42

گوہرآباد: گلگت بلتستان کا اسلام آباد۔۔۔۔خاطرات: امیرجان حقانی

یہ میرے لئے اطمینان کی بات ہے کہ گوہرآباد میر ا گاوں ہے۔اور میں گوہرآباد کا ہوں۔گوہرآباد ایک بہت بڑا علاقہ ہے جو تھلیچی سے شروع ہوکر، دو نوں رائیکوٹ سے ہوتے ہوئے کھنر تک اور گونرفارم تک پھیلا ہوا ہے۔دونوں گیس اور سنٹرگوہرآباد میں کھربوں مالیت کے قیمتی جنگل ہیں۔فیری میڈو اور نانگا پربت جیسی عالمی شہرت یافتہ سیاحتی پوائنٹس بھی وادی گوہرآباد میں ہی ہیں۔گوہرآباد وہ واحد علاقہ ہے جس کا ہر ہر پتھر، ہر ہر درخت، ہر ہر پہاڑی ہر ہر جنگل اور ہزاروں ایکٹر بنجر اراضی اہالیان گوہرآباد کی ملکیت ہے۔فیری میڈو کے علاوہ گوہرآباد کے سیاحتی مناظر ابھی تک ایکسپوز نہیں ہوئے ہیں ورنا مارتل سے لے کرملپٹ تک سطح سمندر سے ہزاروں میٹر بلندی پروسیع و عریض اور بڑے بڑے میادین ہیں اور درجنوں جھیلیں اور پاکستان کے سب سے گھنے قدرتی جنگل ہیں جہاں درجنوں قسم کی قیمتی لکڑی اور درخت موجود ہے۔
وادیِ گوہرآبادکی سینکڑوں خصوصیات ہیں تاہم گوہرآباد کے مکینوں کے چند اوصاف ایسے ہیں جو گلگت بلتستان کے کسی بھی علاقہ میں اب تک نظر نہیں آئے۔ میں مبالغہ کا عادی نہیں ہوں ۔ جو لوگ گوہرآباد یا اہلیان گوہرآباد کو جانتے ہیں وہ خود اس چیز کی گواہی دیں گے۔ گوہرآباد کا تعلیمی ریشو انتہائی حوصلہ افزا ہے۔لوگ بھوکے رہنے کے لیے تیار ہیں لیکن اپنے بیٹے بیٹوں کو تعلیم دینے میں کسی قسم کا کمپرومائز نہیں کرتے۔امیر تو امیر، غریب لوگ بھی محنت مزدوری کرکے، بھیڑ بکریاں پال کر، جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر اور زمین بیچ کر اپنی اولاد کو تعلیم دلاتے ہیں۔اگر سروے کیا جائے تو گوہرآباد کے غریبوں کی اولاد اعلی تعلیم حاصل کررہی ہوتی ہے۔بڑی تعداد میں غریب لوگوں کے بچے ڈاکٹر، انجینئر،جج، پروفیسر،وکیل،عالم، مفتی اور دیگر محکموں میں سرکاری اور غیر سرکاری بڑی اسامیوں پر براجمان ہیں۔گوہرآباد کی بیٹیاں بھی سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کیساتھ دینی تعلیم میں گلگت بلتستان کے کسی بھی گاوں میں سب سے زیادہ ہیں۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی گلگت بلتستان کی فاضلات میں سب سے زیادہ گوہرآباد کی طالبات نے ڈگریاںحاصل کی ہیں۔ دیامر ڈویژن اور گلگت ڈویژن کی بنات کی تمام جامعات میں گوہرآباد کی بیٹیاں تعلیم و تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں اورمجموعی طور پر سب سے زیادہ ہیں۔گاوں کے اعتبار سے گلگت بلتستان میں سب سے زیادہ پروفیسرز، اساتذہ، علماءکرام، حفاظ، ججز، وکلائ،ڈاکٹرز، انجینئرز اور پولیس آفیسران گوہرآباد کے ہیں۔ ایڈمینسٹریٹیو پوسٹوں پر دیگرعلاقوں کے مقالبے میں گوہرآباد کے آفیسرازن زیادہ ہیں۔البتہ پاکستان آرمی کی بڑی پوسٹوں پر جانے کا سلسلہ ابھی شروع ہوا ہے۔فورس کمانڈر میجرجنرل ڈاکٹر احسان محمود نے درست کہا ہے کہ ”گوہرآباد تعلیم کے اعتبار سے گلگت بلتستان کا اسلام آباد ہے۔“
گوہرآباد میں قتل و غارت اور بدامنی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔غیرت کے نام پر سالوں میں کوئی قتل ہوجاتا ہے لیکن جلدی سے صلح کروائی جاتی ہے۔ذاتی دشمنیوں سے لوگ بہت دور رہتے ہیں۔عورت کا جو احترام گوہرآباد میں ہے ابھی تک کسی علاقے میں مجموعی طور پر اتنا احترام دیکھنے میں نہیں آیا۔لاریب گوہرآباد کی عورت بہت ہی محفوظ ہے۔ ایک عورت اکیلی میں کئی کئی میل سفر کرجاتی ہے۔کھیتوں میں کام کرتی ہیں۔بغیر مردوں کے عورتیںجنگل میں چلغوزے کاٹتی ہیں۔مگر مجال ہے کہ کسی نے اس عورت کا راستہ کاٹا ہو، کسی نے کوئی جملہ کَسا ہو، کسی نے کوئی آواز لگائی ہو،سالوں میں بھی کوئی ایسی بات سامنے نہیں آئی۔یہاں تک کہ خواتین بعض دفعہ راتوں کو کھیتوں میں پانی دیتی ہیں۔آج تک کسی عورت نے اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھا نہ ہی خوف محسوس کیا۔ اور نہ ہی کوئی سوچ سکتا کہ ان خواتین کو کوئی زِک پہنچائے۔
گوہرآباد کے بنجر اراضیوں اور جنگلات پر آپس کے بہت سارے تنازعات ہیں۔یہ تنازعات شخصی بھی ہیں اور گروپس کے مابین بھی ہیں۔ عدالتوں میں کیس چلتے رہتے ہیں لیکن لوگ ان تنازعات کی بنیاد پر نہ لڑتے ہیں نہ جھگڑتے ہیں۔ان عوامی تنازعات میں چھوٹی موٹی ناراضگیاں ہوبھی جائیں تو جلد ختم کردیتے ہیں اور شیر و شکر ہوتے ہیں۔بلکہ شادیاں بیاں اور دیگر غمی خوشی کے ایام میں ایک دوسروں کے معاملات میں شریک ہوتے ہیں۔درجنوں ایسے معاملات ہیں جو اربوں کے ہیں۔ ان کو بنیاد بنا کر لڑائی جھگڑے اور قتل و غارت کی آج تک نوبت نہیں آئی۔آج تک سوشل بائیکاٹ کا ایک کیس بھی سامنے نہیں آیا۔کھرتلوٹ پشلوٹ کے مابین اربوں کی ریالٹی، کھربوں کے جنگلات وغیرہ کا ۵۳ سال سے عدالت میں کیس چل رہا ہے مگر اس کو بنیاد بناکر ایک دوسروں سے ایک بھی شخص ناراض نہیں بلکہ سالوں سے یہ معاملہ ہونے کی باوجود بھی لوگ آپس میں رشتے کرتے ہیں اور خونی رشتوں میں جُڑ جاتے ہیں۔
گوہرآباد میں چوری چکاری اور لوٹ مار کا ریٹ زیرو فیصد ہے۔گوہرآباد کے تمام علاقوں اور نالوں میں سال بھر مال مویشی بغیر مالک کے جنگلوں ، بیابانوں اور چراگاہوں میں چرتی ہے۔ کسی کی ایک بکری یا گائے کا بچھڑا تک چوری نہیں ہوتا۔ اگر کوئی بکری یا گائے گم بھی ہوجائے تو سات اٹھ مہینے بعد بھی مل جاتی ہے۔ مساجد میں اعلان ہوتا ہے کہ میری بکریوں کے ساتھ اس قسم کی ایک بکری ہے جو میری نہیں۔ یہ بات پورے گوہرآباد میں پھیل جاتی اور مالک پہنچ جاتا ہے۔گوہرآباد میں جلانے اور تعمیراتی لکڑیاں ہرجگہ پڑی رہتی ہیں، کوئی نہیں اٹھاتا۔ان قیمتی لکڑیوں کو محفوظ جگہ میں رکھنے کا کلچر ابھی آیا نہیں اس لیے کہ ہر جگہ محفوظ ہی ہے۔منوں کے حساب سے سوکھا چارہ بھی کسی جگہ جمع کیا جاتا ہے۔ مجال ہے کوئی ادھر ادھر کرے۔اگر کوئی چوری کرتا ہے یا کرنے کی کوشش کرتا بھی ہے تو پورا علاقہ اس کو تضحیک کا نشانہ بناتا ہے۔روڈ پر سامان گاڑی سے اتار کرڈائیور چلا جاتا ہے۔ بعض دفعہ سامان کا مالک اگلے دن پہنچتا ہے مگر اس کی سامان کو کوئی ہاتھ نہیں لگاتا۔میری پوری فیملی گزشتہ سات سال سے گوہرآباد سے باہر ہے۔ سال میں ایک دفعہ بھی چکر نہیں لگتا۔میرے ہزاروں پھلدار درخت ہیں۔ آج تک ایک درخت کسی نے نہیں کاٹا نہ گھر کا تالہ کسی نے توڑا ہے۔ صحیح سالم اور محفوظ ہیں۔ یہی حال سینکڑوں لوگوں کا ہے۔ وہ بے شک ملک کے دیگر حصوں میں ہے مگر ان کی جائیداد محفوظ ہے۔باقاعدہ کوئی محافظ بھی نہیں ہوتا۔گوہرآباد میں گھروں کی بڑی بڑی اونچی چاردیواریاں بنانے کا رواج ہی نہیں۔آج تک کسی کے ذہن میں یہ بات آئی ہی نہیں کہ چاردیواری اور کانٹے کی باڑ لگا کر گھر یا کھیت کو محفوظ بنایا جائے۔لوگ گھر سے کئی میل دور روڈ پر مہنگی ترین گاڑیاں کھڑی کرکے بے خوف ہوکر گھر چلے جاتے ہیں اور دو دن تک گاڑی کے قریب بھی نہیں جاتے۔آج تک کوئی گاڑی چوری ہوئی نہ ہی خراب کی گئی ۔
گوہرآباد کے لوگوں میں کئی خامیاں ہوسکتی ہیں لیکن میں وثوق سے کہتا ہوں ، جن چیزوں کا تذکر ہ میں نے کیا ہے، قطعا مبالغہ نہیں کیا۔جو کہا ہے اس سے زیادہ بہتر ہے صورت حال۔میرے کسی دوست نے کہا تھا کہ” بعض معاملات میں گوہرآباد کے لوگ فرشتہ صفت ہیں بالخصوص خواتین کے متعلق گوہرآبادیوں کا خیال و عمل دونوں قابل تقلید ہیں۔دور دور کے رشتہ دار بھی ایک دوسروں کے پاس آنا جانا کرتے ہیں مگر ان کے دل میں برا خیال تک نہیں گزرتا ۔یہ بات دیگر علاقوں میں مفقود ہی ہے۔“
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اہالیان گوہرآباد یوں ہی امن و آشتی اور سکون وراحت کے ساتھ زندگی گزارتے رہیں۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔

Print Friendly, PDF & Email