80

پشاور یونیورسٹی کے طلبہ کا پیراپلیجک سنٹر کا مطالعاتی دورہ

پشاور یونیورسٹی کے ڈیپارٹمنٹ آف سوشل ویلفیئر کے طلبہ و طالبات نے اپنے پروفیسرز کے ہمراہ حیات آباد میں قائم پیراپلیجک سنٹر کا دورہ کیا اور وہاں داخل مریضوں اور شعبہ جات سے متعلق اگاہی حاصل کی ڈاکٹر عامر زیب نے انہیں ملک کے اس منفرد بحالی مرکز کے مختلف حصے دکھائے اور ادارے کی متنوع خدمات پر ان کے سوالوں کے جواب دئیے طلبہ نے ہسپتال میں قائم مصنوعی اعضاء تیاری، فزیوتھراپی، اکوپیشنل تھراپی، سائیکلوجیکل کونسلنگ اور نرسنگ مراکز میں خصوصی دلچسپی کا مظاہرہ کیا اور اس بات پر اظہار مسرت کیا کہ خیبرپختونخوا کا یہ قابل فخر قومی ادارہ پچھلے 35 سال سے پاکستان بھر سے سپائنل کارڈ انجریز سے متاثرہ مریضوں کو مکمل جسمانی، نفسیاتی اور معاشرتی بحالی کی خدمات بالکل مفت فراہم کر رہاہے ادارے کے سربراہ ڈاکٹر سید محمد الیاس نے پیراپلیجک سنٹر کے مطالعاتی دوروں کے آغاز پر سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ جامعہ پشاور کے اقدام کو سراہتے ہوئے بتایاکہ اس سنٹر میں بھی فعال سوشل ورک ڈیپارٹمنٹ موجود ہے جس کے سوشل ورکر سپائنل کارڈ اور دیگر جسمانی معذوری کے شکار خواتین و حضرات اور بچوں کو دوبارہ کارآمد شہری بنانے میں شب و روز مصروف عمل رہتے ہیں انہوں نے کہا کہ سنٹر میں پرائیویٹ رومز کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے جہاں کمروں کا مناسب کرایہ دینے کی استطاعت رکھنے والے مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے اسکی بدولت امیر خاندانوں کے مریض بھی مستفید ہونگے جو الگ کمرہ نہ ہونے کے سبب یورپی ممالک کا سفر کرتے اور کروڑوں کا قیمتی زرمبادلہ خرچ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں پرائیویٹ رومز کے قیام سے آئندہ نہ صرف متمول مریض یہاں علاج کو ترجیح دیں گے بلکہ کرایہ کی رقوم سے سینکڑوں مزید نادار مریضوں کا علاج اور بحالی بھی ممکن ہو گئی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email