دے کراس بات کی بنیاد رکھی کہ آئندہ کی نسلوں کی بہترین نشوو نما اور انہیں کامیاب شہری بنانے اور فعال رکن بنانے پر زور دیا ہے۔
بہر صورت بچوں اور بچیوں کی اچھی تربیت کرکے انہیں اچھا، ذمہ دار اور مثالی مسلمان بنانا ماں باپ اور سرپرستوں کی اولین ذمہ داری ہے۔ یہ ذمہ داری ان لوگوں کی بھی ہے جو بچوں کے حقوق و نگہداشت اور تعلیم و تربیت پر سرکاری اور نجی طور پر مامور ہیں۔
نیک اور صالح اولاد آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔انسان بڑھاپے میں اس ٹھنڈک کو بہترین طریقے سے محسوس کرسکتا ہے۔ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی اولاد فرمانبردار اور صالح ہو۔ مگر تربیت و پرورش میں نقص ہوگا۔ اس کی صحت کا خیال نہ رکھا جائے گا تو کل اس سے صالح اور نیک ہونے اور معاشرے کے لیے مفید شہری ہونے کی خواہش بھی نہیں کرنی چاہیے۔امام بخاری اور امام مسلم نے یہ حدیث اپنی کتب میں نقل کی ہیں۔ مکرر آپ کو سناکر اجازت چاہونگا۔”اتقوااللہ و اعدلو بین اولادکم” اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔تمت بالخیر، اللہ ہمارا حامی وناصر ہو۔

Print Friendly, PDF & Email