74

چترال ٹرانسپورٹ کرایوں میں من مانی، ضلعی انتظامیہ چترال کی خاموشی

چترال ( نمائندہ ڈیلی چترال)چترال کے عوامی حلقوں نے ٹرانسپورٹ کرایوں میں من مانی کے باوجود ضلعی انتظامیہ چترال کی خاموشی پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ اور کہا ہے ۔ کہ انتظامیہ دانستہ طور پر انکھیں بند کرکے عوام کو لوٹنے کیلئے ڈرائیوروں کو موقع فراہم کرتا ہے ۔ جبکہ اُس کے مقرر کردہ کرایہ ناموں پر چترال بھر میں عمل نہیں ہو رہا ۔ ہمارے نمائندے سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے سماجی شخصیت ضمیرالدین نے کہا ۔ کہ تیل کی قیمتیں 75روپے سے بھی کم ہو چکی ہیں ۔ اور صوبے کے دیگر اضلاع میں نئے کرایہ ناموں کے تحت کرایہ وصول کیا جاتا ہے ۔ جبکہ چترال میں تیل کی قیمتوں کی کمی کا کوئی فائدہ لوگوں کو نہیں پہنچ رہا ہے ۔ اور ڈرائیور بدستور من مانی کرتے ہوئے اضافی کرایہ وصول کرتے ہیں ۔ جس کا کوئی پُرسان حال نہیں ۔ انہوں نے کہا ۔کہ ڈرائیوروں کی اس من مانی سے سب سے زیادہ طالب علم متاثر ہوتے ہیں ۔ جن کا بوجھ والدین پر ہے ۔ انہوں کہا ۔ کہ یہ کہاں کا انصاف ہے ۔ کہ حکومت کے ذمہ دار آفیسران اور قانون کے ہوتے ہوئے ہر روز باعزت شہری کرایے کیلئے ڈرائیوروں کے ساتھ جھگڑتے رہیں۔ اور تھانوں کے چکر لگائیں ۔ اگر یہ ضلع صوبائی حکومت کے انڈر ہے ۔ تو اس کے ذمہ دار انتظامیہ کے آفیسران اپنے مقرر کردہ ریٹس کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کیوں نہیں کرتے۔ اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت ترین کاروائی کی بجائے کیونکہ مصلحت سے کام لیا جارہا ہے ۔ تاکہ عوام کو انتظامیہ کی کارکردگی نظر آئے ۔ انہوں نے کہا۔ اگر ڈرائیوروں کے ساتھ کرایوں میں کوئی ناانصافی ہو رہی ہے ۔ تو اُس پر بھی نظر ثانی کرکے ایسے کرایے مقرر کئے جائیں ۔ کہ روازانہ مسافروں کو ڈرائیوروں کے ساتھ کرایے کے سلسلے میں جھگڑنے کی نوبت نہ آئے ۔ سرکاری کرایوں پر عمدر آمد کے سلسلے میں ڈرائیور یونین کو پابند بنایا جائے ۔ضمیر الدین نے یہ بھی کہا ۔ کہ چترال میں سرکاری کرایوں کی سب سے زیادہ خلاف ورزی کرنے والے نان کسٹم پیڈ موٹر کار ( غوگئے ) کے ڈرائیور ہیں ۔ جو حکومت کو ٹیکس نہیں دیتے اور عوام کو بھی لوٹتے ہیں ۔ اس لئے اُن کے خلاف موثر کاروائی کی اشد ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ غوگئے والے پانچ روپے فی کلومیٹر کے حساب سے کرایہ وصول کرتے ہیں ۔ جبکہ ملک میں اعلی ترین ٹرانسپورٹ سروس کی فی کلومیٹر ریٹ تین روپے سے زیادہ نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ پشاور سے چترال کیلئے مقرر کردہ ریٹ بھی ایک مذاق بن گیا ہے ۔ جس پر ذرہ برابر عملدر آمد نہیں ہو تا ۔ اور پشاور کے گلی کوچوں میں پولیس کی ملی بھگت سے درجنوں اڈے قائم کئے گئے ہیں ۔ اور سادہ لوح چترالیوں کو لوٹا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ اگر تحریک انصاف کی حکومت واقعی کرپشن ختم کرنا چاہتی ہے ۔ تو پشاور کے گلی کوچوں میں قائم چترال کے اڈوں کو ختم کرے ۔ اور جنرل بس سٹینڈ سے چترال کیلئے گاڑیاں چلانے کا انتظام کرے ۔ تاکہ کم کرایوں پر لوگ اپنی منزلوں تک پہنچ سکیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ پشاور سے لوگوں کو رات کے وقت گاڑیوں میں سوار کرکے چوبیس سے تیس گھنٹے یرغمال بنایا جاتا ہے ۔ جو کہ انسانیت کی توہین ہے ۔اور دیر کے اڈے میں بھی مسافروں کے ساتھ ناروا سلوک جاری ہے۔دیر سے چترال کے لئے Raw 4گاڑیاں پندرہ سو روپے فی سواری لیتے ہیں اور غواگے کا کرایہ بھی دوگنا ہے۔انتظامیہ اس سلسلے میں کاروائی کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں