63

آغا خان یونیورسٹی – ایگزامینیشن بورڈ، بلوچستان میں طلبا کی کارکردگی کی جانچ کے نظام کو تقویت دینے میں کوشاں

آغا خان یونیورسٹی – ایگزامینیشن بورڈ(اے کے یو-ای بی)کے تحت ‘کیپیسیٹی ڈیویلپمنٹ آف اسٹوڈنٹ اسیسمنٹ 2019-2020 ‘ (طلباکی کارکردگی کی جانچ کے لیے صلاحیت سازی کے پروگرام)کے کوہورٹ I فیز II کی اختتامی تقریب کوئٹہ میں منعقد کی گئی۔ یہ پروگرام حکومت بلوچستان، یونیسیف(یونائیٹد نیشنز انٹرنیشنل چلڈرنز ایمرجنسی فنڈ) اور یورپی یونین کے اشتراک سے سرانجام دیا گیا۔ اس پروگرام میں شرکت کرنے والے افراد کو اے کے یو۔ای بی کی ایک طویل اور مشکل تربیت کی تکمیل پر سراہا گیا۔ اسٹوڈنٹس اسیسمنٹ پروگرام مکمل کرنے والے 30 افراد کے علاوہ 10 افراد نے اسٹوڈنٹ اسیسمنٹ تربیت کار کی حیثیت سے تربیت مکمل کی جبکہ 10 طلبا کو تعلیمی تحقیق کے حوالے سے مزید تربیت دی گئی۔ اے کے یو-ای بی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شہزاد جیوا نے افتتاحی کلمات ادا کرتے ہوئے کہا، ”کارکردگی کی جانچ تعلیم کا ایک اہم جزو ہے۔ ہم اپنی مہارت اور تحقیق کو بروئے کار لاتے ہوئے تعلیم کے معیارات اور نتائج میں بہتری کے لیے کوشاں ہیں۔ اس مقصد کے لیے ہم صوبائی اور وفاقی سطح پر جانچ اور امتحانات کے تمام شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔ ہم حکومت بلوچستان اور یونیسیف کے ساتھ براہ راست رابطے میں رہتے ہوئے اس کام کو جاری رکھنا چاہتے ہیں اور آپ کے مقاصد کے حصول میں آپ کی معاونت کرنا چاہتے ہیں تاکہ تعلیمی اصلاحات کے شعبے میں آپ کی سرمایہ کاری کے نتیجے میں تعلیمی نظام پر مثبت اور دیرپا اثرات مرتب ہوں، بالکل ویسے ہیں جیسا آپ چاہتے ہیں۔”
12 ماہ پر محیط اور کورس کے دوران، اے کے یو- ای بی نے مختلف اداروں کی صلاحیت سازی کے لیے ایک جامع طریق کار اور تیکنیکی معاونت فراہم کی۔ یہ ادارے بلوچستان کے تعلیمی شعبے میں طلبا کی کارکردگی کی جانچ کے لیے کام کر رہے ہیں جن میں بلوچستان اسیسمنٹ اینڈ ایگزامینیشن کمیشن؛ دی بیورو آف کریکیولم؛ پالیسی، پلاننگ اینڈ امپلیمینٹیشن یونٹ؛ دی ڈائریکٹوریٹ آف اسکولز اور پروفیشنل انسٹیٹیوٹ آف ٹیچر ایجوکیشن شامل ہیں۔
اے کے یو-ای بی کے پراجیکٹ ڈائریکٹر اور اسیسمنٹ اینڈ ریسرچ کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر نوید یوسف نے اس موقعے پر بات کرتے ہوئے کہا، ”جون 2020 تک، حکومت بلوچستان اس قابل ہو جائے گی کہ تقریباً 100 اسٹوڈنٹس اسیسمنٹ ایکسپرٹس، 20 ماسٹر ٹرینرز اور 20 تعلیمی تحقیق کاروں کی مہارت سے بھرپور انداز میں استفادہ کر سکے۔ ان میں سے بیشتر افراد پہلے ہی جانچ کے طریقہ کار میں بہتری اور منصوبہ جات پر مثبت اثر ڈالنے کے سلسلے کا آغاز کر چکے ہیں۔ مجھے یہ بتاتے ہوئے مسرت محسوس ہو رہی ہے کہ اسٹوڈنٹ اسیسمنٹ کے لیے تشکیل دیئے گئے صلاحیت سازی کے پروگرام کے ابتدائی اثرات ہماری توقعات سے کہیں پہلے نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔”
بلوچستان میں ڈایئریکوریٹ آف سکولز کے ڈایئریکٹر وحید شاکر صاحب نے اس موقعے پرحاضرین سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے فرمایا، ”اس تربیت سے فائدہ اٹھانے والے افراد پر منحصر ہے کہ یہ صوبہ اور اس کے دیرینہ تعلیمی نظام کس حد تک فیضیاب ہوتے ہیں۔ اس پراجیکٹ کے ذریعے بلوچستان ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو اسٹوڈنٹ اسیسمنٹ ایکسپرٹس، ٹرینرز اور تعلیمی میدان کے تحقیق کاروں کا ایک گروپ میسر آیا ہے جو اس صوبے کے تعلیمی نظام کے لیے تبدیلی کے محرک ثابت ہوں گے۔ ہمارا حتمی ہدف تعلیم ہے اور آپ نے ایسی تربیت حاصل کی ہے جس کی مدد سے ہم اپنا ہدف حاصل کر سکتے ہیں۔ میں اے کے یو-ای بی کی ٹیم کا مشکور ہوں جنہوں نے تربیتی امیدواروں کو اپنے علم اور مہارت کی منتقلی کے دوران مکمل خلوص نیت اور تندہی کا مظاہرہ کیا ہے۔”
تربیتی پروگرام میں شرکت کرنے والے افراد کو ایک سال کی تربیت مکمل کرنے اور تربیت میں شرکت کرنے پر سرٹفیکیٹس تقسیم کیے گئے۔ تعلیمی تحقیق پر کام کرنے والے افراد نے اپنی وہ تعلیمی تحقیقات پیش کیں جو اس تعلیمی تحقیقی پروگرام کے دوران سر انجام دی گئیں۔
یونیسیف بلوچستان کی چیف آف فلڈ آفس مس ریم ترازئی نے اس پروگرام کی کامیابی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا، ”جب ہم نے اے کے یو-ای بی کے ساتھ طلبا کی کارکردگی کی جانچ کے لیے صلاحیت سازی کے اس پروگرام کا آغاز کیا تو ہمارے ذہن میں ایک ہدف تھا، اور وہ یہ کہ ہم بلوچستان کے شعبہ تعلیم کو اسٹوڈنٹ ایکسپرٹس، ٹرینرز اور تعلیمی تحقیق کاروں کا ایک گروپ فراہم کریں گے جو مزید اپنی تعلیم اور تربیت کی مدد سے آگے اور بنیادی سطح تک یعنی اساتذہ اور طلبا تک اس علم اور تربیت کو منتقل کریں گے۔ ہم اپنا پہلا سنگ میل عبور کرنے والے ہیں اور ہمارے تربیت کاروں نے پہلے ہی اپنے متعلقہ اداروں میں کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ ایک ایسا تعلیمی مرحلہ رہا ہے جس سے ہمیں اہم تجربہ حاصل ہوا ہے اور ہم نے یہ جانا کہ کسی نظام کو اس کی بنیاد سے تبدیل کرنے کا عمل کیسا ہو سکتا ہے۔ تبدیلی ایک سست رو عمل ہے اور اس کو قبول کرنا آسان نہیں ہوتا۔ تاہم مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ کارکردگی کی جانچ اور امتحانات کی جو تیکنیکس ہم نے اے کے یو-ای بی سے سیکھی ہیں وہ قابل عمل اور قابل قبول ہیں اور ہم نے متعلقہ اداروں میں ان کے اطلاق کا آغاز بھی کر دیا ہے۔ ہمیں اپنے روایتی طریقہ تعلیم کو جدید تعلیمی نظام کیے خطوط پر استوار کرنا ہے تاکہ ہمارے طلبا اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکیں۔ میں یورپی یونین کی دلی طور پر مشکور ہوں جنہوں نے اس پروگرام کے لیے بھرپور معاونت فراہم کی ہے اور ہمارے صوبے خصوصاً تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے ہمارے ساتھ شانہ بشانہ کام کیا ہے۔”
یونیسیف کی ایجوکیشن آفیسر سحرش ناگی نے اس موقعے پر بات کرتے ہوئے کہا، ”اے کے یو-ای بی کے ساتھ کام کرنا ہمارے لیے ایک علمی تجربہ رہا ہے اور ہم یہ جان پائے کہ طلبا کی کارکردگی کی جانچ بے حد تیکنیکی معاملہ ہے جس کے لیے غوروفکر درکار ہوتی ہے۔ مجھے اعتماد ہے کہ ہماری کاوشیں درست سمت میں جا رہی ہیں اور ہمارے پاس اب ایسے اسٹوڈنٹ اسیسمنٹ ماہرین ہیں جو بہتر اور منظم انداز میں صوبے، یہاں کے باسیوں اور ان کے بچوں کے لیے اپنی خدمات فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔”
بلوچستان اسیسمنٹ اینڈ ایگزامینیشن کمیشن کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر عبدالرزاق نے حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اختتامی کلمات میں کہا، ”اے کے یو-ای بی کی ماہرانہ راہنمائی اور اس پروگرام میں حصہ لینے والے افراد کی خلوص نیت کی وجہ سے، مجھے یقین ہے کہ صوبہ بلوچستان کا تعلیمی منظر نامہ تبدیل ہو جائے گا۔ میں شکرگزار ہوں سیکریٹری ایجوکیشن، ایڈیشنل سیکریٹری، یونیسیف اور اے کے یو-ای بی کا، جنہوں نے اپنا یہ طویل المدت ہدف پورا کیا۔”

Print Friendly, PDF & Email