102

سپر ہیروز ……..،تحریر ناہیدہ سیف ایڈوکیٹ

جب بھی کوئی مشکل وقت اتا ہے سپر ہیروز کا کردار ہمیشہ سرفہرست اور کردار اہم ہوتا ہے ،یہ عام لوگ نہیں ہوتے خاص لوگ ہوتے ہیں اور خاص کام ان کے سپرد کیے جاتے ہیں زندگی بچانے کا کام لوگوں کی فلاح کا کام انسانیت کے کام انے کا کام،ان کا تعلق کسی ایک ملک شعبے یا علاقے سے نہیں ہوتا یہ اپنے اپنے شعبوں میں لیڈ لائن پر کھڑے ہوتے ہیں اور بے مثال ہوتے ہیں مثلا اگر ان کی ایک شکل حالات جنگ میں ملک ،قوم کا دفاع کرتے ہوئے اپنی سرحدوں پر سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑے اپ کو نظر آتے ہیں تو دوسری شکل کرونا کے قہر کا سامنا کرتے ہوئے اپنی زندگی دائو پر لگا کر زندگیاں بچانے میں مصروف آپ کو نظر آئیں گے اور اپنی ذمہ داری کو ایمانداری کے ساتھ نبھاتے ہوئے ،
کہتے ہیں کسی بھی مقام تک پہنچنا شاید سب کے لیے ممکن ہو لیکن اس مقام پر فائز رہنا نہ ہر کسی کے بس کا کام ہوتا ہے نہ ہر کسی کے نصیب میں ہوتا ہے ، بہت سے راستے میں ہی گردن پر سریے کی وجہ سے منہ کے بل گرتے ہیں اور کچھ ایک براجمان رہتے ہیں اپنے کام سے ایمانداری یعنی اپنے کردار کی مظبوطی کی وجہ سے
ہمارے پیرا میڈیکل عملہ جس شدت ایمانداری اور احسن طریقے سے دکھ کی اس گھڑی میں اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہیں وہ ہمارے لیے قابل ستائش ہیں ہمارے رینجرز، ہماری پولیس سلوٹ ہے ان کو ، ان کی ہمت کو،
کافی عرصے کے بعد مجھے اپنے علاقے کے لوکل اخبارات کو پڑھنے کا موقع ملا تو مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ دونوں ضلعوں کی انتظامیہ بہت زمہ داری کا مظاہرہ دیکھا رہی ہیں نہ صرف چیکنگ کا بہت اسٹرک نظام برقرار رکھا ہے بلکہ سنٹائزر اسپرے بھی بازاروں میں کرا رہے ہیں اس مشکل موقع پر غفلت نہ بھرتنا اور فورا عملی اقدامات اٹھانا ایک بہت دور پار اور پسماندہ علاقے کی انتظامیہ کی طرف سے بہت بڑی بات ہے اور ہمیشہ کی طرح الخدمت فاونڈیشن میں کہتی ہوں اگر کوئی فلاحی ادارہ بنانا چائے تو ان سے سیکھنا چاہیے ان کے بے لوث رضا کار ہر مشکل وقت میں لوگوں کے شانہ بشانہ کھڑے اپ کو نظر آئیں گے چاہے سیلاب ہو زلزلہ ہو یا پھر کرونا ، کسی بھی تفریق کے بغیر ان کے ادارے سب کے لیےکھلے ہیں اور ان کی خدمت سب کے لیے ،یہی نہیں ان کے اداروں میں بہت مناسب خرچے پر بچے بچیاں کمفرڈ ماحول میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں یہ نہیں کہ نام فلاحی ادارہ اور کام غریبوں کی پہنچ سے دور،
اچھے کام کوئی بھی کرے ان کی حوصلہ افزائی ہونی چائیے اور یہ منافق کی نشانی ہوتی ہے کہ وہ نہ کھل کر برے کام پر تنقید کر سکتا ہے اور نہ ہی اچھے کام کی تعریف،
جب عوام کو ڈور اسٹپ پر چیزیں ملنا شروع ہو جاتی ہے تو ان کی زندگی آسان ہو جاتی ہے پی ٹی ائ حکومت کی طرف دو ضلعوں کا اعلان اور پھر اس پر عمل درآمد واقعی بہت بڑا کام اور بہت بڑا فیصلہ تھا جس کے لیے ہم ان کے شکر گزار ہیں وہ کام جن کو سالہا سالوں سے یہاں سے سیٹیں ملتی رہی وہ نہیں کر سکے لیکن اس حکومت نے کر کے لوگوں کا دل جیتا ہے حالانکہ یہاں سے کبھی پی ٹی آئی کو سیٹ نہیں ملی اس کے باوجود لوگوں کی دیرینہ خواہش کا احترام اور اسکا بھرم رکھا ،عوام کی سہولت کے کام یہ ہوتے ہیں کہ مشکل وقت میں ان کے کام ان کے نزدیک ہی ہو جائے ان کو دور نہ جانا پڑے باقی دو ایم پی اے ہو یا ایک ، اس سے عام لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا نہ ہی پڑنا چاہئیے، یہ چند لوگوں کی اپنی ذاتی خواہش ہو سکتی ہے لیکن عوام کا ان باتوں سے کوئی لینا دینا نہیں اور نا ہونا چائیے سب کو پتہ ہے کہ ممبرز دو ہو یا ایک ہو انہوں نے کونسے تیر مارنے ہوتے ہیں ، عوام کے لیے ان کی زندگی آسان ہونی چائیے جب ضلع بنتے ہیں تو غریب بندہ اپنا کام کر کے شام کو اپنا گھر پہنچ جاتا ہے اور جب حالات آج کل کی طرح ہو تو بہتر انداز میں نمٹ سکتے ہیں کسی کی طرف دیکھے بغیر ،اور یہ بہت بڑی بات ہوتی ہے خاص کہ ایسے موقعوں پر زیادہ احساس ہوتا ہے،
اس حالت میں ہم پر بھی یہ زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم ان سپر ہیروز کا ساتھ دے وہ اس طرح کہ بلاوجہ باہر نہ نکلے جو ہدایت ان کی طرف سے ملے ان پر عمل کرے جہاں رکے ہیں وہی رکے صبر کرے خود بھی پریشان نہ ہو دوسروں کو بھی پریشان مت کرے ، وہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں آپ کی بھلائی کے لیے کر رہے ہیں لہذا آپ پر فرض ہے کہ ذمہ دار انسان بنے اور حالات کے بہتر ہونے کا انتظار کرے
اخر میں میں ان تمام سپر ہیروز کو خراج تحسین پیش کرنا چاہوں گی میری دعا ہے کہ اس مشن میں اللہ تعالی اپ کا حامی ناصر ہو امیں

Print Friendly, PDF & Email