49

ترقی کا معیار…..ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی

ترقی کا معیار کیا ہے اور کیا ہو نا چا ہئیے اسلام کی تعلیمات میں تقویٰ کو معیار قرار دیا گیا ہے تقویٰ کے تین اجزاہیں پہلا جزو ہے حق پر قائم رہنا دوسرا جزو ہے نا روا کاموں سے بچنا اور تیسرا جزو ہے پا کبازی اور بھلائی پر قائم رہنا ان تین صفا ت کو انگریزی میں میرٹ کہتے ہیں میرٹ کے مقا بلے اسکر پشن (Ascription) ہے اس کا مفہوم یہ ہے کہ حقدار ی، لیا قت اور استحقاق کے بغیر کسی چیز پر قبضے کی کو شش کرنا تر قی کا معیا ر آج مجھے جنو بی افریقہ کے شہر جو ہا نسبر گ میں رہنے والے دوست نے یا د دلا یا دوست کا کہنا ہے کہ سنگا پور کی کامیا ب مثال سامنے رکھنا آسان ہے اس کو سمجھنا ہمارے لئے مشکل ہے کیونکہ ہم نے دیکھا نہیں ہے ہما رے لئے کشور محبو با نی سے زیا دہ قابل فہم باتیں ڈاکٹر اکین مابو گنجی کی خود نو شت سوانخ عمری ے رمیژر آف گریس کے اندر لکھی ہوئی ہیں مغربی افریقہ کے اہم ملک نائجیریا سے تعلق رکھنے والے اس مشہور جغرافیہ دان کی کتاب میں نا کام ریا ست کی کہا نی ہے وطن عزیز پا کستان کے ساتھ اس کہا نی کی چھ حیر ت انگیز مما ثلتیں ہیں پہلی مما ثلت یہ ہے کہ 1960ء میں بر طانوی غلا می سے آزادی کے بعد اس ملک نے اتحا د، تنظیم، امن اور تر قی کو اپنا نصب العین قرار دیا آج ان میں سے کوئی ایک بھی قومی زندگی میں نظر نہیں آتا دوسری مما ثلت یہ ہے کہ ان کا قا نون بر طانوی میراث کا آئینہ دار ہے، تیسری مما ثلت یہ ہے کہ وہاں انتخا بات کے بعد دھا ندلی کا شور مچا یا جا تا ہے اور فوج حکومت سنبھالیتی ہے،چو تھی مما ثلت یہ ہے کہ وہاں کرپشن کو ملک کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا جا تا ہے، پا نچویں مما ثلت یہ ہے کہ نصف صدی کی تاریخ میں نصف سے زیا دہ عرصہ فوجی حکومتیں رہی ہیں اور چھٹی مما ثلت یہ ہے کہ ان کی معیشت میں تجا رت کا 80فیصد چینی درآمدات پر انحصار ہوتا ہے میرے دوست کا کہنا ہے کہ کامیاب سنگا پور کی مثال سے زیا دہ اہم بات یہ ہے کہ نا کام نائجیریا کی مثال پر غور کیا جائے دوست کی بات پلے سے باندھنے کے بعد غور کیا تو ایک اور مما ثلت نظر آئی نا ئجیریا آبادی کے لحا ظ سے دنیا کا ساتواں ملک ہے اس کی آبادی 20کروڑ ہے جس میں 250قو میتیں اور 500زبا نیں ہیں آبادی کے لحا ظ سے ساتواں ملک ہونے کے باوجود انسانی تر قی،تعلیم، ہنر اور پیشوں کے لحا ظ سے دنیا میں نائجیریا کا شمار 158نمبر پر ہو تا ہے گویا 157مما لک نائجیریا سے آگے ہیں لیکن نائجیریا غریب ملک نہیں دنیا کا دسواں امیر ملک ہے تیل کے ذخا ئر کے اعتبار سے دسویں نمبر پر ہے اس کے باوجود 55فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گذار رہی ہے اور فاقہ کشی کا شکار ہے 63فیصد شہری آبادی کچی بستیوں میں رہتی ہے نا ئجیریا کے قدرتی وسائل میں پا نی، جنگلات اور جنگلی حیات کو نما یاں مقا م حا صل ہے اس ملک کے نیشنل پارک دنیا بھر میں مشہور ہیں اور آمدن کا بڑا ذریعہ ہو سکتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ نا ئجیریا میں ”جس کی لا ٹھی اس کی بھینس“ والا نظام چلتا ہے میرٹ کی جگہ اسکرپشن کا قانون ہے بڑے بڑے عہدے طاقتور گروہوں کو کسی استحقاق کے بغیر دیئے جا تے ہیں 1998ء میں آخری فوجی ڈکٹیٹر سنی اباچہ کے انتقال کے بعد جو اعداد شما ر عالمی بینک کی طرف سے جاری کئے گئے ان کے مطا بق آزادی کے بعد 40سالوں میں سے 23سال ڈکٹیٹر وں نے حکومت کی 17سال سیا ستدانوں نے حکومت کی دونوں نے ملکر 400ارب ڈالر کی کر پشن کروائی 2015ء میں 10سالوں کی کرپشن کے اعداد شمار عالمی بینک کی طرف سے مشتہرکئے گئے ان میں کہا گیا کہ حکمرانوں نے ما ضی سے کچھ نہیں سیکھا ان 10سالوں میں 150ارب کی مزید کرپشن ہوئی نا کامی کے اس ما ڈل کا تفصیلی ذکر ما بو گنجی کی سوانح عمری میں ملتا ہے مصنف نے ایک دلچسپ خا کہ تیا ر کیا ہے جس میں انسانی قا بلیت کو چار درجوں میں تقسیم کر کے ان درجوں کو مختلف عہدوں کے اندر جگہ دے کر دکھا یا گیا ہے کہ نا ئجیریا سے کہاں غلطی ہوئی اور اس غلطی کا کیا نتیجہ برآمد ہوا انسانی صلا حیت اور قابلیت کے چار درجوں اے، بی،سی اور ڈی کے چار الگ الگ خا نوں میں دکھا یا گیا ہے نا ئجیریا میں ڈی اور سی گریڈ والوں کو قومیت، دولت اور اثر رسوخ کی بنیا د پر سب سے بڑے عہدے دیئے جا تے ہیں اے پلس،اے،بی اور بی پلس کے حا مل افراد کو نا لا ئق لو گوں کی ما تحتی میں جگہ دی جا تی ہے اس کا نتیجہ یہ ہو تا ہے کہ کسی دفتر یا محکمے میں اگر کوئی اچھا کام ہوتا ہے تو اوپر بیٹھا ہو ا نا لائق شخص اس کی قدر نہیں کر تا اور اچھا کام ضائع ہوجا تا ہے دوسرا نتیجہ یہ ہو تا ہے کہ اوپر بیٹھا ہو ا نکما اور نا لائق شخص دفتر کے لائق فائق اور قابل ما تحتوں کو اپنے لئے خطرہ سمجھتا ہے اور ہر دفتر میں جا سوس رکھ کر ان کی نگرا نی کر تا ہے جو پورے دفتر ی نظم و نسق پر بری طرح اثر انداز ہو تا ہے الغرض میرٹ کی خلاف ورزی نے گذشتہ 60سالوں میں نائجیریا کو نا کام ریا ست بنا دیا ہے ما بو گنجی کی سوانح عمری میں پا کستانی پا لیسی سازوں کے لئے ایک سبق ہے مگر یہاں کوئی سبق لینے والا نہیں

Print Friendly, PDF & Email