43

موسمیاتی تبدیلیاں اور بروقت حفاظتی حکومتی اقدامات

محمدفیضان نواب ناظم
رواں سال مون سون کی بارشوں نے بڑے پیمانے پر جانی ومالی نقصانات کیے ہیں۔15 جون سے تا حال تقریبا 170 سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔خالی کراچی شہر میں ریکارڈ بارشوں کی وجہ سے ہونے والے حادثات اور سیلاب کے باعث تقریباً 50 کے قریب افراد ہلاک ہوئے۔شدید بارشوں کی وجہ سے ندی، نالوں اور دریاؤں میں طغیانی آچکی ہے اور نکاسی آب کے ناقص انتظامات کی وجہ سے ملک کے کئی حصوں میں سیلابی صورتحال دیکھنے کو مل رہی ہے۔موسمیاتی تبدیلیوں (Climate Change)کی وجہ سے پاکستان کو لاحق خطرات کے متعلق گزشتہ سال شائع شدہ ایک بین الاقوامی رپورٹ میں خبردار کر دیا گیا تھا۔ یہ رپورٹ Global Climate Risk Index Annual Report 2020 کے نام سے جرمن تھنک ٹینک Germanwatch” ‘ ‘ نے شائع کی۔ اس رپورٹ میں پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں پانچویں نمبر پر رکھا گیا ہے جو کہ پچھلے بیس سالوں کے دوران موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔پاکستان میں 1999؁ سے 2018 ؁تک موسم کے 152 شدید واقعات دیکھنے میں آئے ہیں۔اس دوران،9999، افراد موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے جان کی بازی ہار گئے اور پاکستان کو تین اعشاریہ آٹھ بلین ڈالر($3.8Billion) تک کے معاشی نقصانات اٹھانا پڑے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان اور دنیا،پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے لاحق چیلنجوں اور خطرات سے نپٹنے کے لئے خاطر خواہ اقدامات نہیں کر رہی ہے اور پاکستان کے لئے موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سخت موسمیاتی ترتیبات، سکڑتی ہوئی زراعت،سمندری کٹاؤ اور بارشوں میں تاخیر یا زیادتی کی وجہ سے پاکستان میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی ہے۔ ؁2010 ؁میں آنے والے سیلاب کی وجہ سے تقریبا 20 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے تھے جس نے ملک کے ایک پانچویں حصے کو متاثر کیا تھا اور اسی وجہ سے دیہی علاقوں سے شہروں کی جانب بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی تھی۔ایک NGO کے مطابق پچھلے چالیس سالوں کے دوران سندھ کے اضلاع ٹھٹھ، بدین اور سجاول کے متعدد علاقوں کے علاوہ سمندری کٹاؤ نے تقریبا 30 لاکھ ایکڑ اراضی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور سطح سمندر (Sea Level) میں اضافے کی وجہ سے یہ رجحان بڑھ رہا ہے۔موسمیاتی تبدیلیاں ہماری معیشت,زراعت,صحت اور تقریبا تمام تر نظام زندگی کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں۔موسمیاتی تبدیلیاں ایک قدرتی عمل ہے جس میں زمین کا درجہ حرارت وقت کے ساتھ قدرتی طور پر بدل رہا ہے، لیکن اس عمل میں تیزی انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے وقوع پذیر ہو رہی ہے۔اس عمل میں شدت آنے کی بہت ساری وجوہات ہیں جیسے جنگلات کا کٹاؤ(Deforestation)،ایکو سسٹم (Ecosystem)کی تباہی،جنگلات کو زرعی اراضی میں بدلنا، زراعت میں مختلف غیر قدرتی فرٹیلائزر (Synthetic Fertilizers) کا استعمال،فوسل فیولز (پٹرول ِ،کوئلہ، قدرتی گیس) کے جلنے کی وجہ سے گرین ہاؤس گیسز کا اخراج وغیرہ.گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں میں شدت لانے کی بڑی وجہ گرین ہاؤس گیسز (Green House Gases) ہیں۔ "World Resources Institute’s Climate Analysis Indicator Tool” (WRICAIT) کے اعداد و شمار کے مطابق 2016؁ میں پاکستان میں گرین ہاؤس گیسز کا ٹوٹل اخراج 403.67 ملین میٹرک ٹن (MtCO2e) تھا۔جس میں 43.51 فیصد گرین ہاؤس گیسز شعبہ زراعت سے منسلک سرگرمیوں کی وجہ سے خارج ہوئی اور 42.14 فیصد گیسز انرجی کے شعبہ(بجلی، نقل و حمل) سے منسلک سرگرمیوں کی وجہ سے۔جبکہ 2006؁ میں گرین ہاؤس گیسز کا ٹوٹل اخراج 312.19 ملین میٹرک ٹن تھا۔یعنی ان دس سالوں کے دوران گرین ہاؤس گیسز کا ٹوٹل اخراج 91.48 ملین میٹرک ٹن بڑھ گیا۔اور یہی ایک بنیادی عنصر ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں شدید موسمیاتی واقعات تیزی کے ساتھ وقوع پذیر ہو رہے ہیں۔حکومت وقت کو موسمیاتی تبدیلیوں سے نپٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے ہوں گے۔عالمی مالیاتی اداروں مثلاً ورلڈبینک,ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی جانب سے مختلف ماحولیاتی پروجیکٹ کے لیے فنڈز فراہم کیے جا رہے ہیں۔رواں سال جون میں ورلڈ بینک اور پاکستان کے مابین ماحول کی حفاظت,جنگلات لگانے، بائیوڈائیورسٹی کی حفاظت اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نپٹنے کے لیے مختلف پروگرامز اور پروجیکٹ کے لئے 188 ملین ڈالر کے فنڈز کی منظوری کے معاہدے پر دستخط ہوئے۔موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف جنگلات بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اس وقت پاکستان میں 6 فیصد سے بھی کم علاقہ جنگلات پر مشتمل ہے۔حکومت پاکستان کی جانب سے” 10 بلین سونامی مہم” کا آغاز ہوا جس کے تحت 2023؁ تک ملک بھر میں دس ارب درخت لگائے جائیں گے۔اور اسی پروگرام کے تحت گزشتہ ماہ ‘مون سون ڈرائیو’ کے نام سے، ایک ہی دن میں ملک بھر میں 35 لاکھ پودے لگائے گئے تھے۔شہروں میں جنگلات (Urban Forestry) لگائے جانا بھی اس مہم کا اہم حصہ ہے۔ جس کے تحت لاہور کی لبرٹی مارکیٹ اور شادمان کے علاقہ میں چھوٹے جنگل لگا دیے گئے ہیں۔جس کی وجہ سے گرمی کی شدت،سیلاب کے خدشات اور ہوائی آلودگی میں کمی آسکے گی۔گزشتہ سال نومبر میں حکومت پاکستان نے National Electric Vehicle Policy” "کو منظور کیا جس کے تحت 5 لاکھ الیکٹرک رکشوں اور موٹرسائیکلوں کے ساتھ ساتھ ایک لاکھ الیکٹرک کاریں، بسیں اور ٹرک نظام نقل و حمل میں اگلے پانچ سال تک لائے جائیں گے۔اس پالیسی کا مقصد 2030؁ تک کم از کم 30 فیصد تمام گاڑیوں کو بجلی سے چلایاجائیگا.اس طرح گرین ہاؤس گیسز کے اخراج اور ہوائی آلودگی میں خاطرخواہ کمی آ سکے گی۔اسی طرح کراچی میں Karachi Breeze Red Line Project کے لئے ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے تقریبا 245 ملین ڈالر فنڈز کی منظوری دی ہے۔اس پروجیکٹ کے تحت کراچی میں بائیو گیس کے استعمال سے بسیں چلائی جائیں گی جن سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کی زیرو امیشن ہوگی اور اس طرح تقریباً 2,45,000 ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو ہر سال روکا جا سکے گا۔حکومت کو چاہیے کہ سنجیدگی اور مستقل مجازی کے ساتھ ماحولیاتی پروگرام اور پروجیکٹس کو پایہ تکمیل تک پہنچائے۔ماحولیات کی حفاظت کے لیے منظور شدہ قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروایا جائے اور موجودہ ماحولیاتی صورتحال کی مناسبت سے قوانین میں ترامیم اور نئے قوانین منظور کروائے جائیں۔موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لئے قومی ماحولیاتی ماہرین کے ساتھ ساتھ غیر ملکی ماہرین سے بھی مشاورت کی جائے۔گزشتہ دنوں ہونے والی مون سون کی طوفانی بارشیں اس بات کا مبین ثبوت ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں پاکستان کے لیے بڑے خطرات پیدا کر رہی ہیں اور اگر ان خطرات کو سنجیدہ نہ لیا گیا اور بروقت اقدامات نہ اٹھائے گئے تو مستقبل میں شدید موسمیاتی واقعات دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email