91

نوجوان سماجی کارکن شاہد اقبال کامسافروں سے اپنے ساتھ دوران سفرغیرضروری سامان لانے سے گریز کرنے کی التجا

اپرچترال (ذاکر محمد زخمی) ریشن میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعدمختلف سماجی و فلاحی تنظیمات گرانقدر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ان میں الخدمت فاونڈیشن پاکستان،فوکس ہیومنیٹرین کے علاوہ مقامی رضاکار دن رات ایک کرکے خدمت میں مصروف ہیں۔مقامی رضاکاروں میں دوسروں کے علاوہ ایک نام نوجوان سوشل ورکر شاہد اقبال کا بھی ہے۔جو نہ صرف ہمہ وقت خدمت میں مصروف ہے۔بلکہ علاقے کی حالات سے بھی ہمیشہ سوشل میڈیا کے ذریعے سب کو باخبر رکھتے ہیں۔شاہد اقبال نے دونوں اطراف کے مسافروں سے درد مندانہ اپیل کی ہے۔کہ دوران سفر انتہائی ضرورت کے سامان کے علاوہ اپنے ساتھ غیر ضروری سامان لانے سے گریز کریں۔کیونکہ ریشن گول کے اوپر لگائے گئے کیبل کار کی قوت براداشت اتنے نہیں کہ مسافروں کے ساتھ ان کے بھاری بوجھ برداشت کر سکے۔ اور مسافروں کے ساتھ غیر ضروری سامان کی وجہ سے ضرورت مند مسافر جن میں خواتین،بچے،بوڑھے اور بیمار پریشانی سے دوچار ہوتے ہیں۔اُنہوں نے ڈی۔پی۔او اپر چترال سے بھی اس سلسلے مدد کی اپیل کی ہے ساتھ شاہد اقبال نے ڈی۔پی۔او اپر چترال سے ڈرائیوروں پر نظر رکھنے کی بھی اپیل کی ہے۔جو ان کے بقول حالات سے ناجائز فائدہ اٹھا کر مسافروں سے زیادہ کرایہ وصول کررہے ہیں۔موجودہ صورت حال کاذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تیز بارش اور ریشن گول میں طعیانی کی وجہ سے تین مزید گھرانے ملیا میٹ ہوئے۔نالے کے قریبی لوگ خوف کی وجہ سے آج ایک بار پھرمحفوظ جگہ کی طرف گئے ہیں۔علاقے میں پانی کا قلت آب بھی باقی ہے۔آج ریشن کے لوگ استعمال کے لیے بارش کے پانی جمع کررہے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ افواہ گردش کر رہی ہے کہ کیبل کار(زانگو)سے گزار کر مسافروں سے فیس یا ٹیکس وصول کی جارہی ہے اس میں کوئی صداقت نہیں سوائے گمراہی پھیلانے کے۔اُنہوں نے خدشے کا اظہار کیا کہ ریشن نالے پر اگر پل کا انتظام جلد نہ کیا گیا تو پل کے دوسرے پار اشیائے خوردونوش کی قلت پیدا ہوگی۔شاہد اقبال نے ریشن کے دوسرے کنارے دریاہ کی کٹائی کو بھی تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریاہ کی کٹائی کی وجہ سے زرعی اراضی اور کئی گھر دریاہ برد ہوئے ہیں اس پر اگر توجہ نہ دی گئی تو اپر چترال روڈ بہت جلد اس کے زد میں آسکتی ہے۔ خدا نخواستہ اگر ایسا ہوا تو اپر چترال دیر تک دسرے علاقوں سے منقطع رہ سکتا ہے

Print Friendly, PDF & Email