73

خو ف یا فو بیا…..ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی

پا نی سے ڈر نے کے مرض کو ہائیڈرو فو بیا کہا جا تا ہے اس حساب سے کورونا کا خوف کورونا فو بیا کہلا ئے گا 22کروڑ آبادی والے ملک میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 246ہے 21کروڑ 99لاکھ99ہزار 754لو گ خوف کا شکار ہیں بیماری ایک فیصد سے بھی کم ہے خوفزدہ 99فیصد سے بھی زیا دہ ہیں اگر یہ وباء 1920ء میں پھیلتی تو لو گوں میں اتنا خوف کبھی نہ پھیلتا اُس زمانے میں ابلاغ کا ذریعہ صرف ریڈیو تھا وہ بھی ہر ایک کے پاس دستیاب نہیں تھا 100سال بعد نہ چاہتے ہوئے ضروری غیر ضروری اور انتہائی غیر ضروری ہر طرح کی معلومات آپ کے کانوں میں انڈیلی جارہی ہیں بلکہ آپ کی آنکھوں میں بھی ڈالی جاتی ہیں آپ نظر بچانے بائیں طرف دیکھیں تو یہی کچرا مل جا تا ہے دائیں طرف دیکھیں تب بھی اس طرح کا رطب ویا بس نظر آجا تا ہے دو دنوں کے لئے ذرائع ابلاغ کا بائیکا ٹ کر کے کسی پہاڑ کی طرف نکل جائیں تو دو دن بعد پھر اس طوفان ِ بد تمیزی سے ایسا پا لا پڑتا ہے کہ الامان و الحفیظ گذشتہ 4ہفتوں سے پا کستانی عوام جس خوف میں مبتلا ہے اس میں حقیقت کا عنصر 5فیصد بھی نہیں افواہ اور پرو پگینڈے کا عنصر 95فیصد سے زیا دہ ہے کہتے ہیں احتیاط لا زم ہے نبی کریم ﷺ کی سنت ہے خدا کا حکم ہے شریعت نے احتیاط سے نہیں روکا، علماء نے منع نہیں کیاسب بجا سب درست مگر یہ کیا ہوا کہ سکول بند، کا لج بند، مدرسہ بند،کرکٹ منسوخ امتحا نا ت ملتوی ہر روز الیکٹر انک میڈیا پر آتا ہے کہ شا پنگ مال بھی بند ہونگے لائسنس کی تجدید کا عمل روک دیا جائے گا، نادرا شنا ختی کارڈوں کی تجدید نہیں کریگی ڈاک خانے بند ہونگے ڈاکٹر وں کے کلینک بند ہونگے لیبارٹریاں بند کی جائیگی پبلک ٹرانسپورٹ کو بند کیا جائے گا پارکوں کو بند کیا گیا، شادی ہال بند کئے گئے زندگی منجمد کر دی گئی کس کے ڈر سے یہ سب کچھ ہوا؟ ایک جر ثومہ یعنی وائرس (Virus) کے ڈر سے یہ سب کچھ ہوا جر ثومہ اتنا باریک نا زک اور چھوٹا ہے کہ ذرے کا سواں حصہ ہے جو خو رد بین کے ذریعے دیکھا جا سکتا ہے اس جر ثومہ نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے جر ثومہ نے چین سے اپنے سفر کا آغا ز کیا ایران اور اٹلی میں دہشت پھیلا نے کے بعد دنیا کے 146ممالک کو فتح کیا پا کستان میں ایران کے راستے داخل ہوا دلچسپ صورت حال یہ ہے کہ چین کے شما لی ہمسایہ نیپال میں یہ جر ثومہ داخل نہیں ہوا، بھوٹا ن میں داخل نہیں ہوا پاکستان اور ایران کے پڑوسی ملک افغا نستان کی طرف جر ثومہ نے آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا البتہ عرب مما لک میں اس نے دہشت پھیلائی کہیں نماز جمعہ کے اجتما عات پر پا بندیاں لگ گئیں کہیں حر مین شریفین کے دروازے بند کرانے پڑے اور کہیں اذان پنجگا نہ میں تر میم کر کے نماز کے لئے مسجد کی طرف آجا ؤ کی جگہ گھروں میں نماز پڑ ھو کا جملہ لگا دیا گیا اور یہ 1436سالوں پر محیط اسلامی کیلنڈر میں پہلی بار ہوا اس صورت حال کو اگر کورونا فوبیا کا نام دیا جائے تو بجا ہو گا سما جی اور معاشرتی زندگی میں اس خوف اور دہشت کے مضحکہ خیز مظا ہرے دیکھنے میں آرہے ہیں دفتر کا انتظامی سر براہ یعنی بوس بہت سخت مزاج آدمی ہے چھٹی دینے میں بخل سے کام لیتا ہے بلکہ چھٹی مانگنے والے عملے کو گا لیوں سے نواز تا ہے کورونا کی آمد کے دوسرے دن چار ما تحتوں نے چھٹی کی درخواستیں بھجوائیں درخواست میں لکھا کہ مجھے کورونا ہو گیا ہے 15دن کی چھٹی دیدیں اگر چھٹی نہیں دیتے تو میں آج ہی دفتر آجاونگا بوس کہتاہے دفع کرو سب کو چھٹی دیدو بیٹا 8مہینے بعد گھر آتا ہے باپ اُس کے ساتھ ہاتھ نہیں ملا تا مبادا کورونا ہوجائے ماں اپنے بچے کو دور سے دیکھتی ہے دور ہی سے خیریت پوچھتی ہے مصافحہ سے کورونا لگنے کا خوف ماں پر بھی طاری ہے دو جگری دوست 4سال بعد ملتے ہیں 6فٹ کے فا صلے پر کھڑے ایک دوسرے کا حال احوال پوچھتے ہیں ہماری روایات میں پورے طاقت سے مصا فحہ اورپورے خلوص کے ساتھ بغل گیر ہونے کا جو دستور تھا وہ دھرے کا دھرا رہ گیا ہے سچ کہتے ہیں یہ میڈیا کا دور ہے اور میڈیا نے ہمیں یر غمال بنا یا ہوا ہے ڈاکٹر سے لیکر افسر تک سب اس خوف میں مبتلا ہیں حا جی سے لیکر مولوی تک ہر ایک کے اعصاب پر یہ خوف سوار ہے بڑے بڑے نڈر، بہادر اور پہلوان بھی ایک خوردبینی جر ثومے کے خوف سے بد حواس ہو چکے ہیں اسرائیلی روایات میں آتا ہے کہ ایک دن حضرت سلیمان ؑ نے خدا سے التجا کی کہ تیری مخلو قات کی دعوت کرنا چاہتا ہوں خداتعا لیٰ نے ارشاد فر مایا یہ تیرے بس کی بات نہیں اگر خواہ مخواہ چاہتے ہو تو سمندر ی مخلوق کی دعوت کرو سلیمان ؑ نے سمندری مخلوق کی دعوت کا اہتمام کیا اور زبر دست انتظام کیا سمندر سے ایک مچھلی آئی ساری دعوت کھا نے کے بعد مچھلی نے کہا بقا یا کھانا کدھر ہے؟ یعنی سلیمان ؑ کی پوری دعوت ایک مچھلی کی بھو ک نہ مٹا سکی کورونا بھی خدا کی مخلوق میں سے ایک ہے دیکھنے میں اتنی چھوٹی ہے کہ خوردبین کے بغیر نظر نہیں آسکتی ذرے کے سویں حصے کے برابر ہے مگر اس کی طا قت اتنی زیا دہ ہے کہ دنیا بھر کے ڈاکٹر اور سائنسدان مل کر اس کا مقابلہ کرنے سے عاجز آگئے ہیں چین سے لیکر امریکہ تک بڑی بڑی حکومتوں کے ایوانوں میں ہلچل بر پا ہو چکی ہے یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت کا کرشمہ ہے اور اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

Print Friendly, PDF & Email