50

آرمی چیف سے مطالبہ،آرمی ہیلی کاپٹر میں چترال کے معروف وکیل غلام حضرت انقلابی کو ریسکیو نہ کرنے کا حکم دینے والے حکام کے خلاف ایکشن لیا جائے۔ بار ایسوسی ایشن چترال کاپریس کانفرس

چترال (محکم الدین) ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن چترال کے صدر خوشید حسین مغل ایڈوکیٹ ، چیرمین ہیومن رائٹس فاونڈیشن نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ، وقاص احمد ایڈوکیٹ، سابق صدر ڈسٹرکٹ بار چترال ساجد اللہ ایڈوکیٹ، حمید احمد ایڈوکیٹ اور سراج الدین ربانی ایڈوکیٹ وغیرہ نے چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوا سے پُر زور مطالبہ کیا ہے۔ کہ آرمی ہیلی کاپٹر میں چترال کے معروف وکیل غلام حضرت انقلابی کو ریسکیو نہ کرنے کا حکم دینے والے حکام کے خلاف ایکشن لیا جائے۔ جس کی وجہ سے ایمر جنسی بیمار چترال پشاور ریسکیو نہیں کیا جا سکا۔ اور نتیجتا غلام حضرت انقلابی ایڈوکیٹ کی موت واقع ہوئی۔ اور چترال ایک قابل قانودان بیٹے سے محروم ہو گیا۔ انہوں نے کہا ۔ کہ غلام حضرت انقلابی ڈسٹرکٹ بار چترال کے تین بار صدر رہ چکے تھے۔ اور چترال میں ہائی کورٹ سرکٹ بینچ کا قیام و جو ڈیشل کمپلیکس جغور چترال کی تعمیر اُن کی کو ششوں کا نتیجہ ہے۔ اور وہ چترال کے معروف وکلاء میں سے تھے۔ گذشتہ روز شدید برفباری کے بعد اُن پر اچانک دل کا دورہ پڑا۔ اُس وقت لواری ٹنل روڈ چترال سائڈ پر برفباری کی وجہ سے بند تھا۔ لیکن عین اگلے دن آرمی ہیلی کاپٹر چترال کے ایک شہید کی لاش کو لے کر چترال آیا ۔ تو وکلاء کو یہ اُمید پیدا ہو گئی۔ کہ ہیلی کاپٹر چترال سے واپسی پر غلام حضرت انقلابی کو ضرور ریسکیو کرکے پشاور پہنچائے گا۔ اور اُس کی زندگی بچ جائے گی۔ لیکن افسوس کا مقام ہے۔ کہ کئی گھنٹوں کی رابطہ کاری کے باوجود اُس کوریسکیو کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ یوں وہ ڈی ایچ کیو ہسپتال کے ایمرجنسی یونٹ میں بیس گھنٹے مزید تڑپ تڑپ کر جان دے دی۔ اسے اگر اس خالی ہیلی کاپٹر میں چترال سے پشاور پہنچایا جاتا۔ تو اس کی جان بچ سکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس اقدام کی پُر زور مذمت کرتے ہیں۔ اور یہ انسانیت کی بد ترین تذلیل ہے ۔ انہوں نے کہا۔ کہ ایک طرف کشمیر میں برفباری سے متاثرہ افراد کو ریسکیو کیا جا رہا ہے۔ اور دوسری طرف سے برفباری کے نتیجے میں محصور ہونے والیے پانچ لاکھ کی آبادی کے واحد ایمر جنسی مریض کو بذریعہ ہیلی کاپٹر ریسکیو کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا۔ کہ چترال میں سیر سپاٹے کیلئے آئے ہوئے وزیر اعظم کی بہن حلیمہ خان کو بھی ہیلی میں ریسکیو کرتے دیکھا گیا ہے۔ لیکن چترال کے ایک معزز شہری اور قانون دان کی جان بچانے کیلئے یہ سہولت فراہم نہیں کی گئی۔ جس کی وجہ سے غلام حضرت انقلابی ایڈوکیٹ کی جان چلی گئی۔ خورشید حسین مغل نے کہا۔ کہ پاکستان کے چیف آف اسٹاف ایک رحم دل انسان ہیں۔ وہ ضرور اس امتیازی سلوک کا نو ٹس لے کر ایکشن لیں گے۔ انہوں نے این ایچ اے اور وفاقی حکومت کو بھی مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا۔ کہ چترال سائڈ پر برف صفائی کا کام ایک کمزور اور نکمے ٹھیکیدار کے سپرد ہے۔ اُن کے پاس مناسب مشینری ہی دستیاب نہیں۔ جس کا ثبوت یہ ہے۔ کہ دیر سائڈ سے برف صاف ہونے کے بعد گاڑیاں جب چترال میں داخل ہوئیں۔ تو براڈم، عشریت کا راستہ بند تھا۔ او ر مسافروں کو دو دن مزید روڈ کُھلنے کا انتظار کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا۔ اگر روڈ بروقت کُھل جاتا۔ تو سڑک کے راستے بھی غلام حضرت کو پشاور علاج کیلئے پہنچایا جا سکتا تھا۔ وکلاء نے کہا۔ کہ یہ تاریخ کا بد ترین جبر ہے۔ اور چترال کے وکلاء اور دیگر لوگوں نے شدید طور پر محسوس کیا ہے۔ جبکہ چترال کے لوگ انتہائی محب وطن اور اپنے معزز اداروں کا احترام و قدر کرنے والے لوگ ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا۔ کہ مرحوم غلام حضرت انقلابی ایڈوکیٹ کے ورثا کو معاوضہ ادا کیا جائے۔ تاکہ اُن کے معصوم بچوں اور بیوہ کی کفالت ہو سکے۔ وکلاء نے ڈپٹی کمشنر چترال کی کارکردگی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اور کہا۔ کہ ضلع کے انتظامی امور میں انتہائی طور پر کمزور آفیسر ہیں۔ جس کو عوامی مسائل کا علم ہی نہیں۔ اور نہ مسائل حل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email