81

جنگلات کی حفاظت محکمہ فارسٹ اور کمیونٹی دونوں کی ذمہ داری ہے ۔ اور کمیونٹی کے بھر پور تعاون کے بغیر جنگلات کا تحفظ ناممکن ہے/ایس ڈی ایف او چترال عمر قریشی

چترال (محکم الدین ) ایس ڈی ایف او چترال عمر قریشی نے کہا ہے ۔ کہ جنگلات کی حفاظت محکمہ فارسٹ اور کمیونٹی دونوں کی ذمہ داری ہے ۔ اور کمیونٹی کے بھر پور تعاون کے بغیر جنگلات کا تحفظ ناممکن ہے ۔ آج جنگلات کے تحفظ کی جتنی ضرورت ہے ۔ شاید پہلے کبھی نہیں تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ حکومت نے موسمیاتی تبدیلی سے ہونے والے نقصانات سے بچنے اور جنگلات کے فروغ کیلئے بلین ٹری سونامی اور کلوژر کے منصوبوں کو متعارف کیا ہے ۔ جس کے بہت مثبت نتاءج نکل رہے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز ایون ون میں سنجریت جنگل کے تحفظ کیلئے کلوژر کے قیام کے موقع پر کمیونٹی کے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر سابق ناظم و ممبر دسٹرکٹ کونسل چترال رحمت الہی سمیت بڑی تعداد میں عمائدین علاقہ موجود تھے ۔ ایس ڈی ایف او نے کہا ۔ کہ محکمہ فارسٹ میں سٹاف کی شدید کمی ہے ۔ اس لئے گرم چشمہ سے لے کر ارندو تک وسیع رقبے کی نگہداشت کم سٹاف کے ذریعے ہونا ممکن نہیں ۔ یہی وجہ ہے ۔ کہ کلوژر کا طریقہ کار وضع کرکے جنگلات کے تحفظ کو یقینی بنانے کی راہ ہموار کی گئی ہے ۔ اور یہ ایک کامیاب تجربہ ہے ۔ جس سے جنگلات کو ایک نئی زندگی ملی ہے ۔ لیکن جہاں کلوژر کا نظام راءج نہیں ۔ وہاں چوری چھپے جنگلات کو نقصان پہنچانے کی کوششیں اب بھی کی جارہی ہیں ۔ اس موقع پر جنگل سنجریت میں بعض افراد کی طرف سے جنگل کو نقصان پہنچانے کی پاداش میں مرتکب افراد کے خلاف کاروائی کرنے پر کمیونٹی کی طرف سے محکمہ فارسٹ کے اقدامات کو سراہا گیا ۔ اور اس امر کا اظہار کیا گیا ۔ کہ ایسے افراد کسی بھی طرح رو رعایت کے مستحق نہیں ہیں ۔ اُنہیں نشان عبرت بنانا چاہیے تاکہ دوسرے افراد ان سے سبق حاصل کریں ۔ سابق ناظم رحمت الہی نے کہا ۔ کہ بلین ٹری سونامی کی اہمیت اپنی جگہ لیکن کھڑے تناور درختوں کی حفاظت ان سے کہیں زیادہ اہمیت کی حامل ہے ۔ کیونکہ ان جنگلات کی کٹائی سے ان کے نیچے پرورش پانے والے ہزاروں ننے پودے بھی تباہ ہو جاتے ہیں ۔ جو کہ قدرتی ماحول میں نیچرل طریقے سے اُگے ہوئے ہوتے ہیں ۔ اس لئے ان پودوں کو بچانا اور کھڑے درختوں کی حفاظت دونوں از بس ضروری ہیں ۔ آصف رضا نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ۔ کہ جنگلات کی حفاطت کیلئے فوری طور پر نگہبان بھرتی کرنے کی ضروت ہے ۔ کیونکہ مال مویشیوں اور لوگوں کی طرف سے جنگل پر بہت زیادہ دباءو ہے ۔ بعد آزان فارسٹ پروٹیکشن اینڈ کنزر ویشن کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ جس میں متفقہ طور پر سیداللہ کو صدر ،عرفان علی نائب صدر، مجاہد نائب صدر دوئم ،ضیاء الرحمن سیکرٹری ، آصف رضا کوخزانچی منتخب کیا گیا ۔ جبکہ ایگزیکٹیو کمیٹی کیلئے رحمت الہی ، محکم الدین ، حاجی ظفر احمد ، فضل الرحمن ، مجیب الرحمن اور قاری فضل احمد کے ناموں پر اتفاق کیا گیا ۔ کمیٹیوں کے قیام کے بعد چھ نگہبان بھرتی کئے گئے ۔ جن میں و قار احمد تھوڑیاندہ ، شاہ حسین بڑاوشٹ ، حجاج بہادر موڑدہ ، کریم اللہ آٹانی ، عبد الرشید درخناندہ اور رحمت عزیز اشکون لشٹ شامل ہیں ۔ جو جنگل کی نگہداشت کریں گے ۔ ایس ڈی ایف او نے کہا ۔ کہ کلوژر کے قیام کے بعد مال مویشیوں کیلئے طریقہ کار وضع کیا جائے گا ۔ جس کے مطابق مال مویشیوں کو چرانے کی اجازت ہوگی

Print Friendly, PDF & Email