123

جن کے کردار سے آتی ہو صداقت کی مہک

نورالھد

ان کی تدریس سے پتھر بھی پگھل سکتے ہیں
سہروردی خان یفتالی۔میرےوالد میرے محسن

مجھ سے اگر میرے زندگی کے بہترین لمحے کا پوچھا جاۓ تو وہ لمحہ جب میں اپنے والد محترم کے ساتھ باہر نکلتا ہو اگے سے انکا کے کسی شاگرد کی آمد اور انکا آپس میں ملنا یہ اتنے عقدت، خلوص اور محبت کے لمحے ہوتے ہیں میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ میرے والد ایک استاد ہے میں ایک استاد کا بیٹا ہوں اور شائد میرے والد نے شاگردوں کی یہ محبت انکی صحیح خدمت سے کماۓ ہیں اسکا مجھے فخر بھی ہوتا ہے۔ استاد کو ہر زمانے میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا ہے.استاد کی اہمیت اور ان کا مقام ومرتبہ کی ایک خاص وجہ یہ بھی ہے کہ وہ ہماری شخصیت سازی اور کردار سازی میں معاون مددگار ثابت ہوتا ہے.استاد ہر ایک طالب علم کو ویسے ہی سنوارتا ہے جیسے ایک سونار دھات کے ٹکڑے کو سنوارتا ہے.استاد علم کے حصول کا برائے راست ایک ذریعہ ہے۔اور درس تدریس دنیا کی وہ عظیم شعبہ ہے جس کی کوکھ سے دنیا کے سارے شعبے جنم لیتے ہیں۔ اسلئے انکی تکریم اور ان کے احترام کا حکم دیا گیا ہے.استاد کا احترام اسلامی نقطہ نظر سے بڑی اہمیت کا حامل ہے:۔
ایک تو وہ منبعہ علم ہونے کے ناطے ہمارے روحانی باپ ہوا کرتے ہیں.ہماری اخلاقی اور روحانی اصلاح وفلاح کے لئے اپنی زندگی صرف کرتے ہیں۔
25مئی 1960کو بابائے لاسپور کی گھر جنم ہوئی گود میں اٹھا کر بابائے لاسپور نے اس دہائی کے سب سے مشہور شخصیت اور پاکستان کے پانچویں وزیراعظم حسین شہید سہروردی کے نام پر اپنے بیٹے کام نام رکھا سہروردی خان والد گل والی خان خاموش مزاجی، نہایت شفیق، شرافت ،خلوص محبت، خوش مزاجی، ہر وقت کھلا چہرا آپ کی شخصیت کا حصہ ہے۔ ہمیشہ خدمت کیلئے پیش پیش رہنا اس کی مزاج ایک حصہ ہے۔ سہروردی خان کو بہادری وراثت میں ملی ہے۔
ابتدائی تعلیم ہرچیں، مستوج اور بونی سے مکمل کرکے۔ خود سے کچھ کرنے اور بنے کی لگن لئے شہر قائد کا رخ کیا وہاں اسلامیہ کالج کراچی سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کرکے پھولوں کی شہر پشاور کا رخ کیا اور تاریخ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرلی۔ علم دوستی اور حصول علم کی پیاس ابھی نہیں بجھی تھی لگے ہاتھ میں جامعہ پشاور سے ایم ایڈ کی سند بھی حاصل کرنے کے بعد چونکہ منزل سامنے تھا کوئی دو راۓ نہیں جو علم پاکستان گھوم کے حاصل کی وہی پھلانا تھا لہذا اس ہاتھ میں ڈگری تھی تو دوسری ہاتھ میں درس وتدریس محکمہ تعلیم میں تعینات کا سند۔ سفر مشکل اور بہت ذمداری اور دیانتداری کا تھا کیونکہ ہزاروں بچوں کی مسقبل کا سوال تھا۔ آج 25 مئی 2020 کو 31سال کے دورانیہ کا یہ طویل اور مقدس سفر اپنے اختتام کو پہنچا اپنی جنم دن کے موقع پر پیشہ ورانہ زمہ داریوں سے سبکدوش ہوئے۔اس دوران علم کی روشنی پپھلانے کیساتھ ساتھ سماجی خدمات میں بھی کبھی پیچھے نہیں رہے۔ ہمیشہ بابائے لاسپور کے زیر سایہ ریے انکی سماجی خدمات میں دسترس رہے سیاسی فیصلوں میں مشیر خاص کے طور پرساتھ رہا ۔ آسکے علاؤہ امامی ادروں میں بھی آغاخان کونسل، اطرب اور اربٹریش کونسل میں بھی پندرہ سالوں تک مختلف اعزازی عہدوں پر فائز رہے ہیں ان کی بہتریں خدمات کی بدلے انہیں حضور موکہی کے اعزاز سے نوازا کیا۔ آپ کا منانا ہے اگر لوگ اپکو دیکھ کر چھپ جاۓ یا رستہ بدلے تو سمجھنا آپ نے ایک استاد ہونے کا حق ادا نہیں کیا جب میرے والد کا کوئی شاگرد یا کوئی جانے والا ان سے ملتا ہے تو ہمیں فخر ہوتا ہے والد کی بات یاد آتی ہے میرے والد ایک اچھے استاد کیساتھ ساتھ ایک بہترین انسان بھی ہے۔اپنے والد کی روایت کو برقرار رکھتے ہوۓ حصول علم کو اپنے اولاد پر بھی فرض سمجھا دو بیٹیاں اور چار بیٹے سارے یونیورسٹی سے اعلی تعلیم یافتہ ہونے کیساتھ مختلف اداروں کیساتھ منسک ہے۔ جو کہ اس بات کی دلیل ہے اگر دوسروں کا اچھا سوچوں کے تو ہی آپکا بھی اچھا ہوگا۔ اپنی والد کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے سماجی خدمات میں پیش پیش رہے گے آئندہ بھی۔ آپ سب سے نیک تمناؤں کے منتظر

Print Friendly, PDF & Email