161

ہفتے کے روز فلائنگ کوچ کا جو حادثہ ہوا وہ پشاور سے نہیں عشریت سے آرہا تھا۔یہ انٹرا ڈسٹرکٹ ٹرانسپورٹ تھی

چترال( نمائندہ ) ڈپٹی کمشنر چترال نوید احمد نے ایک آن لائن اخبار میں چھپی خبر کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ رپورٹنگ کرتے ہوئے کم تحقیق کیا کریں بلاتحقیق کے خبریں شائع نہ کریں۔اُنہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی بار بار تاکید کے باوجود ملک کے مختلف حصوں سے بڑی تعداد میں چترالی عوام چترال آنے کی کوشش کرتے ہیں اور عوام کی بڑی تعداد ضلع چترال میں داخل ہوچکی ہے ان میں سے 346افراد کو چترال میں 30قرنطینوں میں رکھا گیا۔ چترال میں کورونا وائرس پھیلنے کے خدشہ کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے مسافر گاڑیوں کی چترال داخلے پر پابندی لگائی ہے۔اکثر لوگ لواری ٹنل تک گاڑیوں میں پہنچتے ہیں اور ٹنل کو پیدل کراس کرتے ہیں۔ہفتے کے روز جس گاڑی کا حادثہ ہوا اُس میں اپر چترال کے لوگ تھے جو بڑی تعداد میں صبح کے وقت ٹنل کراس کر پہنچے تھے جن میں عورتیں بھی شامل تھیں۔اُن کے لئے ضلعی انتظامیہ لوئر چترال نےانسانی ہمدردی کی بنا پر گاڑیوں کا بندوبست کیا اوراُنہیں اپر چترال کے لئے روانہ کیا۔اُنہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے ابھی تک ایسے پیدل آنے والے سینکڑوں افراد کے لئے گاڑیوں کا بندوبست کرکے اُنہیں اپر ضلع پہنچایا۔اُنہوں نے ضلع سے باہر چترالیوں سے اپیل کیا کہ وہ ان حالات میں چترال آنے کی ہرگز کوشش نہ کریں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں تاکہ یہ ضلع اس موذی وبا سے محفوظ رہے۔اُنہوں نے کہابین اضلاع کے مسافروں کی آمدورفت پر پابندی عائد کردی ہے جس پر کارروائی کی جارہی ہے۔ چترال کے مختلف علاقوں سے آنے والے مسافر نجی گاڑیوں میں سفر کر رہے ہیں جس پر حکومت نے پابندی نہیں عائد کی ہے۔ ہفتے کے روز فلائنگ کوچ کا جو حادثہ ہوا وہ پشاور سے نہیں عشریت سے آرہا تھا۔یہ انٹرا ڈسٹرکٹ ٹرانسپورٹ تھی۔اُنہوں نے کہا کہ پابندی کے باوجود اگر کوئی چترال میں داخل ہونے کی کوشش کریگا تو اُنہیں قرنطینہ میں رکھا جائے گا۔

Print Friendly, PDF & Email