22

کیا اب بھی گھبرانے کا وقت نہیں آیا؟؟۔۔۔۔پروفیسررفعت مظہر

پرانے زمانے میں جب صحافت نامی کسی چڑیا کا وجود تک نہیں تھا، نقارچی نقارے بجا کر شاہی فرمان کا اعلان کیا کرتے تھے جس پر عمل کرنا رعایا کا فرضِ اول۔ وہ دَور لَد گیا اور اُس کی جگہ جمہوری دَور نے لے لی لیکن وہ رعونت، خود ستائی، خود نمائی، خود فریبی اور نرگسیت جو شاہوں اور شہنشاہوں کی نَس نَس میں سمائی ہوئی تھی، وہ جمہوری حکمرانوں میں بھی دَر آئی۔ اُدھر جمہوری دَور میں حق گوئی اور بے باکی میڈیا کی صفتِ اوّل ٹھہری جو حکمرانوں کو پسند نہیں تھی۔ چنانچہ یا تو بے باک میڈیا کو خریدنے کی کوشش کی گئی یا پھر نشانِ عبرت بنانے کی۔ پاکستان کی ٹوٹی پھوٹی جمہوریت میں یہی تماشا جاری تھا، جاری ہے اور شاید رہے گا (حالانکہ تاریخ شاہد کہ میڈیا سے پھڈا ڈالنے پر نقصان ہمیشہ حکمرانوں کا ہی ہوتا ہے)۔ کوئی بھی سیاسی جماعت جب اپوزیشن میں ہوتی ہے تو میڈیا کو اپنے دِل کے بہت قریب رکھتی ہے لیکن جونہی اُسے اقتدار کے ایوانوں کی ہوا لگتی ہے تو اُس کا رویہ یک لخت بدل جاتا ہے۔ محترم وزیرِاعظم جب اپوزیشن میں تھے تو بَرملا اقرار کیا کرتے تھے کہ اُنہیں صفِ اول میں لانے والا پاکستانی میڈیا ہے لیکن جونہی اقتدار کا ہما اُن کے سر پر بیٹھا، اُنہیں یہی میڈیا ”زہر“ لگنے لگا۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی میڈیا جھوٹ کی آڑھت سجائے بیٹھا ہے؟۔ کیا پاکستانی میڈیا اُنہی سہانے سپنوں کا ذکر نہیں کر رہا جو آپ اپوزیشن میں ہوتے ہوئے قوم کو دکھاتے رہے ہیں؟۔ اگر میڈیا کے کسی اینکر پرسن نے کوئی غلط بات کہی ہو تو اُسے نشانِ عبرت بنا دیں لیکن پہلے ثبوت تو لائیں۔
اگر وزیرِاعظم صاحب نے اقتدار میں آنے سے پہلے 100 دنوں میں ملک کی تقدیر بدلنے کا اعلان کیا اور 100 دنوں کے بعد حالات پہلے سے کہیں بَدتر ہونے پر میڈیا نے سوال اٹھایاتو کیا غلط کیا؟۔ اگر وزیرِاعظم صاحب نے آئی ایم ایف کے پاس جانے سے خودکشی کو بہتر قرار دیااور پھر خود ہی آئی ایم ایف کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کر دیا تو میڈیا سوال کیوں نہ اُٹھائے؟۔ اگر میڈیا کو ایک کروڑ نوکریوں اور 50 لاکھ گھروں کا دور دور تک نام ونشان نہ ملے تو دست بستہ سوال تو بنتا ہے۔ وزیرِاعظم نے ایک موقعے پر فرمایا تھا کہ مہنگائی بڑھتی ہے تو سمجھ لیں کہ حکمران چور ہیں، اب جب پٹرولیم مصنوعات سمیت ہر شے کی قیمت آسمانوں تک پہنچ چکی تو پھر کیا سوال اُٹھانے کا حق بھی نہیں؟۔ اب آپ قرضے معاف کرنے کی اپیلیں کر رہے ہیں حالانکہ آپ بھی جانتے ہیں کہ عالمی ادارے کبھی قرضے معاف نہیں کریں گے۔ اگر میڈیا کہتا ہے کہ ایسی اپیلیں کرنے سے بہتر ہے خودکشی تو میڈیا کیا غلط کہہ رہا ہے کہ غیرت مند قومیں اپنے زورِبازو پر آگے بڑھتی ہیں، بھکاری بن کے نہیں۔ جب دکھائے گئے سہانے سپنوں کی تعبیر اتنی بھیانک ہو تو پھر صرف قوم ہی نہیں میڈیا سے بھی سوال اُٹھانے کا حق کوئی نہیں چھین سکتا صاحب۔ صرف یوٹرن یا نیب، ایف آئی اے اور اے این ایف جیسے اداروں کا سہارا لے کر بات نہیں بنے گی، آپ کو عملی طور پر کچھ کرکے دکھانا ہوگا۔
جس طرح کورونا بے جرم وخطا ”جپھا“ ڈال لیتا ہے، نیب کا ”جپھا“ بھی بے جرم وخطا۔ کورونا کا ”جپھا“ مضبوط تو چیئرمین نیب کا ”جپھا“ مضبوط تر۔ نتیجہ مگر دونوں کا تقریباََ ایک جیسا کہ کورونا کے 98 فیصد مریض ایک پیسہ خرچ کیے بغیر زندگی کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ اسی طرح نیب کے ”جپھے“ سے بھی سال، چھ ماہ بعد سہی، لوگ اپنے دامن پر لگے سارے ”نیبی دھبے“ دھو کر نکل آتے ہیں اور نیب ”کسی کے“ اشارے پر نئے شکار کی تلاش میں نکل پڑتا ہے۔ کورونا چین سے شروع ہوا اور آناََ فاناََ پوری دنیا میں پھیل گیا۔ اِسی طرح ”نئے پاکستان“میں نیب کی پھرتیاں بھی بے مثل۔ اِدھر کسی نے حکمرانوں کے خلاف زبان کھولی، اُدھر نیب نے ”جپھا“ ڈال لیا، ثبوت شبوت ڈھونڈنے کی بھلا فرصت کہاں۔ کورونا کے شکاروں کو آئیسولیشن میں رکھا جاتا ہے اور نیب نے بھی اپنے تمام دفاتر میں ایسے ہی ”آئیسولیشن وارڈز“ بنا رکھے ہیں جہاں نیب اپنے شکار کو ایسے سینت سنبھال کر رکھتا ہے کہ کسی کو ملاقات تک کی اجازت نہیں ہوتی۔ وزیرِاعظم بار بار کہتے ہیں کہ گھبرانا نہیں۔ سوال مگر یہ کہ جب نیب اور کورونا وائرس کی پھرتیاں سَر چڑھ کر بولنے لگیں تو کیا قوم پھر بھی نہ گھبرائے؟۔ جب آپ خود کہیں کہ کورونا تیزی سے پھیلے گا اور ساتھ یہ بھی فرما دیں کہ اگر 4 سے 5 فیصد مریضوں کو بھی انتہائی نگہداشت کی ضرورت پیش آئی تو صورتِ حال خراب ہو جائے گی۔ اِس فرمان کے بعد قوم کا گھبرانا تو بنتا ہے۔سینئر صحافیوں سے گففتگو کرتے ہوئے آپ نے 21 مارچ کو فرمایا ”ہمارے تبصرہ نگار، اینکر اور صحافی وغیرہ کا اکثر سنسنی خیز خبروں اور بریکنگ نیوز پر بڑا زور ہوتا ہے، میڈیا ریٹنگ کی وجہ سے یہ بات سمجھ بھی آتی ہے لیکن اِن حالات میں ہم پیمرا کو ہدایات جاری کریں گے کیونکہ یہ افراتفری ملک کو وہ نقصان پہنچا سکتی ہے جو کورونا بھی نہیں پہنچائے گا“۔ بجا ارشاد! لیکن جب تفتان سے آئے پاکستانیوں کو بھیڑبکریوں کی طرح ایک ہی جگہ اکٹھے رکھا جائے گا تو میڈیا سوال بھی اُٹھائے گا۔ یہ قومی معاملہ ہے جس کا ہم سب نے مل کر مقابلہ کرنا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ میڈیا بھی سنسنی خیزی کی بجائے معاملات سلجھانے کی بھرپور کاوشیں کر رہا ہے۔ اگر میڈیا کچھ معاملات پر حکومت کی توجہ مبذول کروانا چاہتا ہے تو اِس میں سنسنی خیزی کہاں سے آگئی؟۔
وزیرِاعظم صاحب! آپ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی باتوں پر ہرگز دھیان نہ دیں کہ وہ تو ہیں ہی آپ کے دشمن لیکن کیا عدالتیں بھی آپ سے دشمنی پہ اُتر آئی ہیں؟۔ حال ہی میں سپریم کورٹ کے جسٹس مقبول باقرنے کہا ”نیب بد دیانت ہے یا نااہل“۔ ہم سمجھتے ہیں کہ آمر پرویز مشرف کا قائم کردہ یہ ادارہ نااہلی اور بددیانتی کا ملغوبہ ہے کیونکہ یہ لوگوں کو بنا کسی ثبوت کے پکڑتا ہے اور پھر سال چھ ماہ بعد اعلیٰ عدالتیں اُن ملزموں کو ضمانتوں پر رہا کرکے نیب کی ”رَج کے عزت“ بھی کرتی ہیں۔ اسلام آباد کے چیف جسٹس اطہر مِن اللہ نے نیب کی طرف سے سرکاری گھروں کی الاٹ منٹ کی فہرست پیش کرتے ہوئے اُسے خفیہ رکھنے کی درخواست پر کہا ”نیب، ججوں کو بلیک میل اور سکینڈلائز کرنے کی کوشش کر رہا ہے، کوئی جج بلیک میل نہیں ہوگا“۔ چیف جسٹس صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ پرویزمشرف نے تویہ ادارہ بنایا ہی لوگوں کو بلیک میل کرنے کے لیے تھا۔ پرویزمشرف کی حکومت کے خاتمے کے بعد ہر جمہوری حکومت نے اسے اپنے ”خفیہ ہتھیار“ کے طور پر استعمال کیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ادارہ اب بھی قائم ہے۔ حد یہ کہ سپریم کورٹ کے محترم ججز کے درجنوں فیصلے ایسے ہیں جن میں ججز نے بار بار لکھا کہ نیب کیسز بَدنیتی کی بنیاد پر بنائے جاتے ہیں اور لوگوں کو بغیر کسی ثبوت کے مہینوں اور سالوں تک جیل میں رکھا جاتا ہے لیکن مجال ہے جو نیب کے کانوں پر جوں تک رینگتی ہو۔ نیب ایسے معاملات پر بھی ہاتھ ڈالتا رہتا ہے جس کی اُسے سرے سے سُدھ بُدھ ہی نہیں ہوتی۔ ایل این جی ٹرمینل کیس میں ہائیکورٹ نے لکھا کہ نیب کے پاس ایل این جی جیسے معاملے کو سمجھنے کی اہلیت ہی نہیں ہے۔ اعلیٰ عدالتوں کے جج صاحبان بار بار نیب کے اختیارات کے ناجائز استعمال کے بارے میں لکھ چکے لیکن نیب ایسے فیصلوں کی سرے سے پرواہ ہی نہیں کرتا۔
دور مت جائیے تازہ ترین مثال جنگ، جیو کے چیف ایگزیکٹو میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری سب کے سامنے۔ اِس گرفتاری پر سارا میڈیا یک زبان کہ انکوائری رجسٹر ہوئی نہ انویسٹی گیشن، ریفرنس کا دور دور تک نام ونشان نہیں۔ پھر دوسری ہی پیشی پر کیسے گرفتار کر لیا؟۔ کیا یہ منافقت کی انتہا نہیں کہ ایک سینئر وزیر کے خلاف ریفرنس تک موجود لیکن چیئرمین نیب فرماتے ہیں کہ اگر اُسے گرفتار کر لیا تو حکومت خطرے میں پڑ جائے گی جبکہ دوسری طرف ایک ایسے شخص کو گرفتار کیا جاتا ہے جس کے خلاف نیب کی ”پٹاری“ میں کچھ بھی نہیں۔ اُنہیں 34 سال پہلے خریدی گئی زمین کے حوالے سے گرفتار کیا گیا حالانکہ اگر یہ کیس بنتا بھی ہے تو نیب کے دائرہئ اختیار میں نہیں آتا لیکن چونکہ جیو کے کچھ اینکرز نے ایسے پروگرام پیش کیے جو نیب کو قبول تھے نہ حکمرانوں کو اِس لیے میر صاحب کو دوسری پیشی پر ہی گرفتار کر لیا گیا۔ یہ تک نہ سوچا گیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا یہ فیصلہ موجود کہ اگر ملزم پیش ہو رہا ہو تو اُسے گرفتار کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اب یہ سوچنا وزیرِاعظم اور چیئرمین نیب کا کام کہ ”سدا نہ باغیں بلبل
بولے، سدا نہ باغ بہاراں“۔ جب اُن کے صحنِ اقتدار میں خزاں ڈیرے ڈالے گی تو یہ اظہر مِن الشمس کہ اُن کا حشر کیا ہوگا۔ شہرِ اقتدار تو وہ جگہ جہاں مقتدروں کا ڈنکا بھی بجتا ہے اور طوطی بھی بولتا ہے لیکن جب اقتدار کا ہما سر سے اُڑ جاتا ہے تو پھر
گورِ سکندر نہ ہے قبرِ دارا
مِٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے
قوم کا عالم تو یہ کہ حالات کی سنگینی کا سامنا کرتے کرتے اِس حالت میں پہنچ چکی کہ ”مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پہ کہ آساں ہو گئیں“۔ اب باری حکمرانوں کے گھبرانے کی لیکن اقتدار کا نشہ ہی ایسا کہ اچھا بھلا انسان بھی سُدھ بُدھ گنوا بیٹھتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں