144

مسلم ہیروز نے دھوم مچا دی : تحریر ناہیدہ سیف ایڈوکیٹ

ہیروز زندہ رہتے ہیں صدیوں بعد بھی اپنے کردار سے لوگوں کی اصلاح کرتے رہتے ہیں بتاتے ہیں بہادری ایمانداری انصاف پسندی سے کیسے اپنی لیگیسی کو رہتی دنیا تک قائم رکھا جاسکتا ہے ان کی بے پناہ قربانیاں جوش ولولہ جدوجہد مشعل راہ رہتی ہے اور رہتی دنیا تک لوگ ان سے استفادہ حاصل کرتے رہتے ہیں، ہیرو بنانے کا بھی اپنا ذوق ہوتا ہے ہر انسان اپنی سوچ اپنی ایپروچ اپنی شعور کے مطابق اپنا ہیرو بناتا ہے کچھ ہیروز ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی لیگیسی کو ماننا مجبوری بن جاتی ہے چائیے کسی کو پسند ہو یا نہ ہو ،صدیاں گزرنے کے بعد جہاں لوگ ان کے کردار ادا کر کے نہ صرف مشہور ہو جاتے ہیں بلکہ ان کے نام سے خوب کما بھی لیتے ہیں ، ا ن کی کشش جیسے انسانوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے ، ٹی آر ٹی اور پی ٹی وی کے تعاون سے نشر ہونے والے سلطنت عثمانیہ کے عظیم وشان بانی ارطغرل غازی پر نشر ہونے والی سیریز کی مقبولیت سر چڑھ کر بول رہا ہے یہ سیریل اپنی مقبولیت کی بلندی کو چھو رہا ہے یوں لگ رہا ہے کہ مسلمان نوجواں جیسے ترس گیا تھا اپنی اسلاف کی تاریخ کو دیکھنے کے لیے ،وہ شدت سے اس انتظار میں تھا کہ کچھ ایسا انہیں دیکھا جائے جو ان کے دل کی آواز ہو ،ایک عرصے سے ان کو فضول قسم کے خرافات میں پھنسایا جا رہا تھا ہالی وڈ اور ہالی وڈ کے چکروں میں ، سپر مین جو کہ ایک خیالی کردار ہوتا ہے حقیقت سے اسکا کوئی تعلق نہیں ہوتا گھر گھر عام کیا جا رہا ہے،

دوسری طرف انڈیا جو کہ ہندوتوا کا خواب لے کر اپنے فضول ڈراموں سے گھر گھر اور زبان زبان پر اپنے بھگوان بھٹانے کے چکروں میں مصروف تھااور اپنی فلموں کے ذریعے مسلمانوں ہیروز کے تشخص کو جس طرح پیش کر رہا تھا جس کا تاریخ اور حقیقت سے کوئی تعلق نہیں جیسے علائو ادین خلجی کے کردار کو جس منفی انداز میں پیش کیا گیا تاریخ اس سے بالکل الٹ ہے ، اتنے میں ایک سچی کہانی کو منظر عام پر ڈرامے کی شکل میں لانے کا سہرا اٹھایا سلطنت عثمانیہ کے وارثوں نے ،اور کیا خوب اٹھایا ہے کہ مسلم ہیروز کا ڈنکادنیا میں بج رہا بے ،ظاہر ہے ان سے ہی توقع کی جا سکتی ہے کہ وہی ففتھ جنریشن وار مغرب کے مقابلے میں اپنی عظیم و شان تاریخ کو ہتھیار کے طور پر پیش کریں گے لہذا اپنا پتا بڑی مہارت سے پھینکا اور مغربی ہیروز کی جگہ مسلم ہیروز کو منظر عام پہ لے آئے اور ان کی دکتی رکھ پہ پائوں کچھ ایسا رکھ رکھ دیا کہ بی بی سی اور واشنگٹن پوسٹ کو اسے خاموش وار یا خاموش انقلاب کہنا پڑا ،اسلامی فوبیا اسے گیم اف تھرون بھی قرار دے رہی ہے کیونکہ یہ ڈرامہ مسلمان نوجوانوں کو موٹیویٹ کر رہا ہے اور ان کی دکانیں بند ہو رہی ہیں ،ایک طرف طیب اردگان صاحب کی ذاتی خواہش دوسری طرف جس طرح ترک فنکاروں نے جاندار اداکاری نبھاءی ہے اور بھر پور دلی لگائو سے اپنی تاریخ کے کرداروں ساتھ پورا پورا خوب انصاف کیا ہے ہر کردار لاجواب ہے جیسی عظیم و شان تاریخ ویسے ہی زبردست اداکاری ۔ اس ڈرامے میں انسانی کردار سازی دیکھنے والا ہے کیسے چھوٹے سے کائی قبیلے کے دو ہزار جنگجو اپنی مظبوط ایمان اور انصاف سے تینوں براعظموں تک سات سو سال حکومت کی انکا رہن سہن ا ن کی روزمرہ کی زندگی اپنی دین سے محبت دیکھنے والے کو اپنی سحر میں جکڑ لیتا ہے عشق مجازی اور عشق حقیقی کو جس خوبصورتی اور پاکیزگی کے ساتھ دیکھایا گیا ہے اور پھر خواتیں کا رول جس طرح دیکھایا گیا ہے وہ بھی اپنی مثال آپ ہے ،گویا یہ ڈرامہ ایک مکمل پیکج ہے انسانی کردار کا ، اسلامی ویلیوز، کلچر، ظالم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا ،سچ کے ساتھ کھڑا ہونا ،ڈرنا صرف خدا سے،محبت واحترام حضور (ص) کے لیے اپ (ص) کانام مبارک جب آتا تو احترام سے اپنے ہاتھ اپنے سینے پر رکھنا مطلب حضور(ص) ہم آپ کے حکم کے تابع ہیں اور حاضر ہیں یہ اس قبیلے کے مظبوط اقدار تھے،
ارطغرل غازی کو جو پذیرائی دنیا سے مل رہی ہے اس نے نہ صرف مغرب کو پریشان کر دیا بلکہ ہمارے کچھ مخصوص عناصر جن کا ایجنڈا ہمیشہ کبھی سمجھ نہ آنے والا رہا ہے ان کو بھی مرچیں لگنی شروع ہو گئی ہے کیوں نہ ہو جب نوجوان با شعور ہو گا ان کی کردار سازی کی جائے گئی تو ان کو کون پوچھے گا ان کے فضول سلوگن اور ان کے ایجنڈا کے پیچھے کون جا ئے گا یہ اچھا ہو گیا کہ یہ مخصوص طبقہ بہت بری طرح ایکسپوز ہو رہا ہے جہاں بھی مذہب پہ ملک پہ اسلامی تاریخ پر مسلمان ملکوں پہ کوئی بات آتی ہے اس طبقہ کے پیٹ میں مروڑیں اٹھنا شروع ہو جاتی ہے ان کو کبھی بھی انڈیا کی فلموں سے ڈراموں سے یا مغرب کے کلچر سے کبھی کوئی اعتراض نہیں ہو گا لیکن جہاں اسلامی اقدار کی بات ہو گی وہاں سے ان کی چیخیں نکلنی شروع ہو گی ،کبھی بھی اپ انہیں کرپشن بے ایمانی کے خلاف بولتے ہوئے نہیں دیکھو گے انہوں نے تو نوجوانوں کو اس پہ لگایا ہوا تھا کہ کرپشن اور بے ایمانی کرنے والوں کی واہ واہ کیسے کی جاتی ہے ، اور ہر بکواس اور فضول بات پہ بتیسی نکالنا انسانیت ہے یعنی غیرت اور ضمیر کو مردہ رکھنا ان کے مطابق انسانیت ہے، ہر جائز ناجائز طریقے سے پیسے کیسے بنائے جاتے ہیں کردار کے کچے ان کے ساتھ مل جاتے ہیں، ،کسی بھی ملک ادارہ یا کوئ سیاسی پلیٹ فارم کو اگر نقصان پہنچا نا ہو تو سب سے پہلے ان کے اندر کے بے ایمانوں اور کچے کردار والوں کو خریدا جاتا ہے
اب یہ مخصوص ایجنڈا بری طرح ایکسپوز ہو رہا ہے اور اب انکا حال یہاں تک پہنچ گیا ہے رات کو جب یہ اپنے بیس لیس کمنٹ دیتے ہیں تو صبح تک عوام کی طرف سے ان کی سوشل میڈیا پر اتنی چھترول ہوئی ہوتی ہے کہ صبح انہیں یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارا مطلب یہ نہیں تھا سمجھ یہ نہیں آتی یہ ملک کے اداروں کے خلاف مذہب کے خلاف بات کر کے کس طرح سے ملک کی خدمت ہو رہی ہے یہ سمجھ سے بالاتر ہے
میں یہ نہیں کہہ رہی، ہو سکتا ہے آپ کو کسی ادارے سے ضرور گلے شکوے ہو لیکن بھئ اسکا مطلب ہرگز یہ نہیں ہوتا کہ آپ دوسروں کا آلہ کار بن کر ملک کی دیواریں کھوکھلی کرنا شروع کر دے ایسا آپ کو ہر گزاجازت نہیں دی جا ئے گی ،اور نہ دینی چائیے، ہمیشہ سے مسلمانوں کے اندر ایسے عناصر موجود رہے جنہوں نے جیتی ہوئی جنگیں ان ٹائوٹ کی وجہ سے ہار گئی ،
مسلمانوں کے ہیرو کامن ہوتے ہیں کہا گیا تم ایک جسم کی مانند ہو ،جب بھی مسلمانوں کو کمزورکیا گیا تو ان کو امت سے نکال کر ملکوں ،علاقوں اور قوموں تک محدود کیا گیا تاکہ اتحاد ان میں نہ رہے یہ جو ہمارے ہیروز تھے انہوں نے امت کی جنگ لڑی اپنے مذہب کا پرچار کیا اور انصاف سے اپنا لوہا منگوایا اپنی لیگیسی ایسے چھوڑی کہ آج بھی ان کی مہربانی سے مسلمانوں کے پاس پچاس سے زیادہ ممالک ہیں۔
محمد بن قاسم نے صرف سندھ فتح نہیں کیا بلکہ اس کو باب اسلام بنایا یہ لیگیسی ہوتی ہے اپنے مذہب کے پرچم کو بلند کیا ورنہ فاتح آتے جاتے رہتے ہیں اپنی لیگیسی اپنی جڑ مظبوط ہر کوئی نہیں کر سکتا نہ ہر کسی کی قسمت میں ہوتا ہے ،
ارطغرل ڈرامے سے پاکستان کے نوجوانوں کا ہر طبقہ اپنی والہانہ محبت کا اظہار کر رہا ہے کسی نے اپنی ڈی پی پر ان کرداروں کی تصویروں لگائی ہیں کوئی خوبصورت گانوں سے اپنے ہیروز کو خراج تحسین پیش کر رہا ہے کوئی اپنی میوزک سے تو کوئی اپنی قلم سے ، اس میں ہر کلاس ہر سوسائٹی شامل ہیں وہ نوجوان جن کی اپنی ایک الگ دنیا ہے وہ ایک دفعہ خان صاحب کے لیے اکٹھا ہوئے تھے اب اس ڈرامے پر اکھٹا ہو گیا ہے جو اپنی محفلوں میں ہالی وڈ فلموں کا تذکرہ کرتے تھے اب ایک دوسرے کو بتا رہے ہیں سب بھول جائو ارتغرل دیکھو،اور کچھ لاک ڈائوں کے بعد ترکی ٹور کا پلان بنا رہے ہیں کہ ارظعرل غازی کے مزار پر جا کر ان کو خراج تحسین پیش کیا جا سکے بات یہاں تک نہیں بلکہ ترکی تک پہنچ گئی ترکش پاکستانی بہن بھائیوں کا شکریہ ادا کر رہے ہیں ان کے اداکار پاکستان آنے کا ارادہ رکھتے ہیں ٹی آر ڈی کے ڈائریکٹر ریاض بٹو نے پاکستانیوں کا شکریہ ادا کیا ، اور پاکستان سے اپنے ملک کے خاص کنکشن خاص تعلق کو دہرایا
جب سلطنت عثمانیہ کے خلاف سازش ہوئی تو کیسے یہاں کی خواتیں نے اپنی زیورات تک بھیج کر ان کی مدد کی اور انگریز فوج میں جو مسلمان فوج بھرتی تھے انہوں نے بغاوت کی تو کیسے ان کو بے دردی سے گولی مار دی گئی یہ ایک مظبوط رشتہ اور لنک جو صدیوں سے ہے اب مزید مظبوط ہو رہا ہے،
ارتغرل غازی کے فنکار پاکستان آنے کے لئے اپنی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں،
ترک تاریخ نے بہت نشیب و فراز دیکھی ہے جہاں ان کو اتنی بڑی سلطنت اور مسلمانوں کی امامت بخشی گئی مکہ مدینہ کی خادم بننے کا شرم نصیب ہوا وہاں آزمائشوں سے بھی ان کو گزارا گیا ،مغرب جو ان کی طرز حکمرانی اور مظبوط تاریخ سے ہمیشہ خائف رہا سازش کا جال بچھایا سلطنت ختم کر دی اور ان کے اوپر ایک سیکولر حکمران مسلط کیا گیا ان کے دل سے مذہب نکالنے کی بہت کوشش کی گئی پر ناکام رہے یہ کیسا ممکن تھا جس مذہب کے وہ پیروکار تھے اسی مذہب کے بل بوتے پر ہی تو انہوں نے لازوال عروج دیکھا تھاان پر ثقافتی یلغار تو کیا جا سکتا ہے پر ان کے دل سے اپنے مذہب کو ختم نہیں کیا جا سکتا ، یہی تو ان کی تاریخ ان کو سیکھاتی ہے ،
انہوں نے وہ دور بھی دیکھا جب ان کو نماز اور قرآن پڑھنے کی اجازت نہیں تھی یہ چھپ کر اپنے مذہبی عبادات کرتے اور رو کر اپنے گناہوں کی معافی مانگتے رہتےتھے
کہتے ہیں اج بھی جب آپ حج یا عمرے پر کسی ترک سے ملو گے تو ان کے ہاتھ میں ایک کاعذ ہوتا ہے جس میں ان کے ا ن سنہرے دور کی یاد ہوتی ہے جب حجاز مقدس (مکہ مدینہ)کی غلامی ان کے ہاتھ میں دی گئی تھی وہ اب جب حرم پاک اور روضہ اقدس جاتے ہیں تو دیوار پکڑ کر روتے ہیں کہ ہمارے گناہ معاف فرما اور اپنے در کی غلامی واپس ہمیں لوٹا دے ،
عرصے کے بعد اللہ نے ان کی سنی ہے اور طیب اردگان کی شکل میں ان کو ایک زبردست لیڈر عطا کیا ہے جو ترکی کو پہلے مقام پر دیکھنا چاہتا ہے وہ جی ٹونٹی کے ممبر بھی ہے مسلم ممالک میں صرف سعودیہ عرب اور ترکی اس کے ممبر ہیں آئندہ آنے والے سالوں میں ترکی کا رول بہت اہم نظر آرہا ہے کیونکہ 2023میں ترکی پر لگے کچھ سینکشنس اور معاہدات بھی ختم ہو نگے جو سلطنت عثمانیہ کے خاتمہ کے وقت ان پر لگائے گئے تھے،
اج کا دور میڈیا کا دور ہے میڈیا ایک ہتھیار ہے ففتھ جنریشن وار اس ہتھیار کے ذریعے لڑی جا رہی ہے اور اس میں کردارفلموں اور ڈراموں کا ہے کیونکہ انٹرٹینمنٹ کی دنیا دماغ پر اپنا ایک خاص اثر ڈالتی ہے ،
خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان کے ٹاپ رائٹر خلیل الرحمان قمر صاحب نے بھی مسلم ہیروز کو سلور اسکرین پر اتارنے کا اعلان کیا ہے انہوں نے ترکی کا انٹرٹینمنٹ کی دنیا کے ذریعے مسلمانوں کو جگانے پر شکریہ ادا کیا ، شاید کچھ دنوں تک قمر صاحب اس ڈرامے کے متعلق پریس کانفرنس بھی کرینگے اور غالبان سلطان صلاح الدین ایوبی پر سیریل بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں ،
ارطغرل غازی کو پی ٹی وی پر نشر کرنے کے لیے وزیراعظم صاحب اور شاعر مشرق علامہ اقبال کے نواسے یوسف صلاح الدین صاحب بھی خراج تحسین کے مستحق ہے، یہ ایک بہترین اقدام ہے جس کی وجہ سے یہ ڈرامہ ایک تو ہر ایک کے اپروج میں اگیا دوسرا اردو ڈبنگ سے سب کے لیے سمجھنا آسان ہو گیا اور دیکھنے کے لیے بھی آسانی ہو گئی کیونکہ جب ہم دیکھ رہے تھے تو یہ سہولت نہیں تھی اس لیے ہم نے اسے نیٹ فلکس پہ دیکھا،
یہ ڈرامہ تقریبا 65 ممالک میں مقامی زبان کی ڈبنگ کے ساتھ نشر ہو رہا ہے اور اپنا ریکارڈ بنا رہا ہے کچھ ممالک اس سے خائف بھی ہیں جیسے انڈیا نے اس پر بین لگایا ہوا ہے کیونکہ کشمیری نوجوانوں میں یہ بہت مقبول ہو رہا ہے اور اس میں انہیں ایک امید نظر آرہی ہے اور اس کا اظہار بھی وہ کر رہے ہیں
غیرت مند قومیں اپنے ہیروز کو یاد رکھتی ہے اور اپنی تاریخ پر فخر کرتی ہے ،ہمیں اپنے ہیروز پہ فخر ہے میں اپنے مسلم ہیروز کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں اور ان کی درجات کی بلندی کے لئے دعاگو ہوں۔

Print Friendly, PDF & Email