200

کرونا وائرس اور ہمارے منفی رویے : تحریر :ناہیدہ سیف ایڈوکیٹ

کرنا وائرس نے پوری دنیا میں اپنے پنجرے گاڑ دیئے ایک طرف لوگوں کے لیے دو وقت کی عزت کی روٹی کمانا مشکل ہو گئی ہے کاروبار ٹھب گیا ہے دیہاڑی دار طبقہ پس رہا ہے معاشی حالت ابتر سے ابتر ہو رہی ہے ، ان حالت میں ممالک اپنے عوام کو اس مشکل صورتحال سے نکالنے کا سوچ رہے ہیں اس وبائی امراض سے نکلنے کے راستے تلاش کر رہے ہیں لیکن ہمارے ملک میں اس پر بھی سیاست شروع ہو گئی ہے ایک دوسرے کو نیچھے دیکھانے کے چکروں میں لوگوں کے اصل مسئلے کہیں دب کہ رہ گئے ہیں جو کہ غور طلب اور افسوسناک ہے بہت سے ایسے لوگ جن کو سفید پوش کہا جاتا ہے جو کسی حالت میں بھی کسی سے کچھ نہیں مانگتے نہ ہی کسی سے کچھ لیتے ہیں ان کی خود داری اور ان کی عزت نفس ان کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے وہ اس کے ساتھ نہ کمپرومائز کرتے ہیں نہ ہی اپنے وقار کو کسی صورت کھونے دیتے ہیں اسلام میں بھی ایسے لوگوں کو ڈھونڈ کر ان کی مدد کرنے کا حکم دیا گیا ہے کہا گیا نیکی ایک ہاتھ سے کرو تو دوسرے ہاتھ کو خبر نہ ہو یہ جو طبقہ ہے اس تک ضرورتیں پہنچانا سب سے مشکل کام اور بہت بڑا امتحان ہے ستم ظرفی یہ ہے کہ ہم اپنے اخلاقی اقدار اس حد تک کھو چکے ہیں کہ تھوڑے سے بھی کسی کی مدد کرے تو فوٹو کھینچوا کر سوشل میڈیا پہ ڈال کر ریا کاری کرنی ہے اور داد وصول کرنا ہے اگر ہم نے کسی کی عزت نفس مجروح کر کے ہی نیکیان کمانی ہے تو دعا ہے کہ اللہ ہماری نیکیاں معاف فرمائے کہتے ہیں نیکی کر کے سنبھالنا مشکل کام ہے ، ہم نے ہر رات کو اذانیں دینی شروع کر دی ہے عبادتیں بھی لمبی ہو گئی ہیں بہت اچھی بات ہے کیا ہی اچھا ہو ان دنوں سے فائدہ اٹھا کر جو ہمارے مذہب کا اصل مقصد اور جز ہے اس کی طرف سوچے یعنی اخلاقیات،اخلاق یہ نہیں ہوتا کہ کسی کو دیکھ کر بھونگوں کی طرح بتیسی نکالنا، اخلاق یہ ہے کہ اپنے کام سیدھے کرے،اپنا ضمیر کو جگا کر رکھنا اور اس کی عدالت میں خود کو پیش کرتے رکھنا کہ آج میں نے کونسا کام صحیح کیا اور کونسا غلط، منافقت ریاکاری ،بے ایمانی سے بچنا ، انہیں اعلی اقدار اور اخلاقیات کہتے ہیں لیکن ہماری اخلاقی پستی دو گنا بڑھ رہی ہے موت سامنے کھڑی ہے لیکن ہم میں لالچ کم نہیں ہو رہا چیزیں ہم نے دگنی کر کے بھیجنی ہے ذخیرہ اندوزی ہم نے کسی حال میں بھی نہیں چھوڑنا چائیے ہمیں اس دنیا میں رہنا ہے یا نہیں لیکن عادت تو عادت ہوتی ہے عادت کب بدلتی ہے
ایک حساس بندہ دنیا ملک اور لوگوں کے حالات حاضرہ سے خود کو کبھی غافل نہیں کر سکتا۔
ان حالت میں جہاں لوگ پریشان ہیں ملک جس کو پہلے ہی بے دردی سے لوٹا گیا ہے ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھ کر حالات ٹھیک کرنے اور ایک دوسرے کا ساتھ دینے اور عوام کا سوچنے کی بجائے ہمارے سیاسی اداکار اپنے فن دکھانے میدان میں اتر چکے ہیں سابقہ اور موجودہ دونوں اپنے اپنے چورن بڑی مہارت کے ساتھ میڈیا میں بھیجے کے کوششوں میں مصروف ہیں ان سے کبھی یہ نہیں ہوتا کہ اپنی جیب سے کبھی کسی کی مدد ہو جائے مجال ہے یہ تو ملک لوٹ کر کھانے کے عادی ہیں ان کے گھر کا راشن بھی عوام ہی پے کرتی ائی ہے ان کو عوام نے ہی ہمیشہ اپنے ووٹ اور ٹیکس سے پالا ہے لیکن برے وقت میں یہ کبھی بھی عوام کی مدد نہیں کر سکتے میڈیا پر بیانات دے کر ہم پہ جیسا کہ بہت احسان کر رہے ہیں ،خواب تو انکا بھی سامراٹ بننے کا ہے مجبوری یہ ہے کہ آجکل یہ ممکن نہیں کوئی بننے نہیں دے گا کیونکہ ووٹ کے لیے پھر لوگوں کے دروازے رگھڑنے ہیں ملک فتح کر کے تو آئے نہیں خیر بڑے کام کی امید ہمیشہ بڑے لوگوں سے رکھنی چائیے اور بڑے لوگوں سے میری مراد باضمیر،باشعور ،باکردار ،ایمانداراور وژنری لوگ ہیں۔
سوشل فاصلہ ،تنہائی فی الحال اس وبائی مرض کی دوا ہے بہت سے لوگ شاید اکتا بھی جاتے ہونگے کیونکہ کافی لمبا ہوتا جا رہا ہے لیکن ہمیں کبھی بھی کسی چیز کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دینا چائیے ہمیں اپنے اوپر اتنا کنٹرول ہونا چائیے کہ کسی چیز کو اپنی عادت نہ بنائے اور نہ ہی کسی چیز کو اپنی کمزوری بنائے، حالات جیسے بھی ہو اس میں ڈھلنا اور اس کو یوٹیلائز کرنا آنا چائیے ، اور ثابت قدمی سے اس سے نکلنے کی ہمت ہونی چائیے خود کو اور دوسروں کو پریشان کرنے کی بجائے اس وقت کو بہت اچھی طرح سے ہم گزارا سکتے ہیں مثلا اچھی کتابیں پڑھ سکتے ہیں اپنے مذہب کو سیرت کی کتابیں پڑھ سکتے ہیں اپنے تاریخی ہیروز کو پڑ سکتے ہیں اور شعور ہمیشہ با کردار ایماندار لوگوں کی زندگی پڑھنے سے آتی ہے زندگی بدل سکتی ہیں ہمیں اپنے ہیروز کو پڑھنا چاہئے ہمارے آئیڈیل وہی ہونے چاہئے ہماری تاریخ بہت مظبوط ہے ضرورت نہیں ہے دوسروں کو فالو کرنے کی ۔دوسروں کو وہی لوگ فخر سے فالو کرتے ہیں جن کے ابائو اجداد نے صدیوں سے فرنگیوں سے مراعات کے لیے مذہب ، ملک علاقوں کے ساتھ عوام کے ساتھ غداری کر کے ان کے مخبر بن گئے تھے جو کہ کسی نہ کسی صورت میں اب بھی جاری ہے ان کی کتابوں میں ان کی وفاداری درج ہیں،جو چیز مذہب ، ملک اور قوم کے ساتھ غداری کر کے ملے اس پر تھوک دینا چائیے،کوئی بھی بہادرقوم اور تہذیب عزت اپنے ہم پلہ اور بہادر لوگوں کو دیتے ہیں کٹھ پتلیوں سے کام نکلوا کر چھوڑ دیا جاتا ہے کٹھ پتلیوں کی عزت کوئی نہیں کرتا تاریخ میں وہ دفن کیے جاتے ہیں اور بہادر لوگ تاریخ میں زندہ رہتے ہیں ، کچھ دنوں سے میں ایک ڈرامہ دیکھ رہی ہوں میری بیسڈ اور کالج زمانے کی پرانی سہیلی جو کہ باہر ہوتی ہے اسٹوڈنٹ لائف سے ہی جب ہم سب دوست مل کرگروپ اسٹڈی کرتے تو عادت تھی اچھی بات ایک دوسرے کو بتانے کی اچھی شاعری سنانے کی اچھی چیزیں شئیر کرنے کی اچھی کتاب پڑھنے کی، یہ سب چلتا تھا،اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب اپ اپنا دوست سرکل بنا رہے ہوتے ہیں جو کہ ہمیشہ قائم رہتا ہے اور اچھے دوست اسی زمانے میں ہی مل سکتے ہیں گھر سے نکلتے وقت یہ بات کانوں میں ڈال دی جاتی ہے اپنی صحبت اچھے لوگوں کے ساتھ رکھنا بندہ اپنے دوستوں سے پہچانا جاتا ہے کہتے ہیں کہ اچھے دوست نصیب والوں کو ملتے ہیں اور جہاں اپ کا مینٹل لیول نہ ملے وہاں برسوں بھی وقت گزارے تو اپ کی دوستی نہیں ہو سکتی خیر اس نے مجھے مشورہ دیا اس ڈرامہ کو دیکھنے کا ،میں آپ کو کہنا چاہوں گی خاص کر نوجوان اس کو ضرور دیکھے یہ ترکی کا ڈرامہ ہے جو کہ ترکی کے صدر طیب اردگان صاحب کی خواہش اور ان کی سپروائزری میں بنا ہے جب اردگان صاحب پاکستان آئے تھے تو ہمارے وزیر اعظم صاحب نے کہا تھا کہ اس ڈرامے کو پاکستان میں بھی دیکھایا جائے یہ ڈرامہ سلطنت عثمانیہ اور مسلم دنیا کے عظیم ہیرو ارطغرل غازی کے اوپر بنایا گیا ہے اور بہت ہی کمال کا بنا ہے یہ ڈرامہ میں جب دیکھ رہی تھی تو میں ایک لمحے کو سوچ رہی تھی یا اللہ کیا ہمارے نصیب میں یہی چور چکاری کرنے والے لوٹ کھسوٹ والے چھوٹی سوچ کہ حکمران لکھے ہیں جن کا وژن ملک لوٹ کر باہر اپنے اکائونٹ بھرنے ہوتے ہیں ہمیں بھی اس وقت پیدا کرتے ان کے ساتھ بہادری سے جیتے اور مرتے مزہ بھی اتا ، اپ کو بھی مزہ اتا ہو گا اپنے ان ایماندار ، اعلی کردار جانباز بہادر اور انصاف سے لبریز دل دناغ سے رچے ہوئے ان بندوں کی مدد کرتے ہوئے، اور ان کے ہاتھ اسلام کی بلندی دیکھتے ہوئے اور موجودہ اس مخلوق کی کرتوتوں کو دیکھ کر اپ ان کی طرف دیکھنا بھی شاید گوارہ نہیں کرتے ہونگے جنکا معیار شرمناک اور اخلاقی پستی خطرناک ہے ،اسی لمحے بریکنگ نیوز پر میری نظر پڑی کہ اٹا چینی کے ذخیرہ اندوزی میں ملوث لوگوں کی فرانزک رپورٹ پبلک کر دی گئی جس میں حکومت کے وزراء اور خان صاحب کے کچھ ساتھی بھی شامل ہیں جب نام دیکھ رہی تھی تو خسرو بختیار صاحب کا نام دیکھ کر مجھے دکھ ہوا کہ جن کو نئی نئی دولت ملی ہو ان میں لالچ کا انا سمجھ اجاتی ہے کیونکہ نو دولتیہ کے ہاتھ جب کچھ آتا ہے تو وہ ہ ادھر ادھر سے کسی طریقے سے بھی جمع کرنے کے چکروں میں ہوتا ہے کیونکہ صحیح غلط میں تمیز اس نے سیکھا نہیں ہوتا ، اس کے نزدیک لوگوں کو بے وقوف سمجھنا اور بنانا کامیابی ہوتی ہے چونکہ پہلی دفعہ چیز دیکھی ہوتی ہے تو اسی فکر میں ہوتا ہے کہ دوبارہ مجھ سے چھین نہ جائے چلی نہ جائے اس کے اندر کی غریبی اور بھوک،حرص ہمیشہ ذندہ رہتی ہے کبھی نہیں مرسکتی لیکن ایک مظبوط بیگ گرائونڈ کا بندہ ہمیشہ شاہانہ مزاج رکھتا ہے چائیے اس کے پاس کچھ ہو یا نہ ہو اس کو کوئی فرق نہیں پڑتا خسرو بختیار جیسے بیک گرائونڈ کے بندے کا ایسے کاموں میں ملوث ہونا واقعی تکلیف دہ ہے بہرحال غلط کام کی کوئی جسٹیفیکئشن نہیں ہو سکتی، اس ملک میں پہلی دفعہ کسی حکومت نے اپنی حکومت میں اپنے وزیروں اور دوستوں کی غلطیوں کو سامنے لانے کی جسارت کی ہے اور یہ کوئی چھوٹی بات نہیں ہے یہ خبر سن کر دل کو تھوڑا ڈھارس ملا اور دل سے دعا نکلی یا اللہ جو امید کی روشنی نظر آئی ہے اس کو بجھنے مت دینا ہمارے بہادر اسلاف کے صدقے جنہوں نے اپنے مذہب اپنی تہذیب پر کبھی انچ نہیں انے دیا اور تیری مدد سے دنیا پر امامت کی ،امت مسلمہ کے جس حکمران میں بھی اپنے مذہب ،ملک اور لوگوں کے لیے درد ہے ان کی مدد فرما اور ہمیں بھی توفیق دے کہ ہم بھی اپنا تھوڑا حصہ اس میں شامل کر سکے غلط کو غلط کہنے کی جرت ہمیں عطا فرما بد دیانت، بے ایمان اور بد کردار سوچ کی حوصلہ شکنی کرنے ان سے منہ موڑنے کی ہمت ان کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے کی ہمت، لوگوں میں شعور لانے کی ہمت اپنے ہاتھ کے ذریعے زبان کے ذریعے اپنی قلم کے اسی جگنو کی طرح جو شاید اپنی روشنی سے پورا نہیں تو تھوڑا راستہ ہمیں دیکھا دیتا ہے جو امید دلاتا ہے اور اس چڑیا کی طرح جب تیرے خلیل کو آتش نمرود میں پھینکا گیا تو اپنے چونچ میں پانی لاکر اسے بجھانے کی کوشش کرتا رہا اس امید سے کہ میں آگ لگانے والوں میں نہیں بجھانے والوں میں شمار ہونگا ، اس امید کو ہماری طاقت بنانا، اور ہمارے اخلاقی پستی اور منفی رویوں کی وجہ سے جو وبائی مرض ہم پہ مسلط کر دی گئی ہے اس کے شر سے ہمیں محفوظ رکھنا ہماری گرفت مت کرنا ہمیں معاف کرنا اور اس کائنات پر اپنی رحمت برسانا مرے خدا تجھے تیرے حبیب رحمت للعالمیں (ص) کا واسطہ امیں

Print Friendly, PDF & Email