85

کئی منصوبوں کیلئے وزیر اعلی نے منظوری دی ہے ۔ جن کی تکمیل کے بعد عوام کی مشکلات میں بہت کمی آئے گی ۔.معاون خصوصی وزیر زادہ

چترال ( محکم الدین ) وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی وزیر زادہ نے کہا ہے ۔ کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے کالاش قبیلے پر خصوصی احسانات ہیں ۔ قیام پاکستان کے بعد پہلی مرتبہ ایم پی اے کی نشست ، چیرمین ڈیڈک کا عہدہ اور اب انہوں نے وزارت کا عہدہ ایک محروم کمیونٹی دی ہے ۔ جو کہ کمزور طبقے کو طاقت اور عزت دینے کی اعلی مثال ہے ۔ جس کیلئے پوری کالاش برادری وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان کی شکر گزار ہے ۔ وہ پیر کے روز کالاش ویلی رمبور میں کالاش قاضیوں اور یتیموں میں اوقاف مائناریٹی ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے چیک تقسیم کرنے کے موقع پر خطاب کر رہے تھے ۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر چترال عبدالولی خان ، سابق ناظم یو سی ایون رحمت الہی ، اوقاف کے اسٹاف اور کالاش قبیلے کے مردو خواتین کی بڑی تعداد مو جود تھی ۔ وزیر زادہ نے کہا ۔ کہ حکومت کی طرف سے اقلیتوں کی مدد کا سلسلہ جاری ہے اور آیندہ بھی جاری رہے گا ۔ کالاش کمیونٹی کو اپنے اندر اتحاد برقرار رکھنا چاہیے ۔ اور کالاش اور مسلم برادری کے درمیان مثالی بھائی چارہ اور اتفاق میں کوئی آنچ نہیں آناچاہیے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ پاکستان وہ ریاست ہے ۔ جہاں اقلیتوں کو مذہبی آزادی حاصل ہے ۔ حکومت اور مقامی مسلم کمیونٹی اپنے سے پہلے اقلیتوں کا خیال رکھتے ہیں ۔ خصوصا کالاش کمیونٹی محفوظ ترین زندگی گزار رہی ہے ۔ وزیر زادہ نے سکھ برادری ، ہندو برادری ، مسیحی اور دیگراقلیتی مذاہب کا شکریہ ادا کیا ۔ کہ وہ ان سے انتہائی محبت کرتے ہیں ۔ خصوصا اقلیتی ایم پی ایز روی کمار ، ولسن وزیر ، رنجیت سنگھ اور ایم این اے جمشید طومس کا شکریہ ادا کیا ۔ کہ وہ دل وجان سے ان کو سپورٹ کرتے ہیں ۔ انہوں نے وزیر اعلی کی چترال کے مسائل میں دلچسپی پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ۔ کہ کئی منصوبوں کیلئے وزیر اعلی نے منظوری دی ہے ۔ جن کی تکمیل کے بعد عوام کی مشکلات میں بہت کمی آئے گی ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ تینوں ویلیز کے سڑکوں کی عارضی مرمت کیلئے ایک ایک کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے ۔ سات کروڑ بیس لاکھ روپے یونین کونسل ایون پر خرچ کئے جائیں ۔ بیس مساجد کی سولرایزیشن پر 92لاکھ روپے لگائے جائیں گے ۔ جبکہ پچیس لاکھ روپے کی لاگت سے عید گاہ ایون کی تعمیر کی جائے گی ۔ انہوں کالاش ویلی روڈ کی این ایچ اے کے زریعے تعمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا ۔ کہ سابق ایم این اے شہزادہ افتخار الدین بھر پور محنت اور کوشش کے باوجود اس روڈ کی فیڈرلائزیشن نہیں ہوئی تھی ۔ زمین کی خریداری بھی نہیں ہوئی تھی ۔ اب یہ ٹینڈر کے مرحلے تک پہنچ چکا ہے ۔ این ایچ اے نے اگر یہ روڈ نہیں بنایا ۔ تو وزیر اعلی خیبر پختونخوا نے یہ تعمیر کرنے کی یقین دھانی کرائی ہے ۔ اوریہ روڈز تعمیر ہو کے رہیں گے ۔ معاون خصوصی نے اس موقع پر 71کالاش قاضیوں میں فی کس 30ہزار روپے ، 17یتیم بچوں کو فی کس 5ہزار ، دو کمیونٹی بیسڈ سکولوں کو بالترتیب 1لاکھ 93ہزار اور 1لاکھ 3ہزار پانچ سو مجموعی طور پر 25لاکھ روپے کے چیک تقسیم کئے گئے ۔ سکولوں کو دیے جانے والے چیک سے طلبہ کیلئے ٹیکسٹ بک اور یونیفارم خریدے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا ،کہ بیوہ خواتین کیلئے 10ہزار ، شادی شدہ جوڑوں کیلئے 40ہزار اور مریضوں کیلئے ڈاکٹری نسخے کے مطابق فنڈ تقسیم کئے جائیں گے ۔ اسی طرح 210گھروں کی مرمت کیلئے ایک کروڑ 40لاکھ روپے کی لاگت سے کام جاری ہیں ۔ تینوں ویلیز میں 2 کروڑ 80لاکھ سے زمین خریدی گئی ہے ۔ 50 لاکھ پر مزید زمین خریدی جائے گی ۔ جبکہ بشالینی ، مذہبی عمارات کی تعمیر کیلئے ایک کروڑ 55لاکھ سے کام جاری ہیں ۔

Print Friendly, PDF & Email