18

امام علی نقیؑ۔۔۔۔ڈاکٹر ساجد خاکوانی

امام علی نقی کاشمار امت مسلمہ کے عظیم ائمہ کرام میں ہوتاہے۔آپ کااسم پاک ”علی“تھا،کنیت ”ابولحسن“اور لقب مبارک ”نقی“تھااس کے علاوہ آپ کو ”ہادی“کے نام سے بھی یاد کیاجاتاہے۔آپ سے قبل چونکہ حضرت علی بن ابی طالب اور حضرت امام رضا کی کنیت بھی ”ابوالحسن“تھی اس لیے آپ کو ”ابولحسن ثالث“بھی کہاجاتاہے۔آپ خاص اہل بیت مطہرین میں سے تھے۔آپ کی پیدایش 5رجب 214ھ کو مدینہ منورہ جیسے مقدس شہر کے جوار میں ”ثریا“نامی گاؤں میں ہوئی۔آپ کے والد بزرگوار کانام ”محمدالتقی“تھا لیکن وہ ”محمدالجواد“کے نام سے زیادہ معروف ہیں۔حضرت امام علی نقی کی والدہ ماجدہ کا نام نامی ”سمانہ“تھا اور وہ شمال مغربی افریقہ کے بربر قبائل سے تعلق رکھتی تھیں۔آپ کی والدہ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ صائمۃ الدہر تھیں۔حضرت امام علی نقی کواپنے والد محترم کی رفاقت کازمانہ بہت کم مدت تک نصیب ہوا۔آپ چھ سال کی عمر میں تھے جب آپ کے والد بزرگوارعراق تشریف لے گئے اور پھر وہیں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔یہ عباسی خلفاء کازمانہ تھااور مدینہ منورہ سمیت کل بلاد اسلام کے مراکزو تعلیم و جامعات و مدارس میں تفسیر،حدیث،منطق اور دیگر علوم عقلیہ و علوم نقلیہ کے بازار گرم تھے۔حضرت امام علی نقی نے اپنے خانوادہ نبوت کی وراثت کے طور پر علوم دینیہ میں کسب کمال کیااور اپنی اجداد کی پیروکاری میں مسند درس و تدریس پر براجمان ہوئے۔عمرعزیزکے تیس برس پورے ہونے تک عراق،مصر،ایران اور مغرب تک سے طالبان دین کی لمبی فہرست ہے جس نے حضرت امام علی نقی سے کسب فیض کیا۔شرق و غرب میں آپ کی فہم دین و دنیاایک مثال بن کرابھر رہی تھی اور طلبہ کے ایک کثیر تعدادہمیشہ آپ کے یمین و یسارقلمبندرہتی تھی اورآپ کے ارشادات و فرمودات کو ہوا میں تحلیل ہونے کی بجائے ضبط تحریر میں لے آیاجاتاتھا۔عوام الناس میں بے پناہ پزیرائی کے باعث اہل بیت کے ابھرتے ہوئے اور خورشیدجہاں سے بغدادمیں وقت کااقتدار خوف کھانے لگا اور آنے والے عباسی بادشاہ ”ابوالفضل جعفرالمتوکل علی اللہ“(205-247ھ)نے حضرت امام علی نقی کی نگرانی سخت کر دی۔
نئے خلیفہ کو تخت نشین ہوئے ابھی بمشکل چاربرس ہی ہوئے تھے کہ مدینہ کے حاکم نے حضرت امام علی نقی کے بارے میں عوامی عقیدت ومحبت کی ایسی خبریں ارسال کیں کہ حاکم وقت کو اپنے پاؤں تلے سے زمین کھسکتی ہوئی محسوس ہوئی۔حاکم مدینہ نے اپنی اطلاعات میں بتایاتھا کہ حضرت امام علی نقی نے اپنے گرد اتنے افراد،سرمایااوراسلحہ جمع کرلیاہے کہ وہ کسی بھی وقت حکومت سے ٹکرانے کاارادہ کر سکتے ہیں۔حضرت امام علی نقی کو ان اطلاعات کی خبر ہوگئی اور انہوں نے خلیفہ متوکل کو اپنے ایک خط کے ذریعے ان اطلاعات کی تردیدی وضاحت بھی ارسال کر دی۔لیکن اہل بیت مطہرین کی تاریخ عزیمت سے خائف اس حکمران نے دہری چال چلی،حاکم مدینہ کو گستاخی کی فرد جرم لگا کربرخواست کر دیااورلگے ہاتھوں حضرت امام علی نقی کوبھی دارالحکومت میں طلب کرلیا۔اس مقصد کے لیے اس نے شاہی افواج کے ایک قابل اعتماد افسر،یحی بن ہرثمہ، کو مدینہ منورہ کی طرف ہمراہ ایک رسالے کے روانہ کیا۔اس کے ذمے لگایاکہ گورنر کی معلومات کی تفتیش کرے اور حضرت امام علی نقی کو اپنے ساتھ دارالحکومت میں لے آئے۔اس فوجی افسرنے مدینہ منورہ میں امام صاحب کے گھرکے ایک ایک کونے کی بالتفصیل تلاشی لی،اگرچہ یہ کام بھی ایک توہین آمیزامرتھا،لیکن اسے سوائے کتب تدریس کے کچھ نہ ہاتھ لگا۔اس فوجی افسر نے حضرت امام علی نقی سے عرض کی کہ خلیفہ نے آپ کو داراحکومت میں دعوت دی ہے۔امام صاحب اس دعوت کی حقیقت،جلاوطنی، سے اچھی طرح واقف تھے،اور انکار کی کوئی گنجائش نہ تھی۔بغدادمیں حضرت امام علی نقی کی آمد کی اطلاع امام سے پہلے پہنچ چکی تھی۔عوام کاایک جم غفیرتھاجوآپ کے دیدارکے لیے شہر سے باہر تک ایک ہجوم کی شکل میں موجود تھا۔والی بغدادخود بھی بنفس نفیس آپ کے استقبال کے لیے شہر سے باہر آیا،شاہی حکم نامے کے مطابق آپ کا قیام سامرہ نامی فوجی اڈے میں تھا،والی بغداد نے احتراماََایک رات بھی آپ کے ساتھ بسر کی۔بادشاہ وقت کی یہ بدبختی تھی کہ خانوادہ اہل بیت کا ایک چشم و چراغ خود اس کی دعوت پر بغدادکے جوار میں موجود ہے لیکن بادشاہ کو ملاقات تک کی توفیق نہ ہوئی۔
یہاں پر حضرت امام علی نقی کوعتاب شاہی کاسامنارہا۔بادشاہ کے حکم پر انہیں سامرہ نامی فوجی چھاؤنی کے ایک مکان میں نظر بندکردیاگیا۔لیکن بعض مورخین کے نزدیک ابتدامیں وہ شہر جاتے تھے،اپنے عقیدت مندوں سے ملتے تھے اور ان سے خمس بھی وصول کرتے تھے۔بادشاہ وقت ان کو اپنے دربار میں بلاتا تھا اور وقت کے بڑے بڑے علماء کو بھاری رقومات دے کر کہتاتھا کہ امام صاحب سے ایسے سوالات کرو کہ وہ لاجواب ہوجائیں۔تاریخ نے بڑے بڑے مناظرے روایت کیے ہیں لیکن کوئی بڑاسے بڑا بھی درباری عالم حضرت امام علی نقی کو لاجواب نہیں کرسکا۔امام صاحب سے تاریخ،فقہ اورفلسفہ تک کے بارے میں بڑے دقیق سے دقیق تر سوالات کیے گئے لیکن امام صاحب نے چٹکیوں ہی چٹکیوں میں ان علماء کو لاجواب کر کے بادشاہ کو مایوس کیا۔خلیفہ متوکل بعض اوقات مجبور ہوجاتا تھاکہ اسے حضرت امام علی نقی کے فتوی پر فیصلہ دینا پڑتاتھاکیونکہ اس کے علاوہ کوئی چارہ کار نہ تھا۔بعض مورخین نے لکھاہے کہ بادشاہ نے حضرت امام علی نقی کوقتل کرانے کی بھی سازشیں کیں لیکن بوجوہ کامیاب نہ ہوسکا۔بادشاہ امام صاحب سے حد درجہ نفرت کرتاتھااور ان کی توہین کاکوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتاتھا،تاہم فتح بن خاقان جو بادشاہ کاقابل اعتماد وزیر تھا اس نے امام صاحب کی عوام میں مقبولیت کے باعث بادشاہ کو کسی براہ راست انتقامی اقدام سے روکے رکھا۔اس کے باوجود بادشاہ کاگھوڑے پر سوار ہوکر جانا اور امام صاحب کو باسرارننگے پاؤں پاپیادہ چلانا،شراب کی محفلوں میں امام صاحب کو دعوت دینا،امام صاحب کے سامنے لوگوں کی زبانی اکابرین اہل بیت کی تحقیرو تذلیل کرواناجیسے واقعات بکثرت ملتے ہیں۔ان سب کے باوجود امام صاحب نے کبھی بھی تبلیغ و ارشاد کاموقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ایک موقع پر بادشاہ نے شعر سننے کی خواہش کااظہار کیاتو حضرت امام علی نقی نے ایسے ایسے اشعار سنائے کہ کل شرکائے محفل کی داڑھیاں خوف خدااور فکرآخرت سے بہنے والے آنسؤں کے باعث ترہوگئیں۔امام صاحب سے بغض رکھنے والا یہ عباسی حکمران ”ابوالفضل جعفرالمتوکل علی اللہ“اپنے ہی بیٹے کے ہاتھوں قتل ہو گیاکہ اللہ تعالی کی لاٹھی بے آواز ہے،اللہ تعالی اپنی توہین برداشت کرلیتاہے لیکن اپنے نیک بندوں کی توہین واستہزاء برداشت نہیں کرتا۔
حضرت امام علی نقی اپنی خلوت کے لمحات کو یادالہی میں بسر کرتے تھے۔دن روزے میں اوررات نماز میں بسر ہوتی تھی۔آپ نے اپنے مصلے کے سامنے قبر کھود رکھی تھی اور فرماتے تھے کہ میں ہر وقت اپنی آخری آرام گاہ کو اپنے سامنے پاتاہوں۔اہل بیت نبوی کی وہ خصوصیت جو باقی تمام دنیاسے اس خانوادے کو نمایاں کرتی ہے وہ ”سخاوت“ہے۔سخاوت کی صفت اپنے بزرگوں کی طرح حضرت امام علی نقی میں بھی بدرجہ اتم موجود تھی۔دنیااوراہل دنیاسے استغناآپ کو وراثت میں ملاتھا۔”اخلاق حسنہ“کی دولت آپ نے ترکہ نبوی ﷺ سے پائی تھی چنانچہ ظالم بادشاہ ساری عمر انتظارہی کرتا رہا کہ آپ کی زبان مبارک سے کچھ ایسے الفاظ برآمد ہوں کہ جن کی پاداش میں آپ کا سر قلم کر دیا جائے لیکن صاحب خلق عظیم کے اس فرزند ارجمند نے کبھی ایسا موقع نہیں آنے دیا اور صبر واستقامت کے پہاڑ سے بادشاہ کے بہتے ہوئے غضب سیل رواں کے سامنے بند باندھے رکھا۔ حضرت امام علی نقی کے ہاں اہل علم حضرات کی بہت قدر تھی۔ایک بار آپ اہل بیت کے عمائدین میں تشریف رکھتے تھے اور ایک بہت بڑے تکیہ پر نیم دراز تھے۔آپ نے ایک عالم دین کو دیکھاتو اس کے احترام میں اٹھ کھڑے ہوئے اسے ہاتھ سے کھینچ کر اپنے تکیے کے ساتھ بٹھا لیا۔سادات کے ایک بزرگ نے اعتراض کیا کہ سیدوں کے ہوتے ہوئے ایک غیر سید کااتنا احترام کیوں ہے؟؟ حضرت امام علی نقی نے قرآنی آیات سے اہلبیت کے افراد کی تسلی فرمائی،ان آیات میں اہل علم کی فضیلت ذکر کی گئی تھی۔
امام صاحب حضرت امام علی نقی کی وفات کے بارے میں کہاجاتاہے کہ انہیں زہردی گئی تھی۔جن بادشاہوں کو اس زہر خوانی کا ذمہ دار قرار دیاجاتا ہے وہ توامام صاحب کی حیات بابرکات کے دوران ہی انتقال کر گئے تھے۔ تاہم 26جمادی الثانی 254ھ کو سامرہ کے مقام پر ہی آپ نے داعی اجل کو لبیک کہا۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔آپ کی تاریخ وفات کی کچھ دیگر روایات بھی موجود ہیں لیکن ان میں ہفتہ عشرہ سے زیادہ کافرق نہیں۔اس وقت تخت بغداد پر خلیفہ”محمد المعتزباللہ“(252-255ھ)براجمان تھا،اس نے اپنے بھائی کو جنازہ میں اپنی نمائندگی کے لیے بھیجا۔جنازہ میں انسانوں کے سروں کاایک نہ ختم ہونے والاسمندر تھاجو مشرق سے مغرب تک محیط تھا۔اس کثرت نفوس کے باعث حضرت امام علی نقی کو کسی قبرستان میں دفن نہ کیاجاسکا اور آپ کے گھر میں ہی مٹی کی امانت مٹی کے سپرد کر دی گئی۔آپ کی متعدد شادیاں تھیں۔آپ کا ایک بیٹا ابوجعفرمحمد آپ کی حیات طیبہ میں رحلت فرماگیاتھا۔حسن، جعفر،حسین،عبداللہ،زید،محمداور موسی آپ کے مزید فرزندان تھے۔ایک ”عائلہ“نامی لخت جگرکابھی کتابوں میں تذکرہ موجود ہے۔خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را۔

Print Friendly, PDF & Email

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں