55

حکمران اور عوام ایک ہی راستے پر گامزن

نغمہ حبیب

ہمارا معاشرہ اس وقت کس طرف جارہا ہے یہ ایک بہت بڑا سوال ہے جو ہم کے سامنے دھرا پڑا ہے۔ ہم میں سے اکثریت اس دکھ میں مبتلا ء ہے اور اس پر اعتراضات اٹھاتا رہتا ہے لیکن ہر ایک دوسرے کو اس کا ذمہ دار سمجھتا ہے، کوئی نہ اپنی ذمہ داری محسوس کرتا ہے نہ پوری کرنے کی لیے تیار ہے۔اگر انہیں یہ احساس دلایا جائے تو اسے قبول کرنے کی بجائے الٹا چور کوتوال کو ڈانٹنے لگ جاتا ہے۔ اگر ہم معاشرتی بے رہروی سے بات شروع کریں تو اس کے بہت سے ذمہ دار سامنے آتے ہیں۔ حکومت سیاسی جوڑ توڑ میں مصروف ہونے کی وجہ سے اس طرف کوئی بھی دھیان دینے کی ضرورت ہی نہیں سمجھتی چاہے جس سیاسی جماعت کی حکومت ہو اس کے خیال میں اسکا کام صرف حکومت کرنا ہے اور کسی بات کی وہ ذمہ داری نہیں وہ معاشرے کے بناؤ یا بگاڑ کاخود کو ذمہ دار سمجھتے ہی نہیں۔ اس کے محکمے تو قائم ہیں کہ وہ مختلف کام کریں اور ان میں چند ایسے بھی ہیں جو براہ راست معاشرے کی تعمیر کے ذمہ دار ہیں لیکن ایسا کچھ ہو نہیں رہا۔ محکمہ تعلیم کو ہی لیجئے اس کا کام گراس روٹ لیول پر معاشرے کی تعمیر کرنا ہے لوگوں میں شعور پیدا کرنا ہے برے بھلے کی تمیز سکھانا ہے ملک کابا مقصد اور باشعور شہری بنانا ہے لیکن ہو کیا رہاہے کہ بچے کتابوں کے بے تحاشابوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ استاد بس یہ کتابیں پڑھا رہاہے سیکھنے سکھانے تک نوبت ہی نہیں پہنچ رہی کیونکہ مقدار معیار پر غالب آرہی ہے مقدار کے تقاضے پورے کرتے کرتے معیار پر کوئی توجہ ہی نہیں دی جاسکتی۔یہی حال ہماری وزارت ثقافت کا ہے جوثقافت کے نام پر معلوم نہیں کس کی ثقافت کی فروغ دے رہی ہے حالانکہ یہ وہ میدان ہے جو معاشروں کی بنیاد بنتا ہے۔ہم اپنے لوگوں کو ڈر امہ اور فلم کے نام پر جو بیہودگی دکھارہے ہیں وہ ہر گز کسی اچھے معاشرے کی بنیاد نہیں بن سکتا ہم نہ تو لباس کے معاملے کو سنجیدہ لے رہے ہیں نہ حرکات کے۔اگر ہمارا میڈیا اپنے چلن درست کرلے تو ہم معاشرے میں ایک مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں لیکن یہاں اگر فلم ہے تو اپنی روایات سے بغاوت دکھا کر کہہ دیا جاتا ہے کہ ہم نے بولڈ موضوع کو لیا ہے یا ہم نے ٹیبو توڑا ہے یہ نہیں سوچا جاتا کہ اس طرح سے ان خیالات کو ہم ان دماغوں تک پہنچا رہے ہیں جنہوں نے کبھی اس مو ضوع یا حرکت کوسوچا بھی نہیں تھا لیکن ہوتا یہ ہے کہ انہیں گلمرائز کر دیاجاتا ہے اور ایک وبا کی طرح معاشرے میں پھیلادیا جاتا ہے۔ یہ حال تو بالائی سطح پر اقدامات کا ہے لیکن نچلی سطح پر بھی ہم میں وہ تمام برائیاں موجود ہیں جو کسی معاشرے کے زوال کا سبب بنتی ہیں یہاں اگر عام آدمی ہے تو وہ شدید عدم برداشت کا شکار ہے جس کے مناظر آپ کو سڑکوں اور بازاروں میں نظر آتے ہیں۔ ہم صرف اپنے آپ کو ہی عقلمند سمجھتے ہیں اور حق بجانب بھی،نہ دوسرے کے نکتہء نظر کو سننے کے روادار ہیں نہ سمجھنے کے۔ ہم صرف اپنے آپ کو ہی اچھا مسلمان سمجھتے ہیں اور ہر دوسرے پر کفر کا فتویٰ لگانا اپنی مسلمانی کی دلیل سمجھتے ہیں۔ ہم مذہبی فرقہ واریت سے لے کر صوبائی تعصب تک میں مبتلا ء ہیں اور ہر ایک خود کچھ اچھا کرکے ملک کی بہتری میں اپنا حصہ ڈالنے کے بجائے دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش میں لگاہوا ہے اوریوں ہم اقوام عالم میں اس مقام تک نہیں پہنچ پا رہے جہاں ہمیں تہتر سالوں میں ہونا چاہیئے تھا۔ ہم اپوزیشن میں ہوکر جو بلند بانگ دعوے کرتے ہیں وہ حکومت میں جاتے ہی ناقابل عمل منصوبے بن جاتے ہیں اسی طرح ایک عام آدمی جو کام دوسروں کو کرنے کی تلقین کرتا ہے وہ اس کام کو کرنااپنی توہین سمجھتاہے۔ ہمارا عام آدمی نوکری نہ ہونے کا گلہ اور شکایت ضرور کرتا ہے لیکن جب اسے نوکری مل جاتی ہے تو وہ کام کرنے کی بجائے آخری تاریخوں اورتنخواہ وصول کرنے کا انتظار شروع کر دیتا ہے۔آپ کسی کاریگر کو گھرلائیے اور پھر دیکھئے کہ وہ کام کتنا کرتا ہے اور معاوضے کے لیے تقاضا کتنا کرتا ہے۔ مجھے خود ذاتی طور پر گھر کی تعمیر کے دوران اس بات کا تجربہ ہوا کہ مختلف کاریگر کس طرح آپکے کام کو طول دیتے جاتے ہیں اور کام کے معیاری ہونے یا نہ ہونے کی انہیں کوئی پرواہ نہیں ہوتی اور بیچارا مالک مکان اس کے سامنے مکمل طور پر مجبور ہوتا ہے۔ اب آئیے ذرا سبزی منڈی اور فروٹ منڈی چلتے ہیں جہاں سے آپکو سبزی اور پھل لینا ہے۔ سجی سجائی ریڑھوں اور سٹالوں پر آپ کو بالکل اجازت نہیں کہ آپ کسی چیز کو ہاتھ لگاسکیں۔ آپ کی طرف یعنی باہر کی جانب انتہائی اچھے اور خوبصورت پیاز یا ٹماٹر ہوں گے لیکن آپ کو اندر کی طرف سے چھوٹے چھوٹے یا گلے ہوئے پیاز یاٹماٹر یا دوسری سبزیاں ہی دی جائیں گی ان کو مکس بھی نہیں کیا جائے گا۔ ہمارے مبلغین اور علماء معاشرے کے اس پہلو کی طرف بھی توجہ دیتے اور عبادات کے ساتھ معاملات کو سدھارنے کی بھی تلقین کرتے تو شایدمعاشرے میں بہتری کے کچھ آثار پیداہوتے لیکن دکھ اس وقت زیادہ ہوتا ہے جب ہاتھ میں پکڑی ہوئی تسبیح کے دانے پھیرتے ہوئے معاملات میں دو نمبری کی جاتی ہے۔
میری ارباب اختیار سے، اصحاب علم سے، مبلغین سے اور علماء سے یہ درخواست ہے کہ وہ معاشرے کے اس پہلوکی طرف توجہ دیں۔عام آدمی کو معاملات میں ایمانداری کی اہمیت سمجھائیں ان میں قوت برداشت پیدا کرنے کی کوشش کریں انہیں بتائیں کہ حقوق اللہ کی اہمیت اپنی جگہ لیکن حقوق العباد کی اہمیت بھی بہت زیادہ ہے۔ انہیں یاد کرائیں کہ ناپ تول کی کمی پر اللہ تعالیٰ نے کیسے قوموں پر عذاب نازل کیا، تکبر نے کتنی قومیں برباد کیں اور عدم برداشت نے دنیا کو کتنی بار جنگوں کی آگ میں جھونکا۔ انہیں یہ تعلیم دیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے حقوق معاف کردے گا لیکن اپنے بندوں کے حقوق ان کی رضا کے بغیرمعاف نہیں فرمائے گا۔ معاشرہ ان ہی عام لوگوں سے بنتا ہے اگر یہ اہم نکتہ انہیں سمجھائیں گے تو بہتری کی صورت خود نکل آئے گی۔ صاحبان علم آگے بڑھ کر محنت اور معاوضے کا اصول سمجھائیں تو خود ہی عام لوگ محنت کے عادی ہوجائیں گے۔ انہیں بتائیں کہ معاوضہ وہی حلال ہے جو محنت کے بدلے وصول کیا جائے جب حلال اور حرام میں تمیز سیکھ لی جائے گی تو خود بخود غلط اور صحیح کا فرق بھی سمجھ آجائیگا اور یوں ایک بہتر معاشرے کی بنیاد پڑتی جائے گی۔ ابھی تک ہم نے تعلیم و تربیت کو صرف سکولوں کالجوں تک محدود سمجھا ہوا ہے بلکہ وہاں بھی تربیت پر توجہ نہ ہونے کے برابر ہے لیکن اب ہمارے پاس معاشرے کے اس اہم ترین پہلو کو مزید نظرانداز کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ورنہ نہ ہم جرائم پر قابو پا سکیں گے نہ بے راہروی پر اور نہ ہی معاملات میں بے ایمانی پر لہٰذا اب ہمیں اس پہلو پر جنگی بنیادوں پرکام کرنا ہوگا حکومتی سطح پر بھی اور عوامی سطح پر بھی۔

Print Friendly, PDF & Email