94

دیوان شاذی….ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

 کھوارکے شعراء میں سے کسی  شاعر کا پہلا دیوان منظر عام پر آیا ہے اور یہ شیر افضل شاذی کا دیوان ہے اس کا نام بھی شاعر کے تخلص کی منا سبت سے دیوانِ شاذی رکھا گیا دیوان ِ کا مقدمہ مو لا نگاہ نے لکھا ہے پیش لفظ شہزادہ تنویر الملک کی تحریر ہے کتاب کو چترال پرنٹنگ پریس نے  خوبصورت گرد پو ش کے ساتھ مضبوط جلد بند ی میں شائع کیا ہے شعری مجمو عوں میں دیوان غزلیات کے اُس مجمو عے کو کہا جاتا ہے جس میں غز لوں کی تر تیب ردیف کے اعتبار سے آتی ہے ردیف الف سے کتاب شروع ہو تی ہے اور ردیف یا پر ختم ہو تی ہے دیوان غا لب کا پہلا مصرعہ ”نقش فر یا دی ہے کس کی شو خی تحریر کا“ اور آخری حصے کی غزل کا مصرعہ اول ”مدت ہوئی ہے یار کو مہمان کئے ہوئے“ اس حساب سے کھوار میں شائع ہونے والا یہ پہلا دیوان ہے شاذی کی شاعری میں فصاحت و بلا غت کی مسلمہ خو بیوں کے علا وہ ایک خو بی یہ ہے کہ اس میں کھوار کے متروک یا قریب المتروک الفاظ بکثرت ملتے ہیں جیسے دسراؤ، ژورو، ٹم ٹکہ، یو غون، کھئی، بو نو دیک، ہیر، پونٹھا ر، رون، نخو نور، بیر، ما کو وغیرہ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق ؓ کا مشہور قول ہے کہ ”عر بی کی لغت کو شعرا نے اپنے اشعار میں محفوظ کیا ہے“ کھوار کی لغت کا بھی یہی حال ہے صنا ئع و بدا ئع کی رو سے اگر دیکھیں تو شاذی کی غز لیات میں خو ب صورت تشبیہات، تلمیحات، محا کات ملتی ہیں بعض اشعار میں کھوار اور فارسی کو ملا کر نئی ترا کیب لے آتے ہیں ایک غزل کا مطلع اس کا ثبوت ہے شاذی کہتے ہیں ؎
وصلو ارزوا غیچ براہ شینی
بو کتو لو چھی فراقو آہ شینی
غیچ کھوار ہے براہ فارسی ہے ان کو ملا کر چشم براہ کا کھوار متبادل نہا یت مہارت اور نزاکت کیساتھ پیدا کیا ہے لف و نشر کی صنعت جگہ جگہ خو ب صورت پیرایہ اظہار میں ملتی ہے ؎
لا لہ دشتہ غمگین گلا ب با غہ ہا سیر
کھیو شا بڑو کیو گازا کھیوکو روا پاشیس
محا کا ت کو شاعری کی جا ن قرار دیا جا تا ہے انوری، امیر خسرو، انیس، دبیر، جو ش اور حفیظ جا لندھری کے ہاں اس کے بہترین نمو نے ملتے ہیں شاذ ی نے جا بجا اپنے کلا م کو محا کا ت سے زینت بخشی ہے ؎
جیحون سے کو س غیچو صحرا سے کو س عشقو
گنگا سے کی ملکو جمنا سے کو س عشقو
تشبیہات میں شا عر نے چترا ل کی مخصو ص ثقا فت کا خیال رکھا ہے
ڑا یو مکوو غونہ دار بت دی ارام مہ نکی
کسیمان تان چیتہ نو جھو لو پھا نہ اسوم
بوس تھکو نو غو غونہ تو عاجز
جوش چھور بسہ تھے بو س تو پنجراش
نا گہہ ای خپ تو خیال کم نو قیا متو ساری
ہر دیہ تت سریران ای دوڑاورورووغونہ
قفہ شا ہینو چیلی بوہتو غونہ
ہش مہ قسمتو ماہ و سال شینی
شیر افضل شاذی نے کھوار کے متروک الفاظ کو اپنے کلا م میں خا ص ادا اور سلیقے سے محفوظ کیا ہے ؎
دسراؤ بکو خورو ہوستہ ای تیغون سایورج
ہتو میر شکار و پو شی پرائے ہر دیو ورنئج
جم رو یو سف کھکہ دونی تن غیچہ نشے
شاذیئے اخلا قو بیرا سفو تفاق
ہمارے ہاں بیر کو بھلا کر مقررین نے ”حوا لہ“ کااردو لفظ متعا رف کرا یا ہے اس کی جگہ بیر بہت مو زوں اور منا سب لفظ ہے ”حوالہ سورا“ کہنے کی جگہ اگر بیرا کہا جائے تو بات زیا دہ واضح ہو جائیگی تلمیح کو ضا ئع و بدائع میں خا ص اہمیت حا صل ہے شاذی صاحب تاریخ کا گہرا شفف رکتھے ہیں اور خوب صورت تلمیحا ت لے آتے ہیں
ابر ہو بیخ اوچھیتائے نوا شاذی
نشکہ بو ہتو سم ابا بیل نا یوران
نیلا م بازارہ گیتی بکو بو سا
چاہِ کنعا نو سوم خوشان بہچو سا
دیوان ِ شاذی کا مطا لعہ کرتے ہوئے شاعر کے فکر ی پس منظر کی طرف بار بار دھیاں دینا پڑتا ہے یہ ایسے شاعر کا کلام ہے جس کی مادری زبان کھوار نہیں انہوں نے پختون گھرانے میں آنکھ کھولی مستوج کے سکول، بازار اور گلی کو چوں میں کھوار سیکھنے کا مو قع ملا سکول کی تعلیم کے ساتھ ساتھ قاضی حضرت الدین شاہ جی سید علی شاہ اور شہزادہ افضل ولی کے سامنے زانو ئے تلمذ تہہ کر کے قرآن وحدیث، ادبیات فارسی اور نکا ت تصوف کو سیکھنے کا مو قع ملا اس طرح شاعری کی پر ورش و پرواخت ہوئی کیونکہ ان کے دا دا عبداللہ خان اور باپ محب اللہ خان علماء وصو فیا کے قدر دان تھے شیر افضل شاذی کا پہلا تخلص گُداز تھا ا س حوالے سے مستوج میں اپنے محلے کا نام ”گداز پور“ لکھتے ہیں کتاب کا انتساب بھی خوب صورت ہے اس کا اگر تر جمہ کیا جائے تو یوں ہو گا ”تیرے ہر چاہنے والے کے نام“ دیوان شاذی شاعر کی ساتویں مطبوعہ کتاب ہے اس سے پہلے نظم اور نثر کی چھ کتا بیں کھوار اور اردو میں شائع ہو چکی ہیں ابھی کا رِ ادب میں قلم کا سفر جاری ہے چھ مزید کتا بیں تحریر، تر تیب، کتا بت اور طباعت کے مرا حل میں ہیں دعا ہے ”اللہ کرے زور قلم اور زیا دہ“

Print Friendly, PDF & Email