108

چکدرہ۔چترا ل سی پیک روٹ ختم کرنے کے فیصلے کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کرینگے،سلیم خان

پشاور(سٹی رپورٹر) سابق صوبائی وزیر اور پیپلز پارٹی ضلع چترال کے صدر سلیم خان نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی موجود ہ حکومت نے سی پیک کے متبادل روٹ چکدرہ۔چترال۔شندور روڈ کے منظور شدہ منصوبے کو سردخانے میں ڈال کر چکدرہ۔سوات ایکسپریس وے پر کام کرنے کا فیصلہ کرکے دیر اور چترال کے 50لاکھ لوگوں پر ترقی کے دروازے بند کرنے کی دانستہ کوشش کی ہے جس کی ہم نہ صرف شدیدمذمت کرتے ہیں بلکہ اس ناانصافی کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے پر بھی غور کرسکتے ہیں۔پشارو پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا سابقہ وزیر اعظم نواز شریف کے دور حکومت میں سی پیک کے متبادل روٹ کے طور پر چکدرہ۔چترال۔گلگت منصوبے کو نہ صرف ڈئزائن کیا گیا بلکہ منصوبے کو بطورسی پیک متبادل روٹ کے ایکنک سے منظور کرایا گیا،تاہم الیکشن کے بعد برسراقتدار آنے والی تحریک انصاف کی حکومت نے چترال اور مالاکنڈ ڈویژن کے عوام کی پسماندگی دور کرنے کے لئے تجویز کردہ منصوبے پر عملدرآمد تیزکرنے کے بجائے منصوبے کو سرد خانے میں ڈالنے کے ساتھ ساتھ چترال کی ترقی کے لئے منظور شدہ کئی اور ترقیاتی منصوبے سالانہ ترقیاتی پروگرام سے نکال دیا اور بلاخر چکدرہ۔چترال۔گلگت روڈ منصوبے کو حکومتی ترجیحات میں سے ہی نکال باہر کرکے سوات موٹروے کا فیز ٹو بنانے کا اعلان کیا ہے۔سابق صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم سوات کی ترقی کے خلاف نہیں، لیکن مالاکنڈ ڈویژن کے پسماندہ ترین اضلا ع دیر اور چترال کی قیمت پر سوات کی ترقی غیر منصفانہ تصور ہوگا۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا فوری طور پر چکدرہ۔چترال۔گلگت منصوبے پر کام شروع کیا جائے تاکہ مالاکنڈ ڈویژن کے پسماندہ اضلاع کے عوام پر بھی ترقی کے دروازے کھل سکیں۔انہوں نے اعلان کیا کہ عید بعد ضلع چترال بالا،چترال پائین،دیر بالا اور دیر پائیں سے تعلق رکھنے والے سیاسی جماعتوں کے رہنماوں اور سول سوسائٹی مل بیٹھ کر اس حق تلفی کے خلاف لائحہ عمل طے کریں گئے اور مطالبہ تسلیم نہ کرنے کیصورت میں چکدرہ کے مقام پر یا وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں احتجاجی دھرنا شروع کرنے کے بارے میں مشاورت کرینگے، سابق صوبائی وزیر نے ضلع چترال بالاکے عوام کی ملکیتی چراگاہ شندور کو گلگت بلتستان کی حدود میں شامل کرکے ہنڈراب۔شندور نیشنل پارک بنانے کے وفاقی حکومت کے منصوبے کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شندور صدیوں سے چترالی کے عوام کی ملکیت ہے اور چترال کے عوام شندور کی ملکیت سے کسی صورت دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔انہوں نے کہا وفاقی حکومت گلگت بلتستان کے الیکشن میں سیاسی فوائدسمیٹنے کی خاطر اس قسم کے غیر دانشمندانہ فیصلوں سے گریز کرے۔

Print Friendly, PDF & Email