106

جھاڑو نے جھاڑو پھیر دیا ؛ تحریر: ناہیدہ سیف ایڈوکیٹ

راجدھانی دہلی کارام لیلا میدان سج گیا تھا وہ تیسری بار مکھی منتری کا شپت لینے آرہا تھا وہی عزم وہی ولولہ وہی سادگی، چہرے پہ پہلےکی طرح سنجدگی پہلے کرپشن اور برشناچار کے خلاف وہ اٹھ کھڑا ہوا اس سفر میں آنے ہزارے کی سربراہی میں جو انکا ساتھی تھا دیش سے برشٹا چار،بلت کار اور کرپشن ختم کرنے لے لئے وہ سڑکوں پہ آئے تھے کرپشن نے دیش کی جڑوں کو کھوکھلی کر رکھی تھی جلسے کئے ،دھرنے دیئے بھوک ہڑتال کی لیکن حکومت ٹھس سے مس نہیں ہو رہی تھی دہلی میں مافیاز کا راج تھا کرپشن عروج پر تھی آخر ایک دن اس نے سوچ لیا کہ سسٹم کے اندر جائے بغیر ان مسائل کا حل تلاش کرنا مشکل ہے اس نے اپنے دوست آنے ہزارے سے بات کی آنے نے سختی سے منع کیا اور سیاست میں آنے کو خود کو غلاظت اور گندگی میں دھکیلنے کے مترادف قرار دیا جس میں ایماندار لوگوں کی گنجائش نہیں لیکن اس نے عزم کیا ہوا تھا دیش بدلنے کا ،لہذا اپنی راہ جدا کی اور ایک پارٹی کی بنیاد رکھی جس کا نام عام ادمی پارٹی اور انتخابی نشان جھاڑو قرار دیا گیا جھاڑو سے ہی کرپشن اور بدعنوانی کو پھیر دیا جائے گا ،وہ ایک مڈل کلاس سنساری ایماندار پڑھے لکھے پریوار (خاندان ) کا بچہ تھا جہاں بچپن میں انہیں ایمانداری اور بے ایمانی میں تمیز سکھایا گیا تھا کہ دھرم کا پہلا اصول ایمانداری ہے اور ہر دھرم نے اہنسھکا اور کرونا سیکھایا ہے ایماندار کا تعلق کسی دھرم کسی دیش کسی رنگ ،نسل سے بھی ہو وہ ایماندار ہی ہوتا ہے اس نے انجینئرنگ اور اس کے بعد سی ایس ایس کیا ہوا تھا اور انکم ٹیکس میں آفیسر تھا چاہتا تو بڑے آرام سے پیسے کما سکتا تھا لیکن استفعی دے کر پہلے فلاحی کاموں پھر سیاست میں آکر جنتا کی زندگی میں بدلاءو لانے کا عزم کیا، لہذا اپنا نیک مقصد لے کر اپنے جنتا کے پاس گیا راستے میں چوراہوں پہ کھڑے ہو کر صفائی سے اپنے من کی سچائی اور دیش کے لیے کچھ کرنے کے عزم کو دھرایا میں اپکا بیٹا ہوں، اپ میں سے ہوں، اپ کی سیوا کرنا چاہتا ہوں، مجھے سوئیکار کرو میرا ساتھ دو، راستے میں بڑی دیواریں حائل تھی کوئ میڈیا کا بندہ انٹرویو لیتا تو ضرور ان کی کمزوری اور حیثیت ان کو یاد دلاتا اور حوصلہ پست کرنے ڈرانے کی کوشش کرتا سیاست کوئی کھیل نہیں اروند جی یہاں بڑے بڑے کھلاڑی اتر تے ہیں اور اپ کا مقابلہ تو میدان کے پکے کھلاڑیوں سے ہیں بی جے پی جسکا ڈنکا پوری دیش میں بج رہا ہے اور کانگرس تین دفعہ شیلہ ڈکشٹ لگاتار دہلی کی سنگھاسن پر راج کر چکی ہے وہ مفلر سے ڈھانپے ہوئے اپنے چہرے پر مسکراہٹ لے آتا اور بڑے بے نیازی سے کہتا جنتا کا جو فیصلہ ہو گا مجھے منجور ہو گا ،اور جنتا نے اپنا فیصلہ ان کے حق میں دے کر سب کو حیران کر دیا تھا پہلی دفعہ کانگرس کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنانی پڑی تھی جس پر وہ خوش نہیں تھے جس کی وجہ سے انہیں کام میں دقت آرہی تھی سو غالبا پچاس دن کے بعد استعفی دے دیا دوسری بار عوام نے دو تہائی اکثریت دے دی اور تیسری بار پھر دو تہائی اکثریت دے دی کانگرس کا تو نام ،نشان بھی نا رہا البتہ بی جے پی چند سیٹیں نکال سکی ،
اروند کجروال تیسری دفعہ راجدھانی دہلی کا مکھی منتری بن چکا ہے اپنی حلف برداری کی تقریب انہوں نے کسی ہال میں کرنے کی بجائے تاریخی رام لیلہ میدان میں دہلی کے عوام کے سامنے ان کی موجودگی میں لینے کا ارادہ کیا جس میں پورے جوش ،خروش کے ساتھ دہلی کی عوام موجود تھی اور اپنے پسندیدہ وزیر اعلی سے اپنی والہانہ محبت کا اظہار کر رہی تھی کچھ بچوں کو کجروال کے روپ ان کے اسٹائل میں لایا گیا تھا وہ نعرہ لگا رہے تھے لگے رہو کجروال ہم تمہارے ساتھ ہیں ۔
اسٹیچ پر دہلی کے رکشہ ڈرائیور، ٹیکسی ڈرائیور،اساتذہ کرام،اسٹوڈنٹ، ریڑی والے ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو بھٹایا گیا تھا یہی تو انکا اسٹائل ہے جو دوسرے سیاستدانوں سے انہیں الگ کرتا ہے آخر یہ پارٹی بھی تو عام آدمی پارٹی ہے اپنی حلف برداری کے بعد خطاب میں ان کا کہنا تھا دہلی کو کوئی سیاستدان اور بیورو کریٹ نہیں چلاتے دہلی کو یہ لوگ چلاتے ہیں جو اس وقت یہاں بھیٹے ہیں اور حقیقی عوام کی نمائندگی کر رہے ہیں ، اروند کجروال نے اپنی اصلاحی کاموں سے گویا دہلی والوں کی تقدیر بدل دی اپنے اخراجات کم کیے عوام تک وزیر اعلی کے آفس کی رسائی آسان کر دی اپنے مسائل لے کر آسانی سے عام لوگ وزیراعلی سے مل سکتے ہیں اپنے آفس میں بیٹھے ہوئے کام میں مشغول اروند کجروال کو ایک عام آدمی اکر بتاتا ہے اروند جی یہ دوائی مجھے نہیں مل رہی اروند وہ دوائی کی چٹی لے کر خود ہسپتال پہنچ جاتا ہے اور دوائی کے بارے میں پوچھ گچھ کرتا ہے ، ایمانداری سےکام ہونے کی وجہ سے پیسے بچ رہے ہیں ان پیسوں سے دہلی کی مہیلائوں یعنی خواتین کو ٹرانسپورٹ مفت کر دی ہے دہلی میں بجلی مفت ہے ان کے محلہ کلینک کا ڈنکا دنیا میں بچ رہا ہے دوسرے علاقوں سے لوگ مفت علاج کے لیے دہلی اتے ہیں سرکاری سکولوں پر خاص توجہ دی اور ان کی ناگفتہ بہ حالت کو تبدیل کر کے رکھ دیا اس نے الیکشن کے دوران کوئی فاشسٹ یا نفرت انگیز نظریہ نہیں رکھا بلکہ کھل کر مودی سرکار کے نفرت کی سیاست اور ان کے تعاصب پسند سٹیزنشپ ایمڈمنڈ بل پر کھل کر تنقید کی ،
اروند کجروال نے دنیا کو بتایا اگر اپ میں کام کرنے کا جذبہ ہو تو وفاق میں سرکار ہوئے بغیر بھی آپ کام کر سکتے ہو دہلی جیسا صوبہ جو کہ دارلحکومت بھی ہے تاریخی طور پر بڑی اہمیت رکھتا ہے اس شہر نے بہت نشیب ، فراز دیکھا ہے انگریزوں اور مسلمانوں کو بھی آپنے آنگن میں حکومت کرتے ہوئے دیکھا ہے اس شہر کا وہاں کے باسیوں کا اپنا ایک مزاج ہے جو کہ ایک ریچ تاریخ رکھتے ہیں جو پڑھے لکھے باشعور ہیں ان میں اور دوسرے علاقوں کے لوگوں میں زمین،آسمان کا فرق ہو گا ،ان سے ووٹ لینا نہ اتنا آسان ہے نہ ہی ان کو بے وقوف بنایا جا سکتا ہے ،چنائو کے دوران کانگرس کے بڑے بڑے روڈ شو اور بی جے پی کے جلسے محض نظر کا ہی دھوکے تھے ویسے بھی جلسے میں ہر کوئی جاتا ہے تماشا دیکھنے، جب بیلٹ سامنے ہو تو باشعور قومیں اپنی تقدیر کے فیصلے جلسوں میں تھوڑا کرتی ہیں ،کانگرس تو ویسے بھی انڈیا میں قصہ پارینہ بن چکی آپنے اوپر کرپشن کے الزامات اور پھر موروثی سیاست آج کا نوجوان بالکل پسند نہں کرتی، ظاہر ہے محلوں سے نکل کر صرف چہرہ دیکھانے یا درشن کرانے سے آج کل کوئی امپرس نہیں ہوتا ،اس سے زیادہ موروثی سیاستدانوں کو عام لوگوں کے مسئلوں کا کوئی پتہ نہیں ہوتا بدلائو عام لوگوں سے اٹھ کر کھڑا ہوا بندہ ہی لا سکتا ہے جن کو عام لوگوں کے مسئلوں کا ادراک ہو ، جو کام کرے گا کرپشن کے خلاف بولے گا ملک کا وفادار ہو گا وہی اگے بڑھے گا نہرو کی پارٹی کی دیوار اس وقت ہل گئی تھی جب رائے بریلی جو انکا حلقہ تھا وہاں سے راہول گاندھی کو برترین شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا ، لوگوں نے صرف اور صرف کام دیکھ کر اروند کجروال کو ووٹ دیا انہوں نے اپنی پارٹی کا دروازہ بے ایمان اور کرپٹ لوگوں کے لیے بند کیا ہوا ہے،بہرحال ہر وہ سیاستدان جو عام لوگوں کی بہتری کے لیے کام کرے وہ قابل عزت اور حوصلہ افزائی کے قابل ہیں چائیے اسکا تعلق کسی بھی ملک سے بھی ہو ،ہم اروند کجروال جی کے مزید کامیابیوں کے لیے دعا گو ہیں اور امید کرتے ہیں اپنی نیک نیتی اصلاحی اور انقلابی کاموں کے بل بوتے پر وہ ایک دن ضرور بھارت کے پترھان منتری ( وزیراعظم ) کا شپت لے گا ،اروند کجروال جی عمران خان صاحب کے بھی فین ہیں ہم امید کرتے ہیں کہ خان صاحب کی حکومت ضرور اروند کجروال کی کامیاب پالیسوں کا کھوج لگائے گی ،اور اس طرح کے اصلاحی کاموں کا آغاز کرے گی۔

Print Friendly, PDF & Email

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں