135

سب تحصیل تورکھو مسائل کی دلدل میں پھسا ہوا علاقہ۔۔۔تحریر:ذاکر محمد زخمیؔ بونی۔

سابق ضلع چترال اور موجودہ ضلع اپر چترال کے آخری سب تحصیل جو واخان پٹی سے جڑے ہوئے علاقہ میں واقع ہے۔کو تورکھو کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ یہ علاقہ جو استارو نامی گاوں سے شروع ہو کر ریچ روا،کھوت شیاق لشٹ،مڑپ راغز اور وشیچ ڈوک شار تک پھیلا ہوا ہے۔ موڑکھو سے متصل ہونے کی بنا یو۔سی تریچ مکمل تورکھو میں اگر کوئی سہولت ہو تو اس سے استفادہ کندہ ہے۔ انہیں ملا کے تین یو سیز بنتے ہیں۔ صرف تورکھو کی کل آبادی۔34550 ہے اگر تریچ یو۔سی کو ملا دی جائے تو آبادی تقریباً47183 بنتے ہیں۔ تورکھو میں انتظامی دفتر نام کا صرف ایک پولیس اسٹشن ہے۔باقی نائب تحصیلدار تک کا کوئی زمہ دار وہاں دیکھنے کو نہیں ملے گا۔ یہاں تک کہ 107 کی ضمانت کے لیے ہرروز کئی لوگوں کو سفر کر کے بونی انا پڑتا ہے جو کہ نہ صرف وقت بلکہ پیسے کی بھی بیجا ضائع کا سبب بنتا ہے۔ اپر چترال ضلع ہونے کے باوجود یہ مسلہ جون کا تون ہے۔ علاقے کے لوگ امن پسند اور روایات پسند لوگ ہیں۔یہی وجہ ہے کہ علاقے میں جرائم کی شرح بہت ہی کم ہیں۔ تورکھو میں ہائی سکولز، مڈل سکولز،پرائمیری سکولز،اور ایک دوگرلز ہائی سکولزتو موجود ہیں مگرہائیر سکینڈری سکول صرف شاگرام میں موجود ہے۔ مٹر ک کے بعد اکثر طلباء و طلبات مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے دوسرے علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔مالی مشکلات اور علاقے کی روایات کی پاسداری کرتے ہوئے اکثر بچیاں زیور تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں۔ حکومت پاکستان 2020؁ء میں بھی بچے اور بچیوں کے لیے ایک کالج بنانے میں ناکام رہا ہے۔ اس کے باوجود تعلیم کے میدان میں تورکھو ہمیشہ نمایان رہا ہے۔ اسی وجہ سے ملک کے مختلف بڑے اداروں میں نمایاں اور نامور شخصیات تورکھو کی نمائیندگی کرتے ہوئے بالائی عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اور اب بھی تورکھو کے باسی بڑے بڑے عہدوں پرنہ صرف ضلع بلکہ صوبہ اور پاکستان کے اندر اپنی بہترین خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس علاقے سے سید احمد خان دوبار منتخب ہوکر صوبائی اسمبلی پہنچ کر نمایان خدمات سرانجام دی ہے۔ مولانا جہانگیر ایم۔ایم۔اے کی پلیٹ فارم سے منتخب ہو کر علاقے کی تعمیر و ترقی میں نمایان کردار ادا کر چکے ہیں۔فوج،پولیس، انتظامیہ اور دوسرے اہم شعبوں میں اعلیٰ عہدوں پر اب بھی تورکھو کے باسی خدمات میں مصروف ہیں۔
قدراتی حسن سے مالامال تورکھو کو اگر دیکھا جائے تو اس وقت مسائل کے دلدل میں پھسی ہوئی ہے۔اگر ان کا ذکر چھیڑا جائے تو ختم ہونے کا نام نہیں لیتے۔یہاں کا سب سے اہم مسلہ نقل و حمل کا ہے۔ 2009؁ء سے شروع ہونے والا 38 کلو مٹر پر محیط بونی بوزوند روڈ تیار ہونے کا نام نہیں لیتے۔اگر یہ کہا جائے کہ 20 فیصد کم بھی مکمل نہیں ہوئی ہے تو کوئی مبالعہ نہ ہوگا۔اگر بونی سے ڈرئیور تورکھو کے لیے کمربستہ ہو تو یہ 38 کلومٹر کا فاصلہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتا 2سے 3گھنٹے ہچکولے کھاتے ندی نالوں اور کھڈوں سے مقابلہ کرتے ہوئے جب ڈرئیور ہیڈ کوارٹر شاگرام پہنچ جاتا ہے تو کرایہ 250روپے لیکر بھی تسلی نہیں ہوتا۔ تسلی نہ ہونا بھی کوئی نا حق نہیں۔ دلدل میں پھس کر ندی نالوں سے گزر کر جب واپس بونی پہنچ جاتا ہے تو کمانی کے نصف جواب دیتے ہیں اور ڈرئیور کا پہلا کام ورکشاپ جانا ہوتا ہے۔ جہاں جو کچھ کما چکا ہوتا ہے اس سے کہیں زیادہ مستری کے ہاتھ تھما دیکر خالی ہاتھ واپس امیدکا دامن تھام کر عزمِ سفر ہوتا ہے۔سر دیوں میں یہ ہی روڈ مزید وحشت ناک منظر پیش کررہا ہوتا ہے۔ جب فٹ دو فٹ برف ہو اور یہ ہی روڈ ہو اور ساتھ حکومت کی طرف سے کوئی روڈ کلی بھی نہ ہو توخود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ بڑے دل گُردے والوں کے علاوہ کون اس روڈ پر قدم رکھ سکتا ہے۔ اس میں اکثر برفانی تودے گر کر مزید صورت حال خطرناک بنا دیتے ہیں۔ تو اس وقت تورکھو کے ڈرئیور حضرات ایک ایک گنتی اور بیلچہ اپنے ساتھ رکھتے ہوئے سفر پہ نکلتے ہیں۔ دستمبر سے اپریل تک روڈوں کی صفائی اور ٹریفک بحال رکھنے کا زمہ داری گویا کہ ڈرئیوروں کے سرہے۔ شاگرام سے اگے کھوت،اجنو،ریچ اور مڑپ کے مزید پُر خطر راستوں کا ذکر نہ چھیڑ جائے تو بہتر ہے۔حکومت یا متعلقہ ادارے خاموشی کو ہوشیاری سے تعبیر کر کے اسی میں عافیت سمجھتے ہیں۔
صحت کے شعبہ بھی روڈ کی صورت حال سے کچھ کم نہیں۔ پورا تورکھوتحصیل ڈھوندنے سے بھی کوئی مستندڈاکٹر47183 آبادی کے لیے میاثر نہیں۔ لے دے کے شاگرام میں ایک میٹرنٹی کئیر سنڑر موجود ہے جو اے۔کے۔ایچ۔ایس۔پی کو حوالہ کر دی گئی ہے۔اے۔کے ایچ۔ایس۔ پی اپنی وضع کردہ اصولوں کے مطابق اپنی فرائض تو نبھا رہی ہے۔لیکن اتنی بڑی آبادی صرف ایک میٹرنٹی کئیر سنٹر کی مر ہونِ منت ہونابے معنی ہے۔ ان کے متعین کردہ فیس لوگوں کی پہنچ سے باہر ہیں۔ لیبارٹی کے فیس بھی ہوشرُبا ہیں۔ چاہیے کتنی بھی غریب کیوں نہ ہو ان کے لیے کوئی رعایت موجود نہیں اور غریب کا قوتِ برداشت جواب دیکر ایڑیاں رگڑ کر مرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ ساتھ وہاں بھی کوئی عوامی ضروریات کے مطابق سٹاف نہیں۔کسی کا بلیڈ پریشر تک مفت چیک کرنے کا امکان نہیں۔بازو پر پٹی باندھو تو فیس کی میٹر چلنا شروع جتنا دیر لگاو اتنا میٹھا ہسپتال کے لیے اور مریض کے لیے ہر گز نہیں۔
ڈیلیوری کے اکثر مریضوں کو یا تو بونی یا چترال ریفر کی جاتی ہے۔جہاں دشوار گزار راستے اپنی جگہ،ہسپتال کے بھاری فیس/ اخراجات ادا کرنا بھی کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ وہ باامرِ مجبوری یا کسی سے قرض لیکر جان خلاصی کرتے ہیں یا بیل بکریاں فروخت کرکے چھٹکارہ پاتے ہیں۔صحت کے شعبے میں حکومت کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔کھوت اور ریچ میں برائے نام بی۔ایچ۔یوز موجودتو ہیں لیکن مستند ڈاکٹر نہ ہونے کا مسلہ ہر وقت رہتا ہے۔ غریب عوام پیرسٹامول کے لیے ترستے رہتے ہیں۔ تحریکِ انصاف کے سابقہ حکومت کمالِ مہربانی سے موڑ کھو/ تورکھو کو تحصیل کا درجہ دے دیا۔ اس سے مسائل کم ہونے کے بجائے تورکھو والوں کے مسائل میں دس گُنا اضافہ ہوا۔ نو زئیدہ تحصیل کا مرکز موڑکھو وریجون کو بنا دیا گیا۔ اب تورکھو کے باسی 250 روپے بونی میں کرایہ ادا کرتے ہوئے 2000 روپے مزید ادا کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں یا مجبور کیئے گئے۔ اور دو گھنٹے کے بجائے ایک دن لگانا پڑتا ہے۔ ساتھ تورکھو کے لوگ ایک ڈومسائل، یا شناختی کاردڈ یا کوئی وریفکیشن کے لیے پورا دن اور اس حساب سے اخراجات برداشت کرکے موڑکھو کا چکر مفت میں لگاتے ہیں۔ اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ تحصیل بنانے کی کتنی بھاری قیمت تورکھو والوں کی ادا کرنی پڑتی ہے۔ جو بے غیر منصوبہ بندی کے بہ یک جنبشِ قلم بن مانگے تورکھو والوں کو مصیبت میں مبتلا کر دیا گیا۔حالانکہ اس طرح کے بڑے فیصلے سوچ سمجھ کر اور جامع منصوبہ بندی سے ہونا چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ عوام اس سے مستفید ہو سکے۔
اگر ایس۔آر۔ایس۔پی یا اے۔کے۔آر۔ایس۔پی نہ ہوتے تو شعبہ برقیات کے صورتِ حال بھی اس سے مختلف نہ ہوتی۔ شکر
گزار ہیں ان غیر حکومتی اداروں کا کہ ان کی وجہ سے تورکھو کے اکثر علاقے بجلی کی روشنی سے منور ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email