110

چترال کو ایمر جنسی ادویات اور طبی اوزار کی فراہمی صوبائی حکومت کی طے شدہ پالیسی ہے اس پر کریڈٹ لینا اخلاقی اور سیاسی طور پر قابل مذمت ہے۔سجاد احمد

چترال(نامہ نگار) چترال کو ایمر جنسی ادویات اور طبی اوزار کی فراہمی صوبائی حکومت کی طے شدہ پالیسی ہے اس پر کریڈٹ لینا نہ صرف اخلاقی بلکہ سیاسی طور پر بھی قابل مذمت ہے ان خیالات کا اظہار تحریک انصاف کے سینئررہنماء اور سابق صوبائی نائب صدر سجاد احمد خان نے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ کرونا و ائرس سے نمٹنے کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومت نے مختلف سطحوں پرمختلف پالیسیاں اور پروگرام ترتیب دیئے ہیں جن پر عمل درآمد جاری ہے۔ اور ضلع اور تحصیل کی سطح پر ہسپتالوں میں ضروری آلات اور تشخیصی اوزار کی فراہمی اس پروگرام کا حصہ ہے اس لئے اس حوالے سے کسی کی کو ششوں کی نہ تو ضرورت ہے اور نہ ہی اس کی کوئی اہمیت ہے انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت نے طبی سہو لیات کے ساتھ ساتھ صوبے کے انیس لاکھ خاندانوں کو مالی معاونت دینے کا بھی اعلان کیا ہے جس پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہے اور اس حوالے سے اعداد و شمارجمع کرنے کے بعد متعلقہ اداروں کے ذریعے مستحق افراد کو خاطر خواہ امداد فراہم کی جائیگی اور یہ تمام کام صوبائی حکومت اپنے وسائل سے اور ایک پالیسی کے تحت انجام دے رہی ہے اس حوالے سے کوئی بھی تیسرے درجے کا سیاسی ورکر کریڈ ٹ لینے کی آئندہ بھی کو شش نہ کرے انہوں نے کہا کہ فی الحال کرونا وائرس کے خلاف حکومت اور قوم مشترکہ طور پرلڑ رہے ہیں اور انشاء اللہ باہمی تعاون سے اس عفریت سے جلد قوم نجات پائیگی انہوں نے صوبائی حکومت خصوصاً صوبائی وزیر اعلیٰ محمود خان، پی ٹی آئی مالاکنڈ ریجن کی قیادت اور ممبر صوبائی اسمبلی وزیر زادہ کی کو ششوں کو سراہتے ہو ئے امید ظاہر کی کہ انشاء اللہ چترال میں اس وباء کے حوالے سے جو بھی ضروری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہو ئی وہ اٹھائے جائینگے اور عوام کوکسی قسم کی تکلیف سے ممکنہ حد تک تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

Print Friendly, PDF & Email