260

پی ٹی آئی حکومت کرونا سمیت دیگر مسائل کے باوجود اس پسماندہ ضلعے میں ترقیاتی کاموں کاجال بچھانے میں مصروف ہے/ معاون خصوصی برائے اقلیتی امور وزیر زادہ

چترال (نمائندہ ڈیلی چترال)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اقلیتی امور وزیر زادہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کرونا سمیت دیگر مسائل کے باوجود اس پسماندہ ضلعے میں ترقیاتی کاموں کاجال بچھانے میں مصروف ہے جوکہ وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ محمود خان کا اس علاقے سے خصوصی محبت کا مظہر ہے اور 3کروڑ 60لاکھ روپے سے ذیادہ لاگت سے ائر پورٹ روڈ کی خصوصی مرمت پرکام شروع کرنا اس کا ایک مثال ہے۔ پیر کے روز چترال ائر پورٹ روڈ کی خصوصی مرمت پر کام کا افتتاح کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سیاحت کی ترقی کے لئے چترال شہر کو خوب صورت بنانے (beautification)کا منصوبہ 37کروڑ روپے کی مالیت سے چند ماہ کے اندر چالو ہوگا جس میں چترال شہر کو اس کے ثقافت کے عکاس بناتے ہوئے پبلک مقامات کی تزئیں وارائش کا کام کرکے چترال ٹاؤن کو آئینہ کی طرح سجایاجائے گا۔ سڑکوں کے منصوبہ جات کے بارے میں انہوں نے کہاکہ ارندو روڈ کے لئے 2ارب روپے کا منصوبہ ECNECکی منظوری کے لئے بھیج دی گئی ہے جس کے نتیجے میں افغانستان کے ساتھ تجارت کو فروغ ملے گی اور اس کاخوشگوار ضلعے کے دیگر علاقوں پر بھی پڑے گا۔ انہوں نے کہاکہ اس علاقے سے پی ٹی آئی کو گزشتہ الیکشن میں 200ووٹ بھی نہیں ملے تھے مگر ہمیں علاقے کی ترقی عزیز ہے اس لئے اس بات کے قطع نظر اور علاقے کے وسیع تر مفاد میں اس منصوبے کو شامل کرائی۔ انہوں نے مزید بتایاکہ مواصلات کے شعبے میں ارندو گول، سویر اور اپر چترال کے ہرچین (لاسپور)کے مقام پر ڈیڑھ ارب روپے مالیت سے تین ٹرک ایبل پل 2020کے اے ڈی پی میں شامل کرادیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مواصلات ہی کے شعبے میں اورغوچ میں 3کروڑ روپے، سویر میں 2کروڑ روپے اور سوسوم کریم آباد میں 10کروڑ روپے اے ڈی پی میں شامل کرلیا گیا ہے جبکہ جاپان حکومت کی مدد سے 40کروڑ روپے کی مالیت کے تین مزیدپل واشچ، نشکو اور بریپ میں تعمیر کئے جائیں گے۔
وزیر زادہ نے چترال کی ترقی کے حوالے سے سیاحت کے شعبے کا سب سے پہلے ذکر کرتے ہوئے کہاکہ پی ٹی آئی حکومت نے چترال میں ٹورزم کی بے پناہ پوٹنشل کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ اگر صوبے میں ٹورز م کو ترقی دینا ہے تو چترال کے بغیر یہ ممکن نہیں ہوگااور صوبے میں ٹورزم کو خصوصی ترقی دینے کے حوالے سے جن چار مقامات کا انتخاب کیا گیا ہے،ان میں چترال مداک لشٹ بھی شامل ہے جس کے لئے ماسٹر پلان تیاری کے مراحل میں ہے اور اس پر 5ارب روپے کی خطیر رقم خرچ کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ ضلعے کے دوسرے مقامات پر بھی سیاحت کی ترقی کے لئے ایسے اقدامات کئے جارہے ہیں کہ یہاں پر ہزار وں افراد اس شعبے سے وابستہ ہوکر رزق کماسکیں۔ ان کا کہنا تھاکہ کھیل و ثقافت کے شعبے میں پہلی مرتبہ اپر اور لویر چترال کے اضلاع میں واقع 16پولوگراونڈز کی تعمیر ومرمت کا کام کرانے کے لئے 12کروڑ روپے ریلیز کئے گئے اور سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ سے ان کاموں کا ٹینڈر بھی ہوگیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایاکہ مواصلات کے شعبے میں ارندو گول، سویر اور اپر چترال کے ہرچین (لاسپور)کے مقام پر ڈیڑھ ارب روپے مالیت سے تین ٹرک ایبل پل 2020کے اے ڈی پی میں شامل کرادیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مواصلات ہی کے شعبے میں اورغوچ میں 3کروڑ روپے، سویر میں 2کروڑ روپے اور سوسوم کریم آباد میں 10کروڑ روپے اے ڈی پی میں شامل کرلیا گیا ہے جبکہ جاپان حکومت کی مدد سے 40کروڑ روپے کی مالیت کے تین مزیدپل واشچ، نشکو اور بریپ میں تعمیر کئے جائیں گے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے چترال کی ترقی کے لئے ان کی خصوصی درخواست پر 30کروڑ روپے کی خطیر رقم منظور کی جسے ارندو سے لے کر بروغل تک مختلف منصوبہ جات پر خرچ کئے جائیں گے تاکہ اس علاقے میں احساس محرومی کا خاتمہ ہوسکے جبکہ اسی سلسلے میں وزیر اعلیٰ نے نہایت وسیع قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے چترال کے ممبر صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن کو بھی 13کروڑ 50لاکھ روپے کی منظوری دے دی جبکہ دوسرے کسی بھی ضلعے میں اپوزیشن رکن اسمبلی کو اس مقدار میں ترقیاتی فنڈز نہیں دئیے گئے۔ وزیر زادہ نے کہاکہ ہیلتھ سیکٹر میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چترال کو ترقیاتی کاموں کے لئے 20کروڑ روپے ریلیزکئے گئے ہیں اور ہسپتال میں اسٹاف اور اوزار کی کمی کو دور کرنے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ یہاں سے علاج معالجے کے لئے کسی کو پشاور جانے کی ضرورت نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا چترال کی ترقی سے دلچسپی اور سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مساجد و مدارس کے لئے مختص 20کروڑ روپے کی فنڈز میں سے انہوں نے چترال کیلئے 2کروڑ روپے کی منظوری دی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email