99

بادل چھٹ گئے………تحریر :ناہیدہ سیف ایڈوکیٹ

وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ دنوں اپنی حکومت کے دو سال مکمل ہونے پر ایک نجی ٹی وی کو تفصیلی انٹرویو دیا۔ جس میں نہ صرف اپنی حکومت کی کاکردگی بلکہ جو چیلنجز ان دو سالوں کے اندر درپیش ہوئے ان سے نمٹنے کے لئے جو اقدامات اٹھائے گئے ان سب پر روشنی ڈالی ،معیشت کی صحیح ڈائریکشن پر موڑنا ایک خوشخبری تھی جس پہ پی ایم صاحب نے قوم کو مبارک باد دی ،مہنگائی کے بارے میں اٹھائے گئے سوال پر انکا کہنا تھا مجھے اس بات کا احساس ہے لیکن کچھ سالوں سے جس بے دردی سے اس ملک کو لوٹا گیا جو گردشی قرضے اس ملک پر مسلط کیے گئے ان کو کسی طرح بیلنس پر لانے کے لئے مجھے مہنگائی کا زہر پینا پڑا مجھے اس بات کی فکر نہیں ہے کہ اگلے الیکشن میں میں نے کتنے ووٹ لینے ہیں میں اپنے ملک کو بنانے اس کے اداروں کو ٹھیک کرنے اس کی پٹری سے اتری معیشت کو سہارا دینے کے لئے آیا ہوں میں نے اس ملک کی تباہی اپنی انکھوں سے دیکھا ہے میں ضرور اس کو بہتر حالات تک پہنچاءونگا اس عزم کا اظہار ہمیشہ کی طرح اس بار بھی وزیراعظم نے بڑی خوداعتمادی سے کیا ،
ہر ایک باشعور شہری وزیراعظم کے اس بات سے مکمل اتفاق کرتا ہے کہ اب اس ملک کا اب سے بڑا مسئلہ اس کی معیشت کو پٹڑی پہ لگانا ہے اور اس کے لیے جو کوششیں ان دو سالوں میں کی گئی ہے اور اس کی بہتری کی انڈیکیشن باہر کے معاشی اداروں سے سننے کو مل رہی ہے جو کہ حوصلہ افزا بات ہے معیشت کی بہتری ہی ملک کا مسقبل ہوتا ہے اس کے بغیر آزاد ہونے کے باوجود بھی قومیں غلام ہی رہتی ہیں دیکھا جائے تو اتنی چیلنجز کے باوجود معیشت کی بہتری اس حکومت کی بہت بڑی کامیابی ہو سکتی ہے کیونکہ ایک طرف تو قدرتی آفت جیسے کروانا سے نبردآزما ہونا اور پھر بہت سمجھداری سے اس پہ قابو پانا بڑے بڑے ملکوں نے گھٹنے ٹیک دیئے یہ ڈبلیو ایچ او جیسے ادارے کے لئے بھی حیران کن تھا جس کا انہوں نے اظہار بھی کیا، ملک کے اندر چیلنجز کے علاوہ بیرونی سازشوں کا بھی اس حکومت کو سامنا کرنا پڑا جس میں ہمسایہ ملک کی مسلسل ہٹ دھرمی اور لابنگ کر کے ہمارے دوست ممالک سے ہمارے تعلقات خراب کرنے کی ناکام کوشش سرفہرست ہیں کچھ دن پہلے جب سعودیہ کے ساتھ تھوڑی ناراضگی ہوئی تو جلتی پہ تیل ڈالنے کا کام بھارت نے کر دیا ان کے بڑے بڑے رائٹرز کی طرف سے امریکہ کے بڑے اداریوں میں کالم لکھے گئے جن کا عنوان تھا بھارت نے سعودیہ کو پاکستان سے چھین لیا کیونکہ بھارت کی یہ دلی خواہش ہے کہ وہ بھی او آئی سی کا ممبر بنے اس کے لیے اسکا یہ کہنا ہے کہ چونکہ بھارت میں مسلمانوں کی بہت بڑی ابادی ہے اس لیے ہمیں بھی ممبر شب ملنی چائیے ایک دفعہ بھارتی وزیرخارجہ کو مندوب کے طور پر بلایا گیا تھا جس پر پاکستان نے احتجاج کر دیا تھا، اور کچھ ہمارے اپنے ملک کے اندر بغض سعودیہ رکھنے والوں کو بھی تسکین مل رہی تھی شاید وہ اس بات سے بے خبر تھے کہ سعودیہ سے تعلقات حکومت کا نہیں اسٹیٹ ٹو اسٹیٹ ہے یہ گھر گھر کا رشتہ ہے نہ اس کی جگہ کوئی لے سکتا ہے نہ کوئی ملک ساتھ دے سکتا ہے ہماری حکومت سے لے کر ہمارے مدرسوں تک ان کی طرف سے مدد اور ان کی طرف سے دیئے گئےخیرات گھر گھر تک پہنچتے ہیں جن کا اظہار وہ کبھی نہیں کرتے نہ ہی کبھی پبلسٹی کی ہے اتنا بڑا دل پیغمبروں کے وارثوں کا ہی ہو سکتا ہے کیونکہ خیرات دے کر کسی کی مدد کر کے اسکا اظہار کرنا وہ اپنی توہین سمجھتے ہیں بہت س باتوں سے ان کے ساتھ اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن بہت اچھی عادتیں بھی ان میں پائی جاتی ہیں جن پر تفصیل سے کبھی لکھا جا سکتا ہے ان کی ایک اچھی عادت یہ بھی ہے کہ وہ خود کو کبھی بھی پیغمبروں کا وارث نہیں سمجھتے اگرچہ وہ ہیں ،وہ خود کو گنہگار بندے سمجھتے ہیں ورنہ ہمارے ہاں جنکو سنت کا بھی نہیں پتہ وہ بھی پیغمبر کا وارث بن کہ پھر رہے ہیں اور اس بات پہ ان کو خوف بھی نہیں اتا چیزوں کو جس طرح استعمال کیا جاتا ہے اس ملک میں اسکا الگ ہی رونا ہے خیر بات لمبی ہو جائے گی ،تول کر بولنا اور سمجھداری سے بولنا داناءی کی علامت ہوتی ہے ورنہ لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں ،
اس خلیج اور چپقلش کو کم کرنے کے لیے ہمارے اہل سنت الجماعت کے علماۓ اور ہماری عسکری قیادت نے جو کردار ادا کیا ہے وہ قابل تحسین ہے اور انشااللہ یہ بھائی چارے کی فضا ہمیشہ قائم،دائم رہے امیں
مہنگائی پر قابو بہت بڑا چیلنج رہا ہے اس حکومت کے لئے ، جس نے غریب کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے وزیراعظم جس ریاست کو اپنا آئیڈیل مانتے ہیں اور ان سے بہت متاثر نظر آتے ہیں وہ مدینہ کی ریاست ہے یہ ریاست صرف مسلمانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ تمام بنی نوع انسان کے لئے ایک متاثرکن فلاحی ریاست تھی ایسا فلاحی ریاست روئے زمیں پر نمودار ہوا نہ شاید پہلے آیا تھا نہ ہی شاید بعد میں آئے یورپی تاریخ دان اس بات پہ حیران ہے کہ صرف بیس سال کے اندر ایسی ریاست کا قیام صرف متاثرکن ہی نہیں بلکہ حیران کن بھی ہے کیونکہ چالیس سال کی عمر میں یہ مشن تاجدار حرم کو سونپا گیا اور چونسٹھ سال کے قلیل مدت میں اس کو پائی تکمیل تک پہنچا کر اس کی عملی مثال دنیا کے سامنے پیش کرنا تھا جس ہستی کو یہ کام سونپا گیا تھا ان کی لیڈرشپ کے کمالات دیکھیے ،خدا ناخواستہ کوئی مکہ مدینے کے پہاڑوں سے ہیرے جواہرات نہیں نکلے تھے نہ ہی رومن ایمپائر یا پرشین ایمپائر کی طرف سے اونٹوں پر ہیرے جواہرات لائے گئے تھے نہیں بلکہ اپ (ص) نے سب سے پہلے لوگوں کی کردار سازی کی غلط اور صحیح میں تمیز ،جو عرب بے ایمانی کرتے دوسروں کا مال کھا کر فخر محسوس کرتے تھے وہی عرب دوسروں پر مال خر چ کرنے میں فخر محسوس کرنے لگے جو غلام بنانے پر اتراتے تھے وہی اب غلام آزاد کرنے پر اترانے لگے کہ میں نے اتنے غلام آزاد کئے ان کی پہچان ایمانداری بہادری سچائی سے ہونے لگی چور کے بارے میں فرمایا اور سخت فرما کہ میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو ان کے ہاتھ بھی کاٹ دیئے جاتے جب چوری نہیں ہو گی بدیانتی نہیں ہو گی معیشت خود بخود مظبوط ہوگی گویا معیشت کردار کا محتاج ہے تاج دار مدینہ کی ریاست بھی ان ہی کی طرح بے مثال تھی جہاں کرپٹ بے ایمان کی کوئی گنجائش نہیں تھی برتری کی بنیاد صرف تقوی اور کردار کی بنیاد پہ بلال حبشی کو کعبہ پر چڑھنے کی اجازت تھی شاید بڑے بڑے سردار اسکا خواب بھی نہ دیکھ سکتے،
کہا گیا جیسی قوم ہو گی ویسے ہی حکمران ان پر مسلط کیے جائیں گے اور ہمیں ماشااللہ بالکل ہمارے کردار کے مطابق اور اسی حساب سے میچ حکمران ملتے گئے وجہ اس کی یہ ہے کہ ہم نے اپنے اخلاقی اقدار اور کردار بہت مایوس کن حد تک کھو چکے ہیں ہم نے تہہ کیا ہوا ہے کہ ہم نے کرپشن اور بے ایمانی کو ہی لے کر آگے جانا ہے اس کی ہی حوصلہ افزائی کرنی ہے،
کہا گیا کہ برائی کو برا سمجھنے کی اخری حد برائی دیکھ کر چھپ رہنا ہے اور ہم ایمان کے اس چھوٹے اور اخری حد پہ بھی پورا نہیں اترتے اور چاہیے ہمیں مدینہ جیسی ریاست اور کم از کم ارطغرل عازی جیسے حکمران ،بہت سی چیزوں پر ہمیں سوچنے کی سمجھنے کی ضرورت ہے اور ملک کی تقدیر ہمیشہ قوم کے ہاتھ میں ہوتی ہے یہ یاد رکھنا چاہیے ،
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہماری ایک سیاسی پارٹی کے کارکن بڑے فخر سے اپنے لیڈر کے بارے یہ کہتے ہیں۔کہ کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے یعنی وہ خود مانتے ہیں کہ کھاتے ہیں بھئی یہ سمجھنا ہو گا کھانے کے لئے لگایا جاتا ہے جب لگاتے ہیں تب بھی اپنی جاگیریں بڑھ جاتی ہیں اور ملک دیوالیہ ہوتا ہے جب لگاتے ہیں تو علاج کے لئے باہر جایا جاتا ہے جب لگاتے ہیں تو لندن اور دبئی میں گھر بنتے ہیں لیکن لگاتے ایسے ہیں۔کہ لگائے ہوئے اپنے ہاسپٹلز میں اپنا علاج نہیں کراتے اس وقت اگر دودھ کی نہریں بہہ رہی تھی کاروبار چل رہا تھا لیکن اپنے بچے باہر کاروبار کر رہے ہیں ان سب کے لئے لگانا اور غلط طریقے سے لگانا بہت ضروری ہوتا ہے یہ بے وقوف بنانے کا ٹائم اب ختم ہونا چاہیے اور کچھ صحافی حضرات جو کہ بہت جمہوری ہیں لیکن ساتھ ساتھ موروثی سیاست کو پروموٹ کر رہے ہیں۔یہ۔جمہوریت کی کونسی قسم ہیں پتہ نہیں،
چالیس سال حکومت میں ادارے ستیاناس نیب خود بنایا چیئرمین خود لگایا لیکن اس پہ اعتبار نہیں دنیا میں وہ کونسی عدالت ہے جس میں جھتے لے کر ہلہ بول دیا جاتا ہے لیکن اس ملک میں ہو رہا ہے جسکا مطلب ہمیں یہ بتایا جا رہا ہے کہ تم لوگوں نے ہمیں حکومت کیوں دی تھی اگر دی تھی تو تین دفعہ وزیراعظم بننے کا مطلب اور صدر بننے کا مطلب قانوں سے بالاتر ہونا ہے ہمارا اور تم عام لوگوں کا قانوں ایک نہیں ہو سکتا یہ اصل میں ہمارے اپنے منہ پہ طمانچہ ہے
یہ ہے وہ کام جس کی وجہ سے یہ اس قوم کو جاہل رکھنا چاہتے ہیں،
کراچی میں بارش کے پانی کے ساتھ لوگ بہہ رہے بھتہ لے کر غیر قانونی تجاوزات پر بنے ہوئے مکانات کی وجہ سے پانی کے نکلنے کی جگہ نہیں جب بات کرے تو صوبائی تعصب کا چورں لے آئو اور لوگوں کو بلیک میل کرنا شروع کرو یہ انکا بنایا ہوا ملک اور انکا مشن ہے باقی کوئی بھی سمجھدار بندے کے لئے اجکل جاننا کوئی مشکل کام نہیں ۔
جمہوریت ہو یا کچھ اور ملک کے ساتھ قیادت مخلص ہونا چاہیے چائنہ میں تو جمہوریت نہیں لیکن دونوں بڑی جمہوری ملکوں امریکہ اور بھارت کے ناک میں دم کر کہ رکھا ہے ۔
لوگوں میں شعور آتا جا رہا ہے انسان کی یہ خوش قسمتی ہوتی ہے جب اس میں شعور اجائے کچھ تجربات سے کچھ حالات سے انسان سیکھتا ہے،
باشعور قومیں اس بات کو اب سمجھنے لگی ہیں کہ انہوں نے اب اپنے مذہب اور نیشنل ازم کا پرچار اور اس کی حفاظت خود کرنی ہے وہ ان حکمرانوں کو لا رہے ہیں جن کا جھکاؤ مذہب اور نیشنل ازم کی طرف ہے ہمسایہ ملک بھارت جو کہ ایک سیکولر اسٹیٹ مانا جاتا ہے وہاں عوام نے بی جے پی کو دو دفعہ بھاری اکثریت دی بی جے پی مذہبی راشیوں اور یو گیوں کی پارٹی ہے جن کے منشور کے مین پوائنٹ کشمیر کا الحاق اور بابری مسجد کی شہادت تھی اسی بیس پہ انہوں نے ووٹ لیا اور ہندوتوا انکا خواب ہے بھارت کے لوگوں سے جب پوچھا گیا تو انکا کہنا کہ ایک حکومت جب اپنے منشور کے مطابق کام کر رہی ہے تو کسی کو تکلیف نہیں ہونی چاہئے ۔
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ لوگ سیکولر اور لبرل حکمرانوں سے دل براشتہ ہو گئے وہ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ لبرل صرف ملک لوٹ سکتے ہیں جمہوریت کا چورں بھیج سکتے ہیں لیکن ان کے جذبات کی کبھی بھی ترجمانی نہیں کر سکتے یہ لبرل حکمرانوں نے ثابت کر کے دیکھایا ہے ان کو بہت موقع ملا ،اور دیا گیا
اپ میجارٹی کے جذبات کو ٹھیس پہنچا کر ان پر حکمرانی کا خواب نہیں دیکھ سکتے اور لبرل حکمران خود بھی عوام کے سامنے فیل اور بے نقاب ہو چکے ہیں ،اسی طرح امریکہ میں نیشنلسٹ صدر ٹرمپ جسکا تارکین وطن کے لئے کلیئر اسٹانس رہا ،یو کے میں بورس جانسن ،اسی طرح برادر ملک ترکی میں اردگان کا منشور اسلامی اقدار کی واپسی اور آیا صوفیہ کو واپس مسجد میں تبدیل کرنا تھا جب اس میں کوتاہی ہوئی تو استنبول میئر کے الیکشن میں اردگان کو اس کی قیمت چکانا پڑی دوبارہ سروے میں پچانوے فیصد لوگوں نے آیا صوفیہ کو دوبارہ مسجد میں تبدیل کرنے کے حق میں ووٹ دیا اسکا مطلب یہ ہے کہ اب قوموں کو اپنا مذہب اپنا ملک اپنے اقدار کی حفاظت خود ہی کرنی پڑے گی اور ایسے عناصر سے ہو شیار رہنا پڑے گا جو ملک کے میجارٹی کے جزبات کی عکاسی نہیں کرتے اور غیروں کا آلہ کار یا ان کے اشیرباد سے ملک پر حکومت کا خواب دیکھتے ہیں وہ سب کو بہت اچھی طرح نظر آتے ہیں سب کو ا ن کے شر سے ملکوں کو محفوظ رکھنا ہوگا ۔
خان صاحب کی بہت سی باتوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن اس بات پہ کوئی دو رائے نہیں کہ ایک لیڈر میں جو کوالیٹیز ہونی چاہیے وہ ان میں موجود ہیں ایک لیڈر کو ایسے ہی صاف گو بے باک اور نڈر ہونا چاہیے ایک طرف کم از کم وہ اپنے لوگوں کے غلط کاموں کو عوام کے سامنے لا رہے ہیں اور ان۔کی حوصلہ شکنی کر رہے ہیں وزراء پر چیک اینڈ بیلنس رکھا ہوا ہے اور اس مافیا کے ساتھ جس کا تھوڑا بھی پالا پڑا ہو ان کو پتہ ہے کہ یہ جدوجہد جہد مسلسل ہے اس ملک کے جڑوں تک ان کے کارندے بھیٹے ہوئے ہیں جن کے ساتھ جنگ کرنا اتنا اسان نہیں۔ اور یہ صرف دو سال کا کام بھی نہیں ،
دوسری طرف دنیا کے سامنے مسلمانوں کا کیس بہت اچھی طرح پریزنٹ کر رہے ہیں حال ہی میں اسرائیل کے معاملے پر ان کے دو ٹوک مؤقف نے دوسرے ممالک کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا جن کے بارے میں کہا جارہا تھا کہ شاید وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے جا رہے ہیں کیونکہ پی ایم صاحب کے انٹرویو کا وہ کلپ بار بار وہاں کا میڈیا دیکھا رہا تھا بہت ہی باریک اور خاص پیغام تھا کہ میرا ضمیر یہ گوارا نہیں کر سکتا ، کہ میں اسرائیل کو تسلیم کرو ،
گو کہ حکومت پر جو بہت سے مشکلات کے بادل منڈیلا رہے تھے وہ کافی حد تک چھٹ گئے ہیں لیکن ابھی بھی بہت سے چیلنجز باقی ہے جن کا سامنا کرنا ہے،
چالیس سال تک حکومت کرنے والوں کے ساتھ دو سال کی حکومت کا موازنہ کرنا بھی زیادتی اور ناانصافی ہو گی ۔ ان کے شروع کے دور حکومت کا بھی ہمیں علم ہیں کتنے بلنڈر مارے گئے تھے۔
احساس پروگرام اور صحت کارڈ بہت اچھے اقدامات ہیں لیکن اس کے ساتھ مہنگائی پر قابو پانا بہت بڑا چیلنج ہے ،جو کہ مسلسل حکومت کے لیے درد سر بنا ہوا ہے،
حکومت کے بہت فرائض ہوتے ہیں لیکن ساتھ ساتھ عوام پہ بھی کچھ زمہ داری ہوتی ہے جن کو پورا کرنے کے لیے ہمیں اپنے ضمیر کے سامنے جوابدہ ہونا چاہیے اور ضمیر کو مرنے نہیں دینا چاہیے کیونکہ ضمیر کو جب سلا دیا جاتا ہے تو پھر بندہ جو مرضی کرتا پھرے اس پہ کوئی قدعن نہیں رہتا ۔ مرے ہوا ضمیر اور مردہ دل انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتے۔
ہمیں برائی کو برا کہنے کی جرت اور برائی سے نفرت کرنے کی جرت اپنے اندر پیدا کرنے کی ضرورت ہے ہمیں منافع خوری بھتہ خوری، رشوت خوری اور بے ایمانی جیسے سطحی اور غلیظ کاموں سے خود کو بچانے کی ضرورت ہے ہمیں کرپشن اوراس پر اترانے والے لوگوں کو ان کی اوقات یاد دلانے کی ضرورت ہے۔ کہ بے ایمانی اور کرپشن پر گردن اونچی نہیں کیا جاتا بلکہ گردن جھکا کر شرم کیا جاتاہے ۔
یہ ماہ محرم سے بڑا سبق اور کوئی شاید نہ ہو اس روئے زمیں کی سب سے مقدس ہستی نے اپنا سب کچھ لٹایا لیکن غلط بے ایمان اور کرپٹ مافیا کے سامنے اپنا سر نہیں جھکایا ،اور رہتی دنیا تک صحیح اور غلط کے راستے کو واضح کر دیا

Print Friendly, PDF & Email