86

ٹی ایم ایز اپر اور لوئر چترال کے زیر انتظام ٹینڈر شدہ منصوبوں پر فوری کام شروع کرکے انہیں مکمل کیا جائے۔عوامی کاحلقوں مطالبہ

چترال ( محکم الدین ) عوامی حلقوں نے ٹی ایم ایز اپر چترال اور لوئر چترال کے زیر انتظام دو مہینے قبل ٹینڈر ہونے والے ترقیاتی منصوبوں پر کام شروع نہ کرنے پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے چترال کے لوگوں کے ساتھ مذاق قرار دیا ہے ۔ اور وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان ، وزیر بلدیات اور ایم پی ایز چترال سے پُر زور مطالبہ کیا ہے ۔ کہ ٹینڈر شدہ ان ترقیاتی منصوبوں میں مزید تاخیر کے بغیر کام کا آغاز کیا جائے ۔ تاکہ بارش اور برفباری سے قبل منصوبے تکمیل کو پہنچ سکیں ۔ اور عوام کو سہولت مل سکے ۔ چترال شہر ، دروش ، مستوج ، موڑکہو اور بونی سے تعلق رکھنے والے افراد نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ۔ کہ متذکرہ مقامات کے ٹی ایم ایز کے انڈر ترقیاتی منصوبے جن میں روڈز ، پُل ،پائپ لائن ، گلیوں کی پختگی ، سولرائزئشن و دیگر دیہی کام دو مہینے قبل ٹینڈر ہو گئے تھے ۔ اور مقامی لوگوں کو اُمید تھی ۔ کہ یہ منصوبے ترجیحی بنیادوں پر بروقت تعمیر کئے جائیں گے ۔ اور عوام کو درپیش مشکلات سے نجات مل جائے گی ۔ لیکن انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے ۔ کہ طویل انتظار کے باوجود ان ٹینڈر شدہ ترقیاتی سکیموں پر کام شروع نہیں کیا گیا ۔ انہوں نےمایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔ کہ معلوم ہو رہا ہے ۔ کہ ترقیاتی منصوبوں کی تعمیر میں تاخیر کی وجہ فنڈز کی عدم دستیابی ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ حکومت کا یہ اقدام انتہائی افسوسناک ہے ۔ اگر فنڈز ہی موجود نہیں تھے ۔ توترقیاتی منصوبوں کے ٹینڈر کرکے عوام کو کیونکر بیوقوف بنایا گیا۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال میں ترقیاتی منصوبوں کی تعمیر کا انحصار موسم پر ہے ۔ ٹینڈر کے بعد گرمیوں کا سیزن گزر گیا ۔ اب خزان کا آغاز ہوا ہے ۔ جس کے بعد سردیوں میں معیار کے مطابق کام ہونا ممکن نہیں ۔ اس لئے آخری سیزن میں بلا تاخیر ترقیاتی منصو بے شروع کرنا انتہائی ضروری ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ایک طرف چترال کو ملنے والے ترقیاتی فنڈ انتہائی قلیل ہیں ۔ اور دوسری طرف اُسی قلیل فنڈ کی فراہمی میں مسلسل تاخیرسے لوگوں میں انتہائی مایوسی پھیل گئی ہے ۔ انہوں نے پُر زور مطالبہ کیا ۔ کہ فوری طور پر ٹینڈر شدہ منصوبوں پر کام شروع کرکے انہیں مکمل کیا جائے ۔ بصورت دیگر عوام احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے ۔

Print Friendly, PDF & Email