100

مبینہ پالیسی جنگلات کی اور عوام کااحتجاج۔۔۔۔سیّد ظفر علی شاہ ساغرؔ

المیہ یہ ہے کہ حکومتیں محض سرکاری فائدہ کومدنظررکھتے ہوئے زندگی کے مختلف شعبوں اور سرکاری محکموں کے لئے پالیسیاں بناتی ہیں مگر اس عمل میں عوام کی رائے لی جاتی ہے نہ اس بات کااحساس وادراک کیاجاتاہے کہ تشکیل پاتی پالیسی کامستقبل میں انسانی اور معاشرتی زندگی پرمثبت اورمنفی اثرات کیا مرتب ہوسکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ حکومتوں کی مرتب کردہ بیشتر پالیسیاں نہ صرف غیر مؤثر ثابت ہوتی ہیں بلکہ بعض پالیسیوں پر اختلافات،اعتراضات ،شکایات اور تحفظات کے تناظر میں عوامی حلقوں کے اندرشدیدغم وغصہ پایاجاتاہے اور وہ سراپااحتجاج بن کرسڑکوں پر نکل آتے ہیں۔مالاکنڈڈویژن میں ٹیکس کے مجوزہ نفاذکی پالیسی اورمشرف دورمیں ایک صدارتی آرڈیننس کے تحت مبینہ نافذکردہ فارسٹ پالیسی 2002اس کی واضح مثالیں ہیں جن کے خلاف مالاکنڈڈویژن بھر کے عوام سراپااحتجاج ہیں ۔13 فروری کو ڈویژن کے گیٹ وے چکدرہ میں فشنگ ہٹ کے مقام پرسابق صوبائی وزیراور جماعت اسلامی کے رہنماء شاہ راز خان کی صدارت میں تحفظ حقوق مالاکنڈ کے زیراہتمام ڈویژن بھر کے سیاسی جماعتوں اور تاجر تنظیموں کا اہم اجلاس ہواتھاجس میں مالاکنڈ ڈویژن میں کسی بھی قسم کے ٹیکس کے نفاذکونہ ماننے کامتفقہ فیصلہ اورواضح اعلان کیاگیاتھاجبکہ اس کے اگلے روزیعنی 14فروری کوٹھیک اسی جگہ حاجی گل شیرکی زیرصدارت تحریک تحفظ حقوق کوہستان کے بینرتلے دیرکوہستان ،سوات کوہستان،انڈس کوہستان اوربشمول چترال ڈویژن کے دیگر اضلاع کے سینکڑوں عوام کافارسٹ پالیسی2002 کے خلاف جرگہ ہواجس کے خدوخال سے متعلق بتایاجاتاہے کہ پہاڑی علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں کو درختوں کے استعمال، جنگلات میں جانے اور مال مویشی پالنے کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ ان سے مختلف مدوں میں ٹیکس بھی وصول کیاجائے گا۔تنظیم تحفظ حقوق کوہستان کے روح رواں مولاناگل نورشاہ،صدرحاجی گل شیر اور جنرل سیکرٹری حاجی نگین خان ،تحریک انصاف کے ممبرقومی اسمبلی سلیم الرحمان،عوامی نیشنل پارٹی دیر لوئر کے صدرحسین شاہ یوسفزئی،سابق صوبائی وزراء شاہ راز خان اور ملک جہانزیب ،پیپلزپارٹی کے سابق ممبران صوبائی اسمبلی بادشاہ صالح اور انورخان،موجودہ ایم پی ایزپیپلزپارٹی کے صاحبزادہ ثناء اللہ اور جماعت اسلامی کے محمدعلی،والی سوات کے پوتے شہریارامیر زیب،تحصیل ناظم کلکوٹ ملک گل ابراہیم،انڈس کوہستان سے تعلق رکھنے والے ملک سید احمد، سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل ملک احمد جان آف مدین اور سابق وفاقی وزیرنجم الدین خان کے فرزند عارف اللہ خان نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے مبینہ فارسٹ پالیسی کویکسر مسترد کرتے ہوئے کہاکہ یہ ضالمانہ پالیسی ہے جسے بناتے وقت جنگلات کے اصل مالکان کی کوئی رائے نہیں لی گئی ہے ان کے مطابق یہ پالیسی سابق صدر مشرف کے دورمیں ایک صدارتی آرڈیننس کے تحت نافذکی گئی جس کے نفاذکاکوئی جواز اس لئے نہیں بنتاکہ اس کو اسمبلی سے باقاعدگی منظوری نہیں ملی ہے جبکہ آرڈیننس کے تحت صدارتی حکمنامہ اسمبلی سے منظوری نہ ملنے کی صورت میں تین ماہ بعد ختم تصور ہوتاہے مگر باعث تشویش امر یہ ہے کہ اس بلاجواز پالیسی کو محکمہ فارسٹ میں نافذالعمل بنایاجارہاہے جومقامی آبادی کے ساتھ سراسر ظلم اور زیادتی ہے اور اسے کسی صورت تسلیم نہیں کیاجائے گا ۔مقررین نے دو ٹوک الفاظ میں کہاہے کہ اپنے حقوق پر وہ کسی قسم کاسمجھوتہ کریں گے نہ ہی حکومتی دباؤ کوبرداشت کیاجائے گابلکہ اگر تبدیلی کے نام پر آنے والی پی ٹی آئی کی موجودہ صوبائی حکومت نے اس پالیسی کوواپس نہ لیااور اسے نافذالعمل بنانے کی کوشش کی توبھرپورمزاحمت کی جائے گی اورپھرکہیں ایسانہ ہوکہ 1976ء کی خونی تاریخ دہرائی جائے جو قوم کے حقوق کے لئے دیر کے غیوراقوام سلطان خیل وپائندہ خیل کے خون سے بھری پڑی ہے۔ اگریہ کہاجائے کہ ضمنی الیکشن میں دیر لوئر سے پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر ایم پی اے منتخب ہونے والے صاحبزادہ ثناء اللہ نے اپنے خطاب میں دیرکوہستان،سوات کوہستان ،انڈس کوہستان چترال کے عوام کی بھر پورترجمانی کی ہے توشائد غلط نہیں ہوگا۔صاحبزادہ ثناء اللہ نے نہ صرف عوام کے نبض پر ہاتھ رکھنے کی مہارت دکھاتے ہوئے ان کے حقوق پر لب کشائی کی بلکہ مذکورہ معاملے میں عوام کوحمایت کی یقین دہانی کرانے والے حکومتی ممبران اسمبلی کو آزمائش میں ڈال کرسیاسی برتری لینے کی بھی کامیاب کوشش کی انہوں نے اس موقع پر موجود جماعت اسلامی سے تعلق رکھتے حکومتی ایم پی اے محمد علی کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ فارسٹ پالیسی کے خلاف یاتو وہ قراداد سامنے لائیں یاہمیں قراداد پیش کرنے پر اسمبلی میں حمایت کی یقین دہانی کرائیں۔ جرگہ نے مستقبل کا لائحہ عمل بتاتے ہوئے اعلان کیاکہ مالاکنڈ ڈویژن کے کل 22 ممبران صوبائی اسمبلی کی وساطت سے وزیراعلیٰ پرویزخٹک سے ملاقات کی کوشش کی جائے گی اور اگر حکومت نے ان کے مطالبات تسلیم کئے توپھراحتجاج کاجواز ختم ہوجائیگا بصورت دیگر14مارچ کو سوات کے گراسی گراؤنڈمیں احتجاجی جلسہ ہوگااورمطالبات منوانے کے لئے راست اقدام اٹھانے سے بھی دریغ نہیں کیاجائے گا۔قطع نظراس کے کہ حکومت مذکورہ پالیسی نافذ کرنے کی غرض سے کیااقدامات اٹھاتی ہے اور اسے نہ ماننے کے لئے عوام کی حکمت عملی کیا رہتی ہے مگر حکومت اور متعلقہ سرکاری اداروں کے سامنے سر اٹھاتااور جواب طلب سوال یہ ہے کہ ایسی پالیسی کاکیافائدہ جس سے عوام کو فائدہ حاصل نہ کیونکہ حکومت ہمیشہ عوام کی فلاح وبہبود اور ترقی و خوشحالی کے لئے اقدامات اٹھاتی اور پالیسیاں مرتب کرتی ہے۔سوال یہ بھی اہم ہے کہ محض ساٹھ فیصد حصہ دینے کی بجائے کوہستان کے عوام کو مکمل مالکانہ حقوق کیوں نہیں دیئے جاتے جو صحیح معنوں میں جنگلات کے مالکان ہیں اورجنگلات کے تحفظ کے لئے ان علاقوں میں رہتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں