166

چترال سے تعلق رکھنے والی حوا کی ایک اور بیٹی کو شوہر کے نام پر سفاک قاتل نے موت کی بھینٹ چڑھادیا۔

چترال /چترال سے تعلق رکھنے والی حوا کی ایک اور بیٹی کو شوہر کے نام پر سفاک قاتل نے موت کی بھینٹ چڑھادیا ۔ جس کی نعش منگل کے روز آبائی گاؤں اورغوچ پہنچاکر سپرد خاک کیا گیا ۔ تفصیلات کے مطابق اورغوچ چترال کے مفتاح الدین کی بارہ سالہ بیٹی جو کہ چھٹی جماعت کی طالب علم تھی کی شادی چھ سال پہلے سوات کے رہائشی امیرزادہ سے کر دی گئی ۔ جس سے اُس کے تین بچے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق گذشتہ روز مبینہ طور پر امیر زادہ اور اُس کی بیوی کے درمیان گھر یلو تنازعہ اُٹھ کھڑا جسے بنیاد بنا کر امیر زادہ نے اپنے والد کی مدد سے چاقووں سے وار کرکے اُسے شدید زخمی کردیا ۔ جس کے نتیجے میں اُس کی موت واقع ہوئی ۔سوات پولیس نے مقتول کے شوہر کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے ۔ واضح رہے کہ چترال سے باہر شادی شدہ خواتین کے قتل کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے ۔ اس سے پہلے بھی ضلع سے باہر شادی شدہ خواتین کی بہت بڑی تعداد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھی ہیں ۔ اور یہ قاتل ارتکاب جرم کے بعد نہایت آسانی سے بچ جاتے ہیں ۔ کیونکہ چترال کے کسی غریب شخص کیلئے ضلع سے باہر کی عدالتوں میں کیس کی پیروی کرنا ممکن نہیں ہوتا ۔ جبکہ چترال کے کئی ادارے ضلع سے باہر شادی روکنے میں اس لئے مکمل کامیاب نہیں ہو سکے ہیں کہ مقامی لوگ تعاون نہیں کرتے ۔ نتیجتا ضلع سے باہر شادی کے بعد گھریلو تنازعات کا بہا نہ بنا کر چترال کی خواتین کو قتل کردیا جاتا ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email