72

ایک تھا دانشور۔۔۔۔تحریر: تقدیرہ خان

ندی کنارے ایک دانشور بیٹھا تھا کہ اُس کی نظر ایک مسافر پر پڑی ۔ دانشور نے آواز دے کر مسافر کو بلایا اور پوچھا کدھر کا ارادہ ہے۔ مسافر نے اپنی منزل بتائی تو دانشور بولا سفر طویل اور دشوار ہے ۔راہزنی کا خطرہ تو ہے ہی مگر جنگلی جانوروں کی چیرپھاڑ بھی ایک مسئلہ ہے۔ راستہ جنگل سے گزرتا ہے اور آگے ایک اونچا پہاڑ بھی ہے جس پر چڑھنے اور اُترنے کے لیے دو دن کی مسافت درکار ہے۔
دانشور نے وہ سب مصیبتیں ، پریشانیوں اور تکلیف بیان کیں جوممکنہ طور پر ایک اکیلے مسافر کو پیش آسکتی تھیں۔ مگر کسی بھی پریشانی کا حل یا کوئی حفاظتی تدبیر نہ بتائی۔
مسافر نے کہا حضور یہ سب جان کر ہی گھر سے نکلا ہوں اور جو کچھ آپ نے فرمایا ہے اس راستے پر چلنے والے ہر مسافر کوپتہ ہے۔ آپ نے مجھے روکا تو ہے مگر کوئی حل نہیں بتایا کہ ان تکلیفوں اور پریشانیوں کو کم کیسے کیا جائے۔
دانشور نے کہا میں ایک عقلمند آدمی ہوں اور میر ا کام ہی لوگوں کو مشورے دینا اور اُن کی مشکلات کم کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں کبھی کبھی یہاں آکر بیٹھتا ہوں اور لوگوں کو مشورے دیتا ہوں ۔ تم سے پہلے سینکڑوں مسافروں کو مشورے دے چکا ہوں اگر تم چاہو تو تمہیں بھی اچھا اور نیک مشورہ دے سکتا ہوں۔
مسافر قدرے خوش ہوا اورعرض کی جناب جلدی کریں اور مشورہ دیں۔سفر لمبا ہے اور دن ڈھل رہا ہے۔ میں شام سے پہلے کسی بستی میں پہنچنا چاہتا ہوں جہاں رات بسر کرسکوں۔
دانشور نے کہا میاں یہ ندی اُسی شہر کی طرف جارہی ہے جدھر جانے کاتم ارداہ رکھتے ہو۔ کپڑے اتاروں ، سامان گنھٹری میں باندھ کر سر پر رکھو اور آرام سے ندی میں اُتر جاﺅ۔ اپنا بدن ڈھیلا رکھو اورمنہ پانی سے باہر رکھ کر لہروں کے ہمدوش تیر تے جاﺅ ۔ اگر تم نے حوصلہ رکھا تو شام سے پہلے شہر پنا ہ کی فصیل سے جالگو گے ۔
مسافر نے پوچھا حضور ندی کے اندر بھی تو کوئی خطرہ ہوسکتا ہے اور جو مسافر آپ کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے ندی میں اُترے تھے کیا وہ منزل پر پہنچ گئے تھے؟
پہنچے تو سبھی ہونگے مگر کس حال میں یہ مجھے پتہ نہیں ۔ میرا کام منزل تک جانے کا آسان راستہ بتلانا ہے آگے زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ ہے۔
مسافر دانشور کا مشورہ سن کر اٹھا اور اپنی راہ چل دیا۔
تیرہ فروری کے اپنے پروگرام میں جناب صابر شاکر نے ایک ایسا ہی مشورہ وزیراعظم عمران خان کو دیا ہے کہ فوراً اسبملیاں توڑ دو اور اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے الیکشن کے میدان میں کود جاﺅ ۔ پھر دیکھو آپ کیا حشر ہوتا ہے ۔صابر شاکر نے انگلینڈ کے بورس جانس اور دہلی کے کچریوال کی مثالیں پیش کیں کہ وہ بغیر وقت ضائع کیے عوام کے پاس چلے گئے اور پھر بھاری مینڈیٹ لیکر اقتدار کی کرسی پر آگئے۔
صابر شاکر اور دیگر ٹی وی دانشوروں کے مشوروں پر جائیں تو یوں لگتا ہے کہ دانش و حکمت کے دریا کے کنارے مختلف مقامات پر ان حکیموں نے اپنے ٹھیے لگا رکھے ہیں اور سر شام سیاسی مسافروں کو مشورے دیکر انہیں سیاسی خود کشی کے نسخے بتانے کا کاروبار کرتے ہیں۔ یہ لوگ نہیں جانتے کہ انگلینڈ ، دہلی اور اسلام آباد کے درمیان جس قدر زمینی فاصلہ ہے اُسی قدر ذہنی سوچ، عوامی مشکلات ، سیاسی چالبازلوں اور بیرونی مداخلت کے علاوہ اندرونی خلفشار وبدامنی اور مصائب کی یلغار ہے۔
اگر عمران خان اسمبلیاں توڑ کر عوام کے پاس چلے جاتے ہیں تو کیا وہ بورس جانسن اور کچر یوال کی طرح ستریا اسی فیصد سیٹیں لیکر پھر اقتدار میں آجائینگے ۔ ایسا ہر گز نہیں ہوگا۔ پی ٹی آئی کے پچاس فیصداسمبلی ممبران واپس اُنہی جماعتوں میں چلے جائینگے جہاں سے وہ آئے تھے یا پھر بحیثیت آزاد اُمیدوار الیکشن لڑینگے اور الیکشن سے پہلے کھل کر ہارس ٹریڈنگ ہوگی ۔
پاکستان دشمن قوتیں کھل کر پیسہ لگا ئیگی اور ملک میں افراتفری کا ماحول ہوگا۔ پی ٹی آئی میں ہی نہیں بلکہ دوسری سیاسی جماعتوں میں ایسے چہروں کو بہتات ہے جو جنرل پرویز مشترف کے علاوہ دیگر جماعتوں کے اقتدار میں شامل رہے ہیں۔ ایسے لوگ کسی نظرےے کے قائل نہیں ہوتے بلکہ وہ وقت اور حالات کے مطابق چلتے ہیں۔ فواد چوہدری صاحب نے اپنے انٹرویو میں کھل کر کہا کہ وہ کسی نظریے پر یقین نہیں رکھتے بلکہ وہ عملی سیاستدان ہیں۔ اُن کے آئیڈیل گاندھی، مولانا آزاد ، اور برٹینڈرسل ہیں۔ مولانا آزاد کو حضرت قائداعطمؒ نے کانگرس کا شو بوائے اور بیرسٹر موجمد ار نے گاندھی کو فرسودہ خیالات کا مبلغ کہا تھا۔ بیرسٹر موجمدار انڈین سپریم کورٹ کے جج اور دانشور تھے۔ برٹینڈرسل فلاسفر، دانشور اور ماہر نفسیات تو ہے مگر اخلاقیات کا منکر بھی ہے۔ اُس کے فلسفے میں جمالیات کا عنصر غالب ہے اور الہیات سے وہ نہ صرف دور بلکہ کسی حد تک منکر بھی ہے۔ الہیات ہی فلسفے کی حقیقت اور اصل روح ہے۔ بے حقیقت اور محض مادیت کی بنیاد پر قائم کوئی بھی علم منافع بخش اور دائمی نہیں ہوتا ۔
وزیر اعظم کوا سمبلیاں ٹورنے کا مشورہ دینے والے ایک مثبت بحث کا آغاز کریں اور ساری چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں کے لیڈران سے پوچھیں کہ موجودہ معاشی ، سیاسی، معاشرتی اور بین الاقوامی بدتری سے نکلنے کا کیا حل تجویز کر تے ہیں۔ اگر اُن کے پاس کوئی مثبت یامتبادل پروگرام نہیں تو وہ ملکر عمران خان کے ہاتھ مضبوط کریں اور بلیک میلنگ کی سیاست چھوڑ کر وسیع ترقومی مفاد میں لوٹا ہوا مال رضاکارانہ طور پر واپس کر کے کرپشن کے خلاف سخت قوانین بنانے میں حکومت کی معاونت کریں۔
مگرا یسا ممکن ہی نہیں اور نہ ہی کسی لیڈر نما سیاسی جانور میں اتنی اخلاقی جرا¿ت اور جذبہ حب والوطنی ہے۔ خود حکومتی صفوں میں انتشار ہے اور سوائے چند لوگوں کے باقی سب ہفتہ وار وزیراعظم بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔
مجھے وزیراعظم کی شکل میں افغانستان کا بادشاہ امیر عبدالرحمن نظر آتا ہے ۔ ایک پرانی تصویر میں امیر عبدالرحمن تخت پربیٹھا ہے اور اُس کے دائیں بائیں روسی ریچھ اور برطانوی ببر شیر کھڑے ہیں ۔ تصویر کے نیچے لکھا ہے مجھے میرے دوستوں سے بچاﺅ۔
اسمبلیاں توڑنا موجودہ صورتحال کا حل نہیں ۔ نئے الیکشن نئی مصیبتیں لائینگے ۔ بلاول اور مریم کو تخت پر بٹھانے والے مہارجہ رنجیت سنگھ کے بیٹے کنور دلیپ سنگھ کی سوانح حیات پڑھ لیں۔ جناب وزیراعظم کو ان کے دانشور دوست اسمبلیاں توڑنے کا مشورہ دینے کے بجائے یہ مشورہ دیں کہ وہ اپنے ارگرد بیٹھے بابوﺅں اور مفاد پرست کرپٹ ٹولے کو نیب کے حوالے کریں اور طریقہ حکمرانی میں بہتر ی لائیں۔ ندی میں چھلانک لگانا آسان ہے اور راستہ بھی مختصر ہے مگرمنزل پر پہنچنے کی کوئی گارنٹی نہیں ۔

Print Friendly, PDF & Email

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں