14

برف زاروں کا زوال…..ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی

مو سموں کی تبدیلی پر تحقیق کرنے والے ما ہرین کا خیال ہے کہ دنیا گر می کی طرف جا رہی ہے سورج کی تپِش سال بہ سال آگ بر سارہی ہے اس وجہ سے اونچے پہاڑوں پر جو برف زارہیں وہ پگھل کر زوال پذیر ہو رہے ہیں بر ف زاروں ( گلیشیرز) کے پگھلنے سے وادی کے اندر فصلوں اور با غا ت کے ساتھ مکا نا ت کو بھی سیلاب کا خطرہ ہے نیز آنے والے سالوں میں نشیبی علا قوں اور میدا نوں میں پا نی کی قلت کا خطرہ بھی ہو گا وزیر اعظم کے معا ون خصو صی برائے مو سمیا تی تغیر (کلا ئمیٹ چینج) امین اسلم نے ملا کنڈ، دیر اور چترال کے دورے کے بعد ایک بیان میں خبر دار کیا ہے کہ ملا کنڈ ڈویژن کے پہا ڑی اضلاع بر فانی جھیلوں کے پھٹنے کی وجہ سے آنے والے سیلا بوں کی زد میں ہیں اس سلسلے میں انہوں نے چترال کا بطور خا ص نا م لیا ہے اور اس کی وجہ ہندو کش کے پہا ڑوں پر واقع برف زاروں کی پتلی حا لت ہے ہما لیہ، قراقرم ہندو کش اور پا میر کے پہا ڑی سلسلوں میں قطب شما لی سے با ہر دنیا کے بڑے، گہرے اور لمبے گلیشیر واقع ہیں یہ وہ بر ف زار ہیں جو ہزاروں سالوں سے نشیبی علا قوں اور میدا نوں کو پا نی فراہم کر تے ہیں دنیا کے قدیم ترین زما نے کو برف کا زما نہ آئس ایج کہا جا تا ہے ہمارے عہد کے قریب ترین جوزما نہ گذرا ہے وہ 26لا کھ سال پہلے شروع ہوا 12ہزار سال پہلے ختم ہوا یہ وہ دور تھا جب ہر طرف برف ہی برف تھی زمین کا درجہ حرارت سرد ترین سطح پر تھا اکیسویں صدی میں شما لی امریکہ سے لیکر چین، بھارت، پا کستان،نیپال، روس اور دیگر ایشیا ئی مما لک کے پہا ڑی سلسلوں پر جو گلیشیر یا برف زار ہیں یہ سب اُس دور کی یا د گار ہیں اس وقت ما ہرین کی نظر نیپا ل میں پوکھارا ( Pokhara) اور امجا (Imja) کے برف زاروں پر ہے تاجکستان کے پا میر اور زار فشان میں 8000 گلیشیر پا یے جا تے ہیں فید چنکو بالتورو (Fedchenko)اس سلسلے کا بڑا گلیشیرہے جس کی لمبائی 77کلو میٹر ہے پا کستان میں بڑے بڑے گلیشیرقراقرم رینج میں وا قع ہیں سیا چن کی لمبائی 76کلو میٹر،باتلوردکی لمبائی 62کلو میٹر اور باتورا کی لمبائی 64کلو میٹر ہے پا کستان میں گلیشیروں کی کل تعداد 7000ہے جو تا جکستان سے ایک ہزار کم ہے ہندو کش رینج کے سب سے بڑے گلیشیرکا نام چیان تر (Chiantar) ہے یہ وادی بروغل میں وا قع ہے اور اس کی لمبائی 33کلو میٹر ہے دریائے چترال کا منبع یہی گلیشیر ہے، یہ بات قابل ذکر ہے کہ دریائے چترال جب پشاور کے میدا نوں میں داخل ہو تا ہے تو افغانستان کے راستے آنے کی وجہ سے اس کو دریا ئے کا بل کہا جا تا ہے چترال کے پہا ڑوں اور پہا ڑی دروں میں 600گلیشیرہیں جن میں چیان تر، دارکوت، زیوار، اتہک، کچی کھنی، گولین، بیندوگول،ریشن گول، سنو غر وغیرہ مشہور ہیں زما نہ قدیم میں بھی گلیشیر پھٹنے کے وا قعات ہوتے تھے ایسے وا قعات کے نتیجے میں آنے والے سیلاب کو ”چٹی بوئے“ (Chatiboi) کہا جا تا تھا لو گوں کو سیلاب سے خبردار کر نے کے لئے مخصوص پہا ڑی چوٹیوں پر آگ کے آلا ؤ روشن کئے جا تے تھے چیانتر سے اراندو تک 400مقا مات پر آگ کے آلاؤ روشن کر کے لو گوں کوسیلاب سے خبر دار کیا جا تا تھا جس کو مقا می زبان کھوار میں پھومباراش کہا جا تا تھا 2010اور 2015کے درمیان چترال میں پے درپے سیلا ب آئے ان سیلا بوں کو انگریزی میں گلوف (Glof) نام دیا گیا جو گلیشیل لیک آوٹ برسٹ فلڈکا مخفف ہے 2012میں یو نائٹیڈ نیشنز ڈیو لپمنٹ پرو گرام (UNDP) نے گلوف سے خبر داری کا منصو بہ شروع کیا اور بیندو گول (Bindu Gole) میں مقا می آبادی کے اشتراک سے قبل ازوقت خبر داری کے لئے آلات نصب کر کے مقا می آبا دی کو ان آلا ت کے استعمال کی تر بیت دی نیز نشیبی علا قوں میں حفاظتی بندھ باندھ کر با غا ت اور فصلوں کے ساتھ مکا نا ت کو سیلاب سے محفوظ کرنے کا جا مع کام کیا یہ پائیلٹ پرا جیکٹ تھا 2015کے بعد اصل پر اجیکٹ شروع ہونا چاہئیے تھا لیکن اصل منصو بے میں وہ رکا وٹیں آگئیں جو عمو ماًآیا کر تی ہیں رورل اکیڈیمی پشاور کے ما ہر تر قیا ت جا وید صاحب کہا کر تے تھے کہ ہمارا ڈونر ”گورا ما موں“ ہے جو اپنی بات سنا تا ہے ہماری بات نہیں سنتا جا وید صاحب نے ہمیں ایک فار مو لا دیا تھا جو بیرونی مما لک سے آنے والے امداد، عطیات وغیرہ کی تقسیم کا ما نا ہوا فارمو لا تھا اس کی رو سے اگر ایک ارب روپے کی گرانٹ با ہر سے آتی ہے تو اس میں 40فیصد گوراما موں کے سفر خر چ پر صرف ہو تا ہے 50فیصد اسلا م اباد اور پشاور کے بڑے ہو ٹلوں میں سیمینار، ورکشاپ، بڑی گاڑیوں اور دفتروں کے انتظام وغیرہ پر خر چ ہو تا ہے باقی 10فیصد بچ جا تا ہے وہ پہا ڑوں، برف زاروں، ندی نا لوں اور دریا وں کی تصاویر کو محفوظ کرنے کے کا م آتا ہے اور جا وید صاحب کے فارمو لے کے مطا بق یہ گلوف (GLOF) کے اصل پرا جیکٹ کی حقیقت ہو گی شکر کا مقام ہے کہ کلا ئمیٹ چینج کے لئے وزیر اعظم کے معا ون خصو صی امین اسلم نے گلوف کے خطرات سے ملا کنڈ ڈویژن کے عوام کو خبر دار کیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email