46

دروغ گوراحافظہ نبا شد….تحریر:تقدیرہ خان

کہتے ہیں کہ جھوٹے کا حافظہ نہیں ہوتا وہ خودہی اپنے جھوٹ کی نفی کر دیتا ہے۔ آجکل میڈیا والے یہ کام آسان کر دیتے ہیں۔ سیاستدانوں کے جھوٹے محفوظ شدہ بیانات کی جھلکی دکھا کران کے جھوٹ عیاں تو کرتے ہیں مگر پھر بھی ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ آجکل میاں نواز شریف اس فیلڈ میں پہلی پوزیشن کے لئے سرگرم ہیں اور اُن کاخاندان اور حواری ان جھوٹوں، مکاریوں او رعیاریوں کی تشریح میں مصر وف ہیں۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اگر عوام کے حقو ق کی بات کرنا بغاوت ہے تو یہ بغاوت ہم ہرروز کرینگے۔ خرم دستگیر خان نے کہا کہ آئین کی پاسداری کی بات کرنا غداری کے زمرے میں نہیں آتا۔ اسی طرح پیپلز پارٹی اور جمعیت کے جمہوریت پسندوں نے میاں نواز شریف کے بیان کو محبت، اخوت، حب الوطنی، جمہوریت پسندی اور آئین پاکستان کی پاسداری کے لبادے میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ دیکھا جائے تو پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم جمع ہونے والے مختلف الخیال خود ساختہ سیاسی دانشوروں کے ذاتی مفادات مکمل طور پر یکجا ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے ان کا اتحاد نہ صرف ضرورت بلکہ مجبوری ہے۔ ان لوگوں نے اپنے منشور کی بنیاد ہی دروغ حلفی پر رکھی ہے تاکہ افواج پاکستان اور ملک کے عدالتی نظام کے خلاف اس قدر دروغ گوئی کی جائے کہ افواج پاکستان یا عدلیہ ان کے خلاف کوئی قانونی کاروائی کرے جس کی آڑ میں یہ لوگ محض اپنا لوٹا ہوا مال بچانے کی کوشش میں نہ صرف کامیاب ہو جائیں بلکہ ملک گیر فسادات کے نتیجے میں اقتدار بھی حاصل کر لیں۔
جولوگ بھارتی ٹیلی ویژن چینل دیکھتے یا انٹر نیٹ سے منسلک ہیں وہ سب جانتے ہیں کہ جو کچھ میاں نواز شریف، مریم نواز، صفدر اعوان، خرم دستگیر، مولانا فضل الرحمن اور اُن کے برادر خورد کہہ رہے ہیں یہ نہ تو آئین کی پاسداری اور نہ ہی عوام کے حقوق اور جمہوریت پسندی ہے بلکہ عوام کو بیوقوف بنانے، ملک توڑنے اوربھارت کی بالا دستی قائم کرنے کی گھناؤنی سازش ہے۔بھارت کے سابق آرمی چیف، سابق جرنیل، سیکیورٹی ایڈوائزر، بھارت کا تھنک ٹینک، سیاستدان اور دیگر حکومتی اور غیر حکومتی شعبوں سے منسلک اعلیٰ عہدیدار لگا تار کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کی مضبوطی اور قوت کا بنیادی نقطہ پاک فوج اور سیکیورٹی کے وہ ادارے ہیں جن کا تعلق افواج پاکستا ن سے ہے۔ ہمیں اپنا فوکس پاک فوج پر رکھنا ہے۔ اس کے بعد پاکستان کی معیشت، ثقافت، سیاست اور مذہب یعنی دینی معاملات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ دیکھا جائے تومیاں نواز شریف اور اُس کے خاندان کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کے کچھ قائدین اور جمعیت علمائے اسلام بھی آئین، جمہوریت اور حقوق کے لبادے میں یہی کام کر رہے ہیں مگر ہماری صحافت اور دانش کے مدار المہام جان بوجھ کر اس کی وہی تشریح کر رہے ہیں جو پی ڈی ایف کے عہد یداروں اور بھارتی دانشوروں کے بیاننے میں شامل ہے۔ کسی صحافی،سیاسی کارکن، دانشور، دین پسند عالم یا مبصر کو یہ کہنے کی جرأت نہیں کہ وہ میاں خاندان، اُن کے حواریوں اور فضل الرحمن سے یہ پوچھے کہ اگر عمران خان تمہارا ھدف نہیں تو وہ کون ہے جس کے خلاف تم منفی پراپیگنڈہ کر رہے ہو۔ فضل الرحمن کا بھائی اورمیاں نواز شریف کا داماد تو کور کمانڈروں کے گھروں کے سامنے دھرنا دینے کی دھمکی دے چکے ہیں اور وہی بات کر رہے ہیں جس کی منصوبہ بندی بھارت میں ہو رہی ہے۔ کیا بائیس کروڑ پاکستانیوں، عدلیہ اور صحافت کے علمبرداروں کو پی ڈی ایف کے مقاصداور بھارتی منصوبہ سازوں کی حکمت عملی سمجھ نہیں آرہی۔پی ڈی ایف اوربھارت کی پاکستان مخالف تحریک کی ہم آہنگی میں ذرہ بھر شک نہیں مگر اہل علم و عقل تباہی کے بعد تبصروں کے منتظر ہیں۔ پی ڈی ایف میں شامل ایسی جماعتیں بھی ہیں جو پاکستان کے وجود کی ہی قائل نہیں۔ مولانا فضل الرحمن کے والد اسے گناہ قرار دے چکے ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ کوئی شخص مولانا سے پوچھنے کی جرأت نہیں کرتا کہ آپ لوگوں کا پاکستان سے کیا رشتہ ہے۔ ایسا ہی حال جماعت اسلامی کا ہے۔
مولانا مودودی اور تحریک پاکستان کے عنوان سے لکھے گئے اپنے کالم میں جناب اثر چوہان نے لکھا کہ جماعت اسلامی کے بانی امیر مولانا مودودی نے اپنی ادارت میں شائع ہونے والے ماہنامہ ترجمان القرآن لاہور کے نومبر1963کے شمارے میں لکھا کہ ہم کھلے بندوں اعتراف کرتے ہیں کہ تقسیم ملک کی جنگ میں ہم غیر متعلق رہے۔ اس کارکردگی کا سہرا ہم مسلم لیگ کے سر باندھتے ہیں اور اس میدان میں کسی حصے کے دعویدار نہیں۔ گو کہ آج جماعت اس بیان کو مختلف رنگ میں پیش کرتی ہے اور تحریک پاکستان میں حصہ داری کی بھی دعویدار ہے مگر حضرت صاحب کے بیان کی تردید نہیں کر سکتی۔ جناب مودودی کا بیان سچائی پر مبنی تھا اوروہ سچ کے ترجمان تھے۔
مونالا فضل الرحمن کے مختلف مواقعوں پر دیے گئے بیانات کا تجزیہ کیا جائے تو وہ بھی میاں نواز شیرف جیسی سوچ و فکر کے حامل ہیں۔ مفتی محمود کانفرنس کے دوران فرمایا کہ میں امریکی اقدامات کی مذمت کرتا ہوں۔ نفاذ شریعت اور جمہوریت کا حامی ہوں۔ دیکھا جائے تومولانا جس جمہوریت کے حامی ہیں اُس میں شریعت کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔امریکی سیکریٹری آف سٹیٹ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ مولانا نے ایک ملاقات کے دوران خواہش ظاہر کی کہ انہیں پاکستان کا وزیراعظم بنایا جائے۔ عجیب قصہ ہے کہ وہ امریکہ کی مذمت بھی کرتے ہیں اور اُس سے وزارت عظمیٰ بھی مانتے ہیں۔ اگر وزارت عظمیٰ امریکہ دیتا ہے تو وہ فوج پر کیوں برستے ہیں۔ شاید وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ پاکستان پر امریکی آئین لا گو نہیں ہوتا۔وہ جس عوام کے حقوق کی بات کرتے ہیں یہ اختیار تو انہیں ہے امریکہ کو نہیں۔ پھر فرماتے ہیں کہ پاکستان ایک خوبصورت نام ہے مگر اس کا نظام طاغوتی طاقتوں کے ہاتھ ہے۔ مولانا کا خاندان اگرچہ پاکستان کے وجود کا قائل نہیں اور ان کے والدمحترم پاکستان کو گناہ قرار دینے کے باوجود اس کے نظا م کا حصہ رہے۔ مولانامفتی محمود نے محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف فیلڈ مارشل کا ساتھ دیا جس کی دو اہم وجوہات تھیں۔ اوّل وہ عورت کی حکمرانی کے خلاف تھے اور دوئم محترمہ فاطمہ جناح قائداعظم ؒکی بہن تھیں۔ جناب مولانا فضل الرحمن نے محترمہ بینظیر بھٹو کی مخالفت میں بیان دیے اور بعد میں اُن کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ جنرل پرویز مشرف کے دور اقتدار میں لیڈر آف دی اپوازیشن رہے اور سابقہ صوبہ سرحد میں حکومت بھی بنا ڈالی۔ اسی طرح وہ میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کے ساتھ شامل اقتدار ہے اور مزے کرتے رہے۔ حیرت کی بات ہے کہ مولانا محترم نے ان طاغوتی قوتوں کا کبھی نام نہیں لیا۔ جمہوریت ہو یا آمریت وہ ہر دور میں اس نظام کا حصہ ہی رہے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email