105

لیکشن بی بی کا پیغام چترال کے نام ……محکم الدین اویونی

کا لاش قبیلے سے تعلق رکھنے والی چترال کی معروف بیٹی لیکشن بی بی کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے۔ جس میں اُس نے امریکہ کے شہر نیو یارک میں کرونا وائرس کی تباہ کاریوں کا نقشہ کھینچ کر چترال کے لوگوں سے اس حوالے سے احتیاطی تدابیر اپنانے کی اپیل کی ہے۔ لیکشن بی بی چترال کی ایک قابل بیٹی ہیں اور گذشتہ کئی سالوں سے امریکہ کے شہر نیو یارک میں رہائش پذیر ہیں۔ یقینی طور پر اس ویڈیو کو سینکڑوں لوگوں نے دیکھا ہو گا۔ اور مزید دیکھیں گے۔ انہوں نے اس ویڈیو میں جو پیغام دینے کی کوشش کی ہے۔ وہ نہایت ہی قابل توجہ ہے۔ اُس نے سب سے پہلے اس بات پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا ہے۔ کہ چترال جیساپسماندہ علاقہ بھی کرونا وائرس کے ممکنہ خطرات سے محفوظ نہیں ہے۔ جہاں وسائل کی بہت کمی ہے،خاص کر طبی سامان کی شدید کمی کے باوجود ڈاکٹرز، پیرا میڈیکس اور نرسز خدمات انجام دینے کیلئے مستعد ہیں۔ جس کیلئے وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ انہوں نے مزید کہا ہے۔ کہ خد ا کیلئے چترال کے لوگ کرونا وائرس کو مذاق نہ سمجھیں۔ نیو یارک میں گھر اور ہسپتال مریضوں سے بھر گئے ہیں۔ اب ڈاکٹرز یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں ۔ کہ کس مریض کا علاج کیا جائے۔ میں خود بھی ایک ہفتے سے قرنطینہ میں زندگی گزار رہی ہوں۔ بظاہر ویڈیو پر یہ پیغام عام سی بات لگتی ہے۔ جو ہم سوشل میڈیا پر روز دیکھتے ہیں۔ لیکن اس ویڈیو کو امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک کے تناظر میں دیکھا جائے۔ تو یہ انتہائی طور پر وحشت ناک ہے۔ پوری دُنیا پر اپنی دھاک بیٹھانے والا امریکہ جو اپنے ایک شہری کیلئے پوری دُنیا کے ساتھ جنگ وجدل کیلئے تیار ہوتا ہے۔ آج اُس کی بے بسی کا یہ عالم ہے۔ کہ ہسپتال اور ڈاکٹر کم پڑ رہے ہیں۔ اور مریضوں کا ہجوم ہسپتالوں کی طرف رُخ کئے ہوئے ہیں۔ جہاں ڈاکٹر اب یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہیں۔ کہ مریضوں میں کس کا علاج کیا جائے۔ اس نگاہ سے ہم اگر اپنے علاقے کو دیکھتے ہیں۔ تو لے دے کے دونوں اضلاع کا ایک ڈی ایچ کیو ہسپتال ہے۔ جس پر عام حالات میں بھی پورے چترال کے مریضوں کا انحصار رہتا ہے۔ اور ڈاکٹروں کی کمی، خستہ ھال غیر فعال لیبارٹری، طبی سامان کی نایابی اس کے وراثتی مسائل ہیں۔ جس میں ہر حکومت کی کوتاہی اور ناعاقبت اندیشی کا اپنا اپنا حصہ ہے۔ اس کے باوجود ہسپتال میں موجود ڈاکٹرز، پیرا میڈیکس اور نرسز اپنی بساط سے بڑھ کر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ کرونا وائرس کی وبا جہاں ملک کے ڈاکٹروں کیلئے نیا ہے۔ وہاں چترال کے ڈاکٹروں کیلئے اس وائرس سے نمٹنا ایک تجرباتی مرحلہ ہے۔ اس حوالے سے اب تک چترال کے ڈاکٹروں کو ٹریننگ دی گئی ہے۔ اور نہ تاحال اس وائرس سے بچنے کیلئے مخصوص لباس سمیت جملہ سامان فراہم کئے گئے ہیں۔ ایسے میں مشتبہ مریضوں سے ڈیلنگ کے سلسلے میں متعلقہ اسٹاف کی ہچکچاہٹ فطری امر ہے۔ جب تک ایک ڈاکٹر پیرامیڈیکس اور نرس کو خود تحفظ فراہم نہیں ہو گا۔ وہ مریض کی کیا مدد کر سکے گا۔ حکومتی سطح پر آئے روز میڈیا پر کئے جانے والے اعلانات بھی بے نتیجہ ہیں۔ جو بات کی جاتی ہے اُس پر عمل نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسی طرح ضلعی سطح پر جواحکامات دیے جاتے ہیں۔ فیصلے اور عملدر آمد میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ مثلا لواری ٹنل کے راستے کو بند کرنے کے حوالے سے ممبران اسمبلی ضلعی انتظامیہ نے متفقہ فیصلہ کیا تھا۔ مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے۔ کہ نیچے سے لوگوں کی آمد کا سلسلہ سابقہ کی طرح جاری ہے۔ کوئی روک ٹوک نہیں ۔ اُن کی صحیح معنوں میں سکریننگ بھی نہیں کی جاتی، اور نہ ٹریولنگ ڈٰیٹا حاصل کیا جاتا ہے۔ یوں غفلت اور غیر ذمہ داری کا سلسلہ جاری ہے۔ کرونا وائرس کے خوفناک سایے نے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر مریضوں اور ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن ہمارے چترال میں احتیاطی تدابیر کو ہوا میں اُڑایا جا رہا ہے۔ گویا کچھ بھی نہیں ہونے والا۔ اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو۔لیکن ملکی حالات کو دیکھ کر ایسا نہیں لگ رہا ہے۔ کہ یہ آ فت بہت جلد اور بغیر نقصان کے تھمنے والا ہے۔ اس لئے چترال کے لوگوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔ اور احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرنے کی ضروت ہے۔ جس میں لوگوں سے فاصلہ رکھنا، حد میں رہنا،ہاتھوں کو دھونا وغیرہ شامل ہیں۔ چترال کو زیادہ خطرہ باہر سے آنے والے مسافروں سے ہے۔ کیونکہ یہ وائرس مختلف شہروں میں پھیل چکا ہے۔جہاں سے لوگ خوف کے مارے اور کام بند ہونے کی وجہ سے گھروں کا رخ کر رہے ہیں۔اسی طرح بازاروں میں کُھلی دکانوں میں بھی احتیاط نہیں برتا جاتا۔ ماسک کا ا ستعمال اور ہاتھوں کو بار بار صابن سے دھونے کا عمل نہ ہونے کے برابر ہے۔ مساجد اور دیگر عبادت گاہوں میں لوگوں کا رش پہلے سے بڑھ گیا ہے۔ اور حکومتی ہدایات کو جوتی کی نوک پر اُڑایا جا رہاہے۔اس سے ایسا لگتا ہے۔ کہ چترال کے لوگوں کو کرونا وائرس کی تباہ کاریوں کے بارے میں ذرا برابر علم نہیں۔ یا کسی بڑے حادثے کا انتطار کر رہے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email