56

بجلی موجود ہونے کے باوجود بلا وجہ عوام کو تنگ کرکے وبائی صورت حال میں احتجاج پر مجبور کیا جارہا ہے۔…مختار احمد لال

اپرچترال( نمائندہ ) تحریک حقوق عوام اپر چترال کا ایک ہنگامی اجلاس صدر تحریک حقوق   مختار احمد لال کے ہاں منعقد ہوا۔ اجلاس میں تحریک کے رہنماؤں اور اراکین کے علاوہ بڑی تعداد میں علاقے کے معتبرات شریک ہوئے۔ اجلاس میں اپر چترال کے مسائل پر سیر حاصل گفتگو ہوئی اور شرکاء نے مسائل کی طرف توجہ نہ دینے پر متعلقہ اداروں اور حکومت وقت کو کھل کر تنقید کا نشانہ بنایا۔خصوصا اپر چترال میں بجلی کی حالیہ بدترین اور Image may contain: 5 people, people standingبلا جواز لوڈ شیڈنگ کو عوام کے ساتھ مذاق قرار دیا اور موقف اختیار کیا کہ وافر مقدار میں بجلی موجود ہونے کے باوجود بلا وجہ عوام کو تنگ کرکے وبائی صورت حال میں احتجاج پر مجبور کیا جارہا ہے۔ اگر فوری طور پر بجلی بحال نہ کی گئی تو عوام سڑکوں پر نکل آئے گی۔ اس کے علاوہ اپر چترال گرڈ اسٹیشن پر کام شروغ نہ ہونے پر عوام نے شدید غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ معاون خصوصی جناب وزیر زادہ اور ایم۔این۔اے صاحبان کے مطابق اس کے لیے 15 کروڑ روپے بھی ریلیز ہوچکے ہیں لہذا گرڈ اسٹیشن پر کام بلا تاخیر شروغ کی جائے اور آنے والی سردیوں سے پہلے اس کو عال کیا جائے ورنہ متعلقہ ادارے سردیوں میں ٹرانسمشن لائنوں کا بہانہ بنا کر اپر چترال کو بجلی سے محروم رکھیں گے۔ ساتھ ساتھ یہ بھی مطالبہ دہرایا گیا کی ار۔ای پیڈو کا دفتر ریشن سے بونی منتقل کیا جائے تاکہ عوام کو سہولت ہو۔ اجلاس میں سڑکوں کا کباڑا کرکے فائبر آپٹکس کی لائنیں مستوج، شاگرام، اور وریجون میں بچھانے کے ایک سال بعد بھی فعال نہ کرنے پر بھی شدید غم وغصہ اظہار کیا اور اس کے ساتھ ساتھ 3 جی 4 جی کو بھی جلد از جلد فعال کرنے کا مطالبہ کیا طالب علم آن لائن کلاسوں سے استفادہ کرسکیں اور ساتھ ساتھ اپر چترال میں ٹیلی نار کی انتہائی ناقص سروس پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ متعلقہ ادارہ اگر فوری طور پر معیاری سروس بحال نہیں کرتا تو اس کے خلاف شدید احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ڈی۔ایچ۔او اپر چترال کے حوالے سے مطالبہ کیا گیا کہ ان کو ہیڈکوارٹر اپر چترال میں اپنے کام کا آغاز کرنا چاہئے اور ایڈیشنل ڈیوٹی ادھر سے سےسر انجام دیں اگر اپر چترال نہ انا چاہتے ہیں تو اس کی جگہ کسی اور کو بیجھا جاے ۔ اجلاس کے آخر میں متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں مندرجہ بالا مسائل کے حل کیلئے 7 جولائی کی ڈیڈ لائن دی گئی۔ 7 جولائی تک مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں بڑی عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا جائے گا۔

Print Friendly, PDF & Email