60

چترال میں اگر خدانخواستہ کرونا وائرس سے کوئی متاثر ہوا تو کمشنراورڈی سی ذمہ دارہونگے/ایم پی اے

چترال (نمائندہ ) چترال سے صوبائی اسمبلی کے رکن مولانا ہدایت الرحمن نے گزشتہ دن کرکٹ اسٹار شاہد افریدی کے چترال آمد کے موقع پرحالات کو خراب کرنے کی ذمہ داری کمشنر ملاکنڈ اور ڈی سی چترال پر ڈالتے ہوئے کہا کہ تمام سیاسی پارٹیوں اور سول سوسائٹی تنظیموں کو یکسر نظر انداز کردیئے گئے جوکہ کرونا وائرس کے خلاف عوامی آگہی اور لاک ڈاؤن کو کامیاب بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتے رہے ہیں جبکہ انتظامیہ نے دفعہ 144کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خود ہی قانون کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی جس سے عوام میں شدید مایوسی پھیل گئی ہے۔اتوار کے روز امیر جے یو آئی لویر چترال مولانا عبدالرحمن، نائب ا میر جے یو آئی اپر چترال مولانا فتح الباری،جنرل سیکرٹری جے یو آئی انعام میمن، جے یو آئی کے رہنما قاری جمال عبدالناصر اور مولانا عبدالسمیع آزاد،امیر جماعت اسلامی مولانا جمشید احمد،تحصیل صدر پی پی پی عالم زیب ایڈوکیٹ، آل پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما محمد کوثر ایڈوکیٹ، ساجد اللہ ایڈوکیٹ اورپی پی پی کے ترجمان قاضی فیصل اور دوسروں کی موجود گی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ چترال کے کسی علاقے میں اگر خدانخواستہ کرونا وائرس سے کوئی متاثر ہوا تو ان دو افسران کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ان افسران نے دفعہ 144کی خلاف ورزی کرکے سوشل ڈنٹنسنگ کا بیڑا عرق کرنے کے بعد برات کی مبارک شب کو محفل موسیقی سجاکر قہر الٰہی کو دعوت دے دی۔انہوں نے کہاکہ ڈپٹی کمشنر اور ایم پی اے کے درمیان ٹیلی فونی گفتگو کو ریکارڈ کرکے سوشل میڈیا میں وائرل کردیا جس سے عوام میں مزید بے چینی پھیل گئی۔ انہوں نے کہاکہ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر نے پے در پے غلطیوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ضلعے میں تعینات سرکاری افسران کو ان کے خلاف اکسانے کی کوشش کی ہے جس سے سرکاری ملازمین اور علاقے کا منتخب نمائندہ کا آمنے سامنے آنے کا خطرہ پید اہوگیا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ اور چیف سیکرٹری سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ دونوں افسران کے خلاف انضباطی کاروائی عمل میں لایا جائے تاکہ کسی اور کو اس طرح کی غلطی کرنے کی ہمت نہ ہو۔انہوں نے اس اس بات پر زور دیاکہ علاقے کی بہترین مفاد میں اور کرونا وائرس کو علاقے سے دور رکھنے میں عوام اختیاطی تدابیر اور حکومت کے ساتھ تعاون کا سلسلہ بدستور جاری رکھے گا۔اس سے قبل آل پارٹیز اور سول سوسائٹی کے تنظیموں کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اس کشیدہ صورت حال کا تفصیل سے جائزہ لے کر اسے حل کرنے کی تجاویز پر غو ر ہوا۔

Print Friendly, PDF & Email