60

گھبرانا تو بنتا ہے : تحریر ناہیدہ سیف ایڈوکیٹ

یہ ملک اور یہاں کے رہنے والے کبھی نہیں گھبرائے کیا کچھ نہیں کیا گیا اس ملک کے ساتھ ، اس کے مکینوں کے ساتھ ایسی ایسی نوٹنکیاں ایسی ایسی سازشیں سوچے تو شاید اس کی عمر سے زیادہ اس کے خلاف سازشیں ہی نظر آئے کیسے کیسے چورن بک گئے یہاں ،سادہ لوح عوام کو سبز باغ دیکھا کر ان کے ملک کے ساتھ وہ کہلواڑ کیا گیا کہ خدا کی پناہ، مکروہ نیت اور شیطانی چالوں سے دو لخت کر دیا اپنی ذاتی مفادات کے لئے ملک کو بلی چھڑانا کوئی ان سے سیکھے پھر بھی تسکین نہیں ملی، گدھ کو تب تک چین نہیں اتا جب تک وہ مردار نہ کھا لے سو ملک لوٹنا شروع کیا اور اس کے لیے چال بھی کیسے چلی قرضہ چڑھا کر ، اپنے اکاؤنٹ بھرواور تھوڑا اس ملک کے سادہ لوح باشندوں کا بھی پیٹ بھرو تاکہ پیٹ بھرا رہے اور گہری نیند سو جائے، کیونکہ پیٹ ہی وہ چیز ہے جس کا زیادہ سنا جائے تو ضمیر مر جاتا ہے اور جب ضمیر مر جائے تو بندہ جو چاہے کرتا پھرے ، پیٹ بھر کر کھانا کھانے سے اس لیے منع کیا گیا،
بے ایمانی جھوٹ ،فریب دھوکہ ،بد کرداری سازش چیز ہی ایسی ہے جو انسان اپنے ہی خلاف کرتا ہے، یہ چیزیں ادھر ادھر گھوم پھر کر اسی دروازے پر ہی واپس اتی ہیں یہ انکی ایک طرح سے اچھی عادت یا وفاداری ہی کہہ لے کہ اپنے دروازے کو کبھی نہیں بھولتے
وزیراعظم صاحب کم بیش اپنی ہر تقریر میں جب بھی کسی مسئلے کا ذکر کرتے ہیں تو ضرور کہتے ہیں گھبرانا نہیں ملک کے بڑے ہونے کی حیثیت سے قوم کو امید دلانا اور ثابت قدم رہنے کی تلقین کرنا اچھی بات ہے لیکن اب لگتا ہے کہ قوم گھبرانا شروع ہو گئ ہے وجہ اس کی کرونا کا بے رحمانہ وار ،معاشی بحران،مہنگائی اور اب پٹرول کی بے تحاشہ بڑھتی قیمت گھبرانا تو بنتا ہے کیا کرے اس ملک کے غریب اس ملک کا نوجوان اس ملک کا بہت پڑھا لکھا طبقہ (پڑھے لکھے سے میری مراد ڈگری ہولڈر ہرگز نہیں ہے یہ میں وضاحت کرتی چلوں کیونکہ پڑھے لکھے اور ڈگری ہولڈر میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے میں پڑھے لکھے لوگوں سے متاثر ہوتی یوں مجھے محض ڈگری ہولڈر کبھی متاثر نہیں کرتے چاہے وہ ڈگری کتنی بڑی کیوں نہ ہو دعا ہمیشہ کرنی چاہئے کہ واسطہ ہمیشہ پڑھے لکھے لوگوں سے پڑھے نہ کہ محض ڈگری ہو لڈز سے ورنہ اپ کو اپنے بھی تھوڑے علم اور شعور پہ ماتم کرنا پڑے گا اچھے لوگوں سے ملنا ان سے سیکھنا بھی خوش قسمتی ہوتی ہے ) جو ادیب ہیں دانشور ہیں باشعور ہیں جنہوں نے قوموں کی تاریخیں پڑھی ہے جن کے پاس علم کا ذخیرہ ہے جن کے ساتھ اٹھ کہ بیٹھ کر پتہ چلتا ہے یا یوں سمجھ لے کہ انسان کو خود اپنی جاہلیت کا اندازہ ہوتا ہے ) جن کا پی ٹی آئی سے کوئی لینا دینا نہیں تھا کوئی لالچ نہیں تھا اس ملک کی خاطر بے لوث طریقے سے خان صاحب کی اواز کو لبیک کہا تھا بھرپور حمایت دی اج وہ بھی گھبرا نے لگے ہیں،گھبراہٹ اس بات کی ہے کہ اس ملک کے پاس اب کوئی اپشن نہیں رہا اس حکومت کی ناکامی اس ملک کی ناکامی ہو گی ،کیونکہ چالیس چالیس سال سے اس ملک پر حکومت کرنے والے اس ملک کی بربادی کے یقینا ذمہ دار ہے ، ان کو نہ کبھی حکومت کرنا ایا نہ ہی ملک بنانا نہ کبھی آئے گا انہوں نے اداروں کو کہیں کا چھوڑا نہ ہی اس ملک کی عزت نفس کو جہاں جائو کرپشن اور لوٹ کھسوٹ ایسے چل رہا ہے جیسا کہ واجب ،
ملک لوٹنے والے کبھی ملک ،قوم کے بھلے کا نہیں سوچ سکتے اب دوبارہ ان سے اگر کوئی توقع کرتا ہے تو اس سے بڑا بےوقوف کوئی نہیں ہو سکتا،
یہ بھی حقیقت کہ اس حکومت کا سامنا مافیا سے ہے لیکن مافیا سے نمٹنا بھی حکومت کا ہی کام ہوتا ہے پرفارمنس ہی وہ چابی ہے جس کے بل بوتے پر عوام کی حمایت حاصل کی جاتی ہے پھر جب کوئی سازش بھی ہو تو ملک کے نوجوان ٹینکوں کی نیچے لیٹ جاتے ہیں۔کہ طیب اردگان کی حکومت ختم کرنے سے پہلے ہماری لاشوں سے گزرنا پڑے گا لیکن جب پرفارمنس نہ ہو تو دھیرے دھیرے حکومتیں لوگوں کی حمایت کھو جاتی ہے ،
خان صاحب کی ایمانداری اور نیت پر کسی کو شک نہیں ہے یہ بھی زیادتی ہے کہ چالیس سال حکومت کرنے والوں سے دو سال کی حکومت کا موازنہ کیا جائے لیکن عوام کی مجبوری کو بھی اس حکومت کو سمجھنا ہو گا ، کہ بحرانوں کا سرغنہ کووڈ نائنٹین نے لوگوں سے ان کے نقل وحمل سے لے کر ان کی روزگار تک چھین چکا ہے تو اس صورتحال میں مہنگائی کا بوجھ ڈالنا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں اور اس طرح کے غیر مقبول فیصلے ناقابل برداشت اور حیران کن ہے جن کی وجہ سے حکومت کو لینے کے دینے بھی پڑ سکتے ہیں
ان دو سالوں میں حکومت کی فارن پالیسی کافی حد تک متاثرکن رہی ہے وزیراعظم صاحب جب باہر جا کر ڈٹ کر جو دوٹوک بات کرتے ہیں دل سے کرتے ہیں بات اثر بھی کرتی ہے ،سیدھی بات اور منہ پر بات کرنا ایک بہادر اور ایک ایماندار بندے کا ہی کام ہوسکتا ہے،اور یہ ایک لیڈرشپ والی شخصیت کا ہی شیوہ ہے کہ وہ اپنے اندر اور باہر کی سچائی کو ساتھ لے کر چلے ، اگر من اور تن کا راستہ ہی جدا ہے تو اپ کسی کو کچھ نہیں سیکھا سکتے نہ ہی سمجھا سکتے ہیں ، جو اوورسیز پاکستانی ہیں وہ اس بات کو مانتے ہیں کہ خان صاحب کے انے سے پہلے ہم گردن جھکا کر چلتے تھے اب گردن اٹھا کر چلتے ہیں ورنہ یہاں اتنی کمزور خارجہ پالیسی رہی ایک حکومت میں یہاں امریکہ بہت آرام سے ایبٹ آباد میں کتنے گھنٹے گزار کہ اپریشن کر کے اسامہ بن لادن کو مار کر واپس امریکہ پہنچ کر اس وقت کی حکومت کو اطلاع دی جب ضمیر غلامی کا عادی ہو جائے تو حکومت اور طاقت کوئی اہمیت نہیں رکھتی پھر اوقات اتنی ہی رہ جاتی ہے کہ کوئی پوچھنا بھی گوارہ نہیں کرتا ، یہ تماشے بھی اس ملک نے سہے اور دیکھے، لیکن خان صاحب سے امید اس لیے بھی ہے کہ اس ملک پر ان کا یہ احسان ہے کہ انہوں نے بےایمانی اور ایمانداری کی تمیز اور اس کی معاشرے پر پڑے اثرات سے لوگوں کو روشناس کرایا اور ایک کرپٹ سوسائٹی اپنا وقار کیسے کھوتا ہے اور ایک کرپٹ ذہنیت کا آدمی ایک معاشرے کے لیے کیسا ناسوز ہے یہ خان صاحب نے اس قوم کو بتایا بھی اور عملی طور پر اس عمل سے نفرت کا اظہار کر کے باقاعدہ عملی نمونہ بھی پیش کیا جب انہوں نے الیکشن کے دوران اپنے غالبا بیس کرپٹ ذہنیت کے عناصر اور بے ایمان ممبرز کو دھوکہ دیہی کی وجہ سے نکالا تو اس سے ان کی قد میں اضافہ ہوا اور لوگوں نے ان کے اس عمل کی بھرپور تاکید کر کے ان کی پارٹی کو کے پی کے میں دو تہائی اکثریت بھی دے دی اس کو عملی اقدام کہا جاتا ہے اور معاشرے پر یہ چیزیں گہرا اثر ڈالتی ہیں، اور پھر ماضی قریب میں جب شوگر مافیا میں جب ان کے اپنے لوگوں کا بھی نام آیا تو چھپایا نہیں بلکہ ان کو عوام کے سامنے ایکسپوز کر دیا اس کے لیے بھی دل گردے کی ضروت ہے ہر کوئی نہیں کر سکتا غلط کے خلاف کھڑا ہونا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی ورنہ شاہد اس دنیا میں کوئی برائی ہی نہ ہوتی اگر ہر کسی میں آٹھ کھڑا ہونے کی جرت ہوتی ،
سندھ میں فائلیں غائب کرنے ، اور پنجاب میں فائلیں جلانے کا رواج تھا۔ ان شوگر مافیا میں چودھری منیر اور اومنی گروپ کا نام بھی آیا تھا انکے سرپرست میں کیا اتنی اخلاقی جرت ہو سکتی ہے کہ وہ انکو بھی عوام کے سامنے بے نقاب کرے کبھی نہیں ، ان کے راوی تو ہمیشہ چین لکھنے کے عادی ہیں کرپشن انکا مسئلہ ہی نہیں نہ کبھی انکار کیا ہے بلکہ کرپشن کے کیسز میں وکٹری کا نشان لگا کر اور مسکراہٹ کے ساتھ عدالتوں میں جاتے ہیں جیسے ملک اور عوام کے لیے کوئی بڑا کام کر کہ عدالت کا سامنا کر رہے ہو ،
امریکہ کی تاریخ میں ایک سیسلین مافیا کا ذکر ملتا ہے کہ جب بھی ڈکیتی کرتے لوٹتے نشان نہیں چھوڑتے تھے لوگ ان سے بہت تنگ تھے اس وجہ سے کہ عدالت کو بھی ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے ان کو بری کرنا پڑتا حالانکہ ان کے کرتوتوں کا سب کو پتہ تھا اور وہ بھی اس طرح بانچھیں پھیلا کر وکٹری کا نشان لگا کر عدالت سے جاتے تھے خیر بعد میں بہت بری طرح پھنس گئے ہمارے کچھ سیاستدان بھی لگتا ہے ان سے کافی متاثر ہیں
ہر ایک باشعور بندے کو احساس ہے وہ سمجھتا ہے کہ وزیراعظم خود اپنی ذات سے بچت کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں اپنے اخراجات کم کر رہے ہیں۔دوروں پر کم خرچ کر رہے ہیں یہاں تو سابقہ حکمران جب باہر ملک بھیک مانگنے جاتے تھے تو ان کی پرتعیش دورہ دیکھ کر باہر کے لوگ اور وہاں کی میڈیا مذاق اڑا رہے ہو تے تھے مانگنے کا سلیقہ بھی ان کو نہیں اتا تھا یا شاید اس ملک ،قوم کی توہین کر کے ان کو چین ملتا تھا یہ ہم نہیں جانتے ،
ستم ظریفی دیکھیے کراچی میں پچیس سال سے ایک ایسا ادمی کسی نہ کسی طرح حکومت کر رہا تھا کہ اسکا سیکرٹری اب علی اعلان یہ بتاتا پھر رہا ہے کہ ہماری پارٹی کو پیسے دشمن ملک سے ملتے تھے، ہمارا ووٹ لے کر ہمارے ملک سے عزت کما کر ہم پہ ہی وار ، اور ماشااللہ سے موصوف کا ڈر اتنا تھا کوئی مائی کا لال اس کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا تھا ،میڈیا کا کام تھا ہر صورت میں تعریفوں کے پل باندھا ورنہ اگلے دن اس چینل کی ایسی کی تیسی، بندے غائب خیر بات لمبی ہو جائے گی،
کہنے کا مطلب یہ کہ اس ملک کے ساتھ وہ کچھ ہو چکا ہے جو ہر ایک درد دل رکھنے والے پاکستانی محسوس کر سکتا ہے ،
بہرحال مہنگائی اس حکومت کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہے اس سے پہلے کہ عوام کا صبر جواب دے ،
حکومت اپنے کیبنٹ کے ممبرز کی تنخواہ کم کر کے کسی طرح عوام کو ریلیف دے سکتی ہے اور اس برے وقت میں عوام سے اظہار یکجہتی کرسکتے ہیں چاہے تو بہت کچھ کیا جا سکتا ہے عوام کے ووٹ سے منتخب ہونے والوں کو عوام کے لئے اتنا تو کرنا چاہیۓ جسطرح نیوزی لینڈ نے کیا ترکی نے کیا اور ممالک کر رہے ہیں پے درپے عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈالنا اس صورتحال میں ظلم سے کم نہیں حکومت کو سمجھنا ہو گا اور سنجیدگی سے مہنگائی کی روک تھام کے لئے اقدامات کرنے ہونگے کیونکہ ایک امید کی ناکامی ایک بندے یا ایک حکومت کی نہیں ملک،قوم کی ناکامی ہوتی ہے اس لیے پھر گھبرانا تو بنتا ہے

Print Friendly, PDF & Email