93

نوائے ُسرود   حسینیت اور یزیدیت   ……….  شہزادی کوثر

حق وباطل ہر زمانے میں ایک دوسرے کے مدِمقابل ٓائے ہیں ۔جب باطل کے اندھیرے انسانیت کو اپنی شیطانی گرفت میں جکڑ کر اس کے وجود کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو حق کا نور اس ظلمت کو مٹانے کے لئےظاہر ہوتا ہے۔حق و باطل کے اس معرکے کو کبھی ابراہیمٌ ونمرود کے نام سے جانا جاتا ہے ،کبھی موسیٌ اور فرعون کی شکل میں تاریخ کے اوراق پر ثبت کیا گیا ہے۔ کبھی یہ محمدﷺ اور ابو جہل کے نام سے صفحہِ دہر پر اپنے نشان چھوڑتا ہے اور کبھی حسینٌ اور یزید کے روپ میں کرب وبلا کا ناقابلِ  فراموش واقعہ بن جاتا ہے۔ دنیا کے حالات و واقعات سے یہ بات عیاں ہے کہ جھوٹ کے مقابلے میں جیت ہمیشہ سچائی کی ہوتی ہے چاہے جھوٹ اپنی طاقت وحشمت اور دبدبے میں بے مثل ہی کیوں نہ ہو۔ سچائی کے سامنے جھوٹ کی شکست یقینی ہوتی ہے۔ نبیﷺ کے دور میں دشمنان ِاسلام سے لڑی گئی جنگیں اور غزوات اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت ہیں کہ باطل کو اپنی کثرت پر جتنا بھی ناز تھا اسے ٓاخر کار حق کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہونا پڑا کیونکہ چٹان کے ٓاگے تنکوں کے ڈھیر کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی خشک گھاس ٓاگ کی لپٹوں سے خود کو محفوظ نہیں کر سکتی۔ نور و ظلمت کا یہ نہ ختم ہونے والا معرکہ ازل سے جاری ہے،۔۔۔۔۔

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز

چراغِ مصطفوی سے شرارِ بولہبی

قدرت کا دستور ہے کہ جب انسان کا غرور سر چڑھنے لگے تواسے گرانے والا بھی پیدا ہوتا ہے۔جب انا پھن پھلائے ناچنا شروع کرے تو اس کا سر کچلنے کا بندوبست کیا جاتا ہے۔جب یزید اقتدار کی ہوس اور طاقت کے نشے میں بد مست ہوگیا تو اس کے گھمنڈ کو خاک میں ملانے کے لئے نواسہء رسولﷺ کو چنا گیا وہ ہستی جنہیں دنیا دوشِ محمدﷺ کا مکین کہ کر پکارتی ہے۔جن کی وجہ سے نبیﷺ کے سجدے طویل ہوتے تھے جن کے رونے سے سرورِ عالم کا دل دُکھتا تھا جو جگر گوشہِ رسول ۔فاطمہؓ   کی ٓانکھوں کی ٹھنڈک اور شیرِخدا علیؓ کے دل کی دھڑکن تھے۔ جس نے حق پر کٹ مرنا قبول کیا لیکن یزید بن معاویہ کی انانیت کے ٓاگے سرِتسلیم خم نہ کیا۔کیونکہ جس سر کو خالقِ کون ومکاں کے حضور سجدہ ریز ہونے کی عادت ہو وہ زمانے کے جھوٹے خداوں کے ٓاگے جھکنا نہیں جانتا۔جس نے یزید کے ہاتھ میں ہاتھ دینے کی بجائے اپنا سر دینا قبول کیا۔جس نے حق کی سربلندی کی خاطر اپنے لختِ جگروں کو بخوشی قربان کیا تا کہ اسلام کی حقانیت پر کوئی حرف نہ ٓائے۔ جس نے اپنے نانا محمدِﷺ عربی کے دین کی لاج رکھنے کے لیے اپنی جان بھی قربان کر دی ۔سیدالشہدا کی یہ عظیم قربانی اسلام کے چمن کو اپنے لہو سے سینچنے کا عملی نمونہ ہے۔ حسین ابنِ علی نے جس فیاضی سے اپنا اور اہل وعیال کا خون راہِ حق میں بہایاوہ ان کی جرات و شجاعت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔اسلام کے ساتھ اس عشق نے حُر کو بھی اپنے حاکم سے سر تابی کر کے جناب حسین کی فوج میں شامل ہونے پر مجبور کیا ۔اپنے پیاروں کوٹکڑے ٹکڑے ہوتا ہوا دیکھ کر بھی حسینؐ کی ہمت میں کمی نہیں ٓائی ۔انہیں معلوم تھا کہ اگر اس نازک موقع پر ان کے قدم ڈگمگا گئے تو اسلام پر بدنما داغ لگ جائے گا اس لئے وہ ظلم وجبر کے ٓاگے سینہ سپر ہوگیا  ۔اس معرکہء خیر وشر نے واضح کر دیا کہ یزیدیت جتنی بھی طاقت ور ہو حسینیت کے ٓاگے کبھی نہیں ٹک سکتی۔کربلا کا واقعہ دنیا کا عظیم ترین سانحہ ،بے وفائی اور جور وستم کی ٓاخری حد ہے جس نے یزید جیسے سفاک کو قیامت تک باعث عبرت بنا دیا۔ شہادتِ حسینؑ  مثال ہے کہ باطل کے سامنے حق کی گردن کبھی نہیں جھکتی ،کربلا کے بے ٓاب وگیاہ ریگستان میں حسینؑ نے فرمایا ۔۔۔۔ اگر زندگی کا اختتام موت ہے تو پھر اس کا بہترین انتخاب شہادت ہے،،،،،       کرب وبلا کے لق ودق صحرا کو اپنے خون سے شاداب کرنے والے حسین ابن علیؓ نے سید الشہدا کا لقب اختیار کر کے دین کی وہ شمعیں روشن کیں جو شام ِ ابد تک فروزاں رہیں گی۔

یہ فقط عظمتِ کردار کے ڈھب ہوتے ہیں

فیصلے جنگ کے تلوار سے کب ہوتے ہیں

جھوٹ تعداد میں کتنا ہے زیادہ ہو سلیم

اہلِ حق ہوں تو بہّتر بھی غضب ہوتے ہیں

Print Friendly, PDF & Email