119

چترال میں لاک ڈاون کے دوسرے روز کسی بھی مسافر ٹرانسپورٹ کو لواری ٹنل کے راستے چترال میں داخل نہیں ہونے دیا

چترال ( محکم الدین ) چترال میں لاک ڈاون کے دوسرے روز کسی بھی مسافر ٹرانسپورٹ کو لواری ٹنل کے راستے چترال میں داخل نہیں ہونے دیا گیا ۔ تاہم کچھ مسافر جو مشکل سے نیچے سے آرہے تھے ۔ پیدل چترال میں داخل ہو گئے ہیں ۔ جنیں سکریننگ کے بعد جانے کی اجازت دی گئی ۔ ضلعی انتظامیہ چترال کی طرف سے سفری پابندی اور دوسری طرف پیر کی رات سے مسلادھار بارش نے چترال شہر اور اطراف میں لاک ڈاون کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا ۔ بازاروں میں سبزی کی دکانیں اور جنرل سٹور اکا دکا مقامات پر کھلی ہوئی تھیں ۔ جہاں لوگوں کو سودا سلف خریدتے دیکھا گیا ۔ جبکہ زیادہ تر دکانیں اور کاروباری ادارے بند دیکھے گئے ۔ گذشتہ روز کراچی سے آنے والے پرکوسپ مستوج کے رہائشی مشتبہ مریض کو دروش سے واپس ٹیسٹ کے لئے پشاور بھیجنے کی خبر پھیلنے کے بعد مقامی لوگ الرٹ ہو گئے ہیں ۔ اور حساسیت بڑھتی جا رہی ہے ۔ جو کہ اچھی علامت ہے ۔ لیکن سوشل میڈیا اور اخبارات و الیکٹرانک میڈیا سے دور رہنے والے لوگ اب بھی باتوں پر یقین کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔ باوجودیکہ ملک کے اندر اور باہر اس کی وجہ سے انسانی جانوں کے ضیاع اور ملکی معاشی گھمبیر صورت حال کا سامنا ہے ۔ کراچی سے آنے والے پر کوسپ مستوج کے شجاع الرحمن ولد فضل الرحمن کو سفر کے دوران ٹمپریچر تھا ۔ جس کی وجہ سے دروش کے سکریننگ پوائنٹ سے ہی الخدمت فاونڈیشن کے ایمبولینس میں اسے واپس پشاور روانہ کر دیا گیا تھا ۔ جہاں سے اس کے ٹیسٹ رزلٹ کا انتظار ہے ۔ اس سے پہلے اسی گاوں ہی سے تعلق رکھنے والے نوجوان مجتبی کے ٹسٹ نیگیٹیو آئے تھے ۔ جنہیں بھی شک کی بنیاد پر ٹسٹ کیلئے پشاور ریفر کردیا گیاتھا ۔ چترال میں لاک ڈاون کی وجہ سے دیہاڑی دار افراد کو شدید پریشانیوں کا سامنا ہے ۔ کہ ایک طرف باہر نکلنے پر کرونا وائرس سے جانی نقصان کا اندیشہ ہے ۔ اور دوسری طرف گھریلو اخراجات کیلئے جتن کئے بغیر زندگی گزارنا مشکل ہے ۔ اس لئے وائرس اوربے روزگاری دونوں نےلوگوں کے ذہنوں پر بوجھ بڑھا دیا ہے ۔ اس بات کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ کہ کرونا کا یہ خوف اور لاک ڈان کا یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا ۔

Print Friendly, PDF & Email