36

وادی یارخو ن میں واقع ہسپتالوں میں کلاس فور کی اسامیوں پر لویر چترال کے ضلعے سے افراد کی بھرتی پی ٹی آئی حکومت کو بدنام کرنے کی ایک گھناونی سازش ہے۔زار بہار خان

چترال (نمائندہ ) اپر چترال کے وادی یارخون سے تعلق رکھنے والے پاکستان تحریک انصاف کے رہنمازار بہار خان نے کہا ہے کہ وادی یارخو ن کے بریپ، میراگرام، استاچ اور یارخون لشٹ میں واقع ہسپتالوں میں کلاس فور کی اسامیوں پر لویر چترال کے ضلعے سے افراد کی بھرتی پی ٹی آئی حکومت کو بدنام کرنے کی ایک گھناونی سازش ہے تو دوسری طرف اس علاقے کے غریب عوام کے ساتھ ایک مذاق ہے جسے کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ چترال پریس کلب میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسر چترال نے کلاس فور اسامیوں پر بھرتی میں بے قاعدگی اور کرپشن کی انتہا کردی اور ضلعے کے سب سے پسماندہ علاقہ یارخون میں واقع پوسٹوں پر ایسے افراد کو بھرتی کیا ہے جن کا تعلق لویر چترال کے دروش اور دوسرے علاقوں سے ہے اور یہ بات اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ کلاس فور کی قلیل تنخواہ پر کوئی بھی دوردراز علاقے میں صحیح معنوں میں ڈیوٹی سرانجام نہیں دے سکتا۔ انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی حکومت میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسر میں اس سنگین بے قاعدگی کا ارتکاب کرنے سے پہلے سو مرتبہ سوچنا چاہئے تھاکہ وزیر اعظم عمران خان کی وژن اور میرٹ پر سختی سے عملدرامد کرنے اور اقرباء پروری، کرپشن اور رشوت کے کلچر کا خاتمہ کرنے کے نعروں کے سراسر خلاف کام ہوا ہے جس کا پی ٹی آئی کی قیادت کو فوری طور پر نوٹس لینا چاہئے۔ زار بہار خا ن نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیاکہ محکمہ صحت کے بالائی حکام نے اس بے قاعدگی کے خلاف انکوائری کا حکم دے دیا ہے لیکن عملی طور پر کچھ ہونے والا نہیں کیونکہ کسی بھی وقت ان افراد کو تقررنامہ دیاجائے گااور وہ ڈیوٹی جوائن کرلیں گے۔ انہوں نے کہاکہ تقرریوں میں یہ بے قاعدگی سب سے سامنے عیاں اور صاف ظاہر ہے جس کی انکوائری میں ذیادہ وقت درکارنہیں ہوتی اور صوبائی حکومت کو چاہئے تھاکہ ڈی ایچ او چترال کو فوری طور معطل اور ان تقرریوں کو فوری طور پرمنسوخ کرتے ہوئے ازسرنو انٹرویو کئے جاتے۔ انہوں نے کہاکہ یارخون کے عوام کو ٹرخانے کا کوئی حربہ کامیاب نہیں ہوگا اور انہوں نے تنبیہ کرتے ہوئے کہاکہ باہر سے لائے ہوئے ان افراد کو ڈیوٹی جوائن کرنے نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ محمود خان سے اپیل کی ہے کہ ڈی ایچ اوچترال کی اس شرمناک حرکت کا فوری نوٹس لیاجائے۔

Print Friendly, PDF & Email

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں