154

بجلی کا بحران اور پن بجلی کے منصوبے۔۔۔۔۔۔ تحریر۔ایس این پیرذادہ

آج بھی دنیا میں پانی کے زریعے سے توانائی کے حصول کو آسان اور سستا تصور کیا جاتاہے باوجود اس کے اکثر ترقی یافتہ ممالک نے ایٹمی  توانائی کی کی موجودگی میں قدرتی ماحول کو لاحق خطرات کو کم کرنے کی غرض سے رینوویبل انرجی جن میں سولر پاور اور وینڈ انرجی سرفہرست  کے استعمال کو ترجیح دیتے ہیں،

آج سے کئی عشرہ پہلے ایک غیر سرکاری ادارے نے چترال میں پسماندگی اور غربت کو ختم کرنے کے لیے جب مختلف منصوبوں پر کام کا آغاز کیا تو ان میں چھوٹے پن بجلی کے منصوبے بھی شامل تھے اس مقصد کے لیے دیہات کی حد تک کمیونٹی کے ساتھ مل کر چھوٹے چھوٹے بجلی گھر تعمیر کیے گئے،جو آج تک انتہائی کم قیمت پر کامیابی کے ساتھ عوام کو روشنی فراہم کررہے ہیں، گو کہ نا معلوم وجوہات کی بنا پر حکومت نے ان اداروں کو طویل عرصے تک 1 میگاواٹ یا اس سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی، تاہم موجودہ حکومت نے ان اداروں کے ساتھ مل کر انتہائی کم وقت میں پن بجلی کے بہت سارے منصوبے شروع کیے جس کے نتیجے میں آج اپر چترال کی 30 فیصد سے زائد آبادی کو ان پاور ہاؤسز سے کم قیمت بجلی کی ترسیل جاری ہے، البتہ ان میں سے چند ایک منصوبے کمیونٹی کے عدم تعاون اور اپنی زمےداریوں سے کوتاہی اور اداروں کے اندر کرپشن کی وجہ سے التوا کا شکار ہیں تاہم ان کو بھی فنکشنل بنانے میں کوئی خاص رکاوٹ نظر نہیں آتا،

ملک میں پن بجلی کی پیداواری صلاحیتوں کو معلوم کرنے کے لیے جب متعلقہ محکمے نے سروے کا آغاز کیا تو چترال میں 6 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا اندازہ لگایا گیا،ساتھ ہی ملک میں بجلی کی فراہمی کے شدید بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں جو چند ایک منصوبے شروع کیے گئے 108 میگاواٹ کی پیداواری صلاحیت والا گولن گول ہائیڈرو پاور پراجیکٹ بھی ان میں سے ایک تھا جس کا آغاز  سال 2011  میں بھاری سرمایہ کاری سے کیا گیا جن میں قرضوں کی شکل میں بیرونی اداروں، سعودی فنڈ فار ڈیویلپمنٹ،کویت فنڈ فار ڈیویلپمنٹ اور اوپیک فنڈ سے مالی امداد حاصل کر لی گئی،اور 7 سال کے طویل عرصے بعد پہلے ریوائس اسٹمیٹ کے مطابق 29 ارب روپے کے تخمینہ لاگت کے ساتھ  اس منصوبے کو مکمل کیا گیا،واپڈا کے مطابق اس میگا پروجیکٹ سے سالانہ 436 ملین یونٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہوگی جس کے نتیجے سالانہ 3.7 ارب روپے کا فائدہ ہوگا، حالیہ کچھ عرصے سے اس پاور پلانٹ سے بجلی کی انتہائی کم پیداوار کو لیکر عوامی حلقوں میں اس پراجیکٹ کی کامیابی کے حوالے سے مختلف قسم کے سوالات اٹھائے جارہے ہیں،تاہم اس شعبے کے ماہرین ان خدشات سے اتفاق نہیں کرتے انکے مطابق پن بجلی کے ان منصوبوں کو رن آف دے ریور پراجیکٹ کہا جاتا ہے انکی پیداواری صلاحیت کا انحصار پانی کی بہتات پر ہوتا ہے، کھبی کھبی تو شدید سردی کے نتیجے میں پانی جم جانے کی وجہ سے بجلی کی ترسیل بلکل ختم بھی ہو جاتا ہے،واپڈا کے مطابق گولن گول پاور پراجیکٹ 26 جون 2019 کو اپنی پیداواری صلاحیت کے مطابق 108 میگاواٹ بجلی پیدا کرکے سسٹم کو فراہم کرچکاہے۔ناقدین کے مطابق چترال میں تین مہینے گرمی ہوتی ہے اور پانی کی سطح میں زیادہ سے زیادہ 5 گنا اضافہ ہوتا ہے،اس سے زائد اضافے کو تغیانی یا سیلاب تصور کیا جاتا ہے جس کا خمیازہ ڈیم کی بربادی کی صورت میں مذکورہ پاور ہاؤس پچھلے سال بھگت چکا ہے،اگر بجلی گھر کی موجودہ پیداوار اور پانی کی تناسب کے اصول کو بنیاد بنا کر دیکھا جائے تو اس پراجیکٹ کی کل پیداواری صلاحیت 35 میگاواٹ ہونا چاہئے تھا نہ کہ 108 میگاواٹ، شروع دنوں میں اس پراجیکٹ کو لیکر چترال کے عوام کو جو سبز باغ دکھائے گئے وہ بھی قابل دید ہے،اول تو قریب کے دیہات کو مفت بجلی دینے کی بات ہوئی،بعد میں چترال کو اس منصوبے کی بدولت سبسڈائز ریٹ پر بجلی کی فراہمی کی نوید سنائی گئی اور آخر میں 30 میگاواٹ بجلی چترال کے لیے مختص کر نے کا وعدہ کیا گیا،اب صورت حال کچھ یوں ہے کہ یہ پراجیکٹ نصف چترال سے بھی کم ابادی کو  ریگولر بجلی فراہم کرنے سے قاصر ہے۔گلیشیر کے پانیوں پر میگا پراجیکٹس شروع کر نے سے پہلے حکومت کو پہلے گلیشیر کے موڈ سے شناسائی حاصل کرنا چاہئے ایسا نہ ہو کہ ایک ہی آؤٹ برسٹ میں آپکے آرمان اور امیدوں پر پانی پھیر جائے، ویسے بھی عالمی اداروں نے 2035 تک کوہ ہمالیہ اور ہندوکش کے پہاڑوں میں موجود گلیشئرز کے پگھل کر ختم ہونے کی خبر پہلے سے ہی دے چکے ہیں،اور گزشتہ سال برطانیہ کا شاہی جوڑا اس منظر کو اپنے آنکھوں سے دیکھنے کے لیے چترال کا دورا بھی کر چکا ہے۔توجہ طلب بات یہ ہے کہ مقامی نمائندے کی طرف سے جب اسمبلی میں بجلی کی بحران پر آواز اٹھائی گئی تو متعلقہ وزیر صاحب نے اپر چترال کو تاجکستان سے بجلی فراہم کرنے کا نیا ڈھنڈورا شروع کر دیا جو کہ اس حکومت کے سنجیدگی پر ایک سوالیہ نشان ہونے کے ساتھ تیار،جاری اور آنے والے منصوبوں پر پانی پھیرنے کے مترادف ہے۔

Print Friendly, PDF & Email