37

کشمیری شاعر اور ادیب۔۔۔تقدیرہ اجمل

ٹیلی ویژن چینلوں پر آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے صحافی، شاعر اور ادیب اکثرنظر آتے ہیں مگر اُن کے چہرے علم و ادب کی سرخی سے سوا ہوتے ہیں۔ وہ ہمیشہ حکومت پاکستان سے نالاں اور شکوہ کناں رہتے ہیں۔ انہیں کشمیر اور کشمیریوں سے زیادہ آزادکشمیر کی سیاست،حکومت اور پاکستان کے حکمران خاندانوں کی فکر رہتی ہے۔بنیادی طور پرآزاد کشمیر کی سیاست، صحافت، ادب وفکر کے مراکز لاڑکانہ اور جاتی عمرا ہیں جو ان کی ضروریات کو تو پورا کرتے ہیں مگر انہیں کشمیر کی آزادی او رکشمیریوں کی بد حالی سے کوئی سروکار نہیں۔ آزادکشمیر کی سیاست نودولیتے کلچر کی پیداوار ہے۔ جس کا بنیادی تصور مال بنانا،عیش و عشرت کی زندگی گزارنا،اپنی تشہیر کے لئے صحافیوں سے تعلقات بحال رکھنا اور اُن کو خوراک، لباس، رہائش اور دیگر لوازمات کا خیال رکھنا ہے۔ خواتین اہل علم و قلم بھی اپنے بھائیوں سے کم نہیں۔ وہ اپنے علم و ادب کی برکت سے اچھی نوکریوں کے حصول کے لیے کوشاں رہتی ہیں اور اکثر کامیاب بھی ہو جاتی ہیں۔ ایک دور تھا جب پروفیسر ڈاکٹر مقصود جعفری،جناب بشیر جعفری،ا حمد شمیم، محمود ہاشمی،جی ایم میر، ثریا خورشید، خالد حسن، کبیر خان، ایس ایم جعفر اور جناب یوسف صراف جیسے لوگ قدیم کشمیری شاعروں اور ادیبوں کے علمی، ادبی او ر اصلاحی اثاثوں کے وارث تھے۔ حالات تو پاکستان میں بھی ایسے ہی ہیں اور یہاں بھی ادب برائے فروخت اور صحافت برائے سیاست ہے مگر کشمیری اہل فکر و دانش پر بیس لاکھ کشمیری شہدا کے خون کا قرض ہے۔ اُنہیں زرداری، نوازشریف، مریم صفدر، بلاول اور دیگر کی مداح سرائی کے بجائے اپنے نصیب العین پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
کشمیر کی دو مشہور رانیاں کوٹہ رانی اور ملکہ حبّہ خاتون بھی شاعرہ تھیں۔کوٹہ رانی نے اپنے خاوند صدرالدین رنجن شاہ بلبل شاہ کا قصیدہ لکھا اور سارے کشمیر کے راجگان کو ترک کا فرجرنیل اچل منگل کے خلاف متحد کر لیا۔ کوٹارانی نے شاہ میر کو کشمیر ی افواج کا کمانڈر مقرر کیا اور ترک افواج کاخاتمہ کر دیا۔ حبّہ خاتون کی شاعری سے کون واقف نہیں۔ اُس کی ادبی تحریک سے تنگ آکر اکبر بادشاہ نے اسے کشمیر کی ملکہ بننے کی دعوت دی جسے اُ س نے ٹھکرا دیا۔ حّبہ خاتون نے میر بحر میرقاسم کے نام ایک نظم میں لکھا ہے کہ میرے خاوند یوسف شاہ چک کے مقابلے میں شہنشاہ اکبر کی حثیت اُس چوہے سے کم نہیں جو رات کے اندھیرے میں میری جنت کشمیر میں داخل ہوا اور حکمران بن گیا۔ اسے کہو کہ میرے محبوب خاوند کو رہا کردے اور میری جنت سے نکل جائے۔
غدار کشمیر شیخ عبداللہ نے حّبہ خاتون کا مزار تعمیر کروایا اور اُس کی برسی کے دن کشمیر میں عام تعطیل کا اعلان کیا۔ شیخ عبداللہ، بخشی غلام محمد اور مرزا افضل بیگ نے بمبئی کے مشہورفلم ساز ضیاء سرحدی کو کشمیرآنے کی دعوت دی اور اُسے حبّہ خاتون کی زندگی پر فیچر فلم بنانے کو کہا۔ ضیاء سرحدی کچھ عرصہ کشمیر میں رہا اور حبّہ خاتون کی زندگی پرضروری مواد اکٹھا کیا۔ اپنا کام مکمل کر نے کے بعدضیاء سرحدی وزیراعظم بخشی سے ملا اور کہنے لگا کہ یہ فلم تمہیں راس نہ آئے گی۔ حبّہ خاتون جتنی حسین تھی اتنی حسین عورت نہ کشمیر میں ہے اور نہ ہی بھارت میں ہے۔ وہ جتنی ذہین تھی اُس کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔ وہ جتنی بہادر تھی اس کی مثال ہی نہیں ملتی۔وہ جتنی بے خوف و نڈر تھی ایسا کوئی جرنیل اس خطہ زمین پر نہیں۔ اُسے یوسف شاہ چک سے جوپیار تھاوہ بے مثال تھا۔ وہ کشمیر کے حسن پر فاریفتہ اور حب الوطنی کی مٹی سے بنی تھی۔ اُس نے اپنی زندگی آزادی کے نام وقف کی اور اسی حالت میں مر گئی۔ تم نے غلامی کا طوق گلے میں ڈال لیا اور آئیندہ نسلوں کو غلامی کا خوگر بنا دیا۔ یہ کہہ کر ضیاء سرحدی بمبئی چلا گیا اور بخشی نے فلم بنوانے کا ارادہ ملتوی کر دیا۔ آزاد کشمیر کے شاعروں اور ادیبوں کی جنت اسلام آباد میں قائم کشمیر ہاؤسنگ سوسائٹی، وزیروں کی قصیدہ گوئی مظفرآباد میں نوکری، میرپور میں پلاٹ، انگلینڈکی سیر اور زرداری اور نوازشریف کی قصیدہ گوئی اور مریم نواز کی شہ پر فوج کے خلاف پرا پیگنڈہ اور بوقت ضرورت بھارت نواز ی ہے۔
ہمارے ایک دوست نے جدو جہد آزادی کی کہانی کے عنوان سے کتاب لکھی۔ اس کی خواہش تھی کہ وہ صرف کشمیری شاعر وں اور ادیبوں کو اس کتاب کی تقریب رونمائی میں دعوت دے تاکہ آذادکشمیر کی نوجوان نسل تحریک آزادی کشمیر کے بنیادی نکات سے آگاہ ہو۔ اس سلسلہ میں آزاد کشمیر کی ایک شاعرہ وادیبہ سے رابطہ کیا تو فون ان کے وکیل بھائی نے اٹھایا۔موصوف نے کہانی نویس پر چڑھائی کر دی کہ تم نے مجھے فون کیوں کیاہے۔ میں مصروف وکیل ہوں۔ تمہیں پہلے وقت لینا چاہیے تھا۔ کہانی نویس نے کہا کہ مجھے کسی شاعر نے تمہار ا نمبر دیا ہے تاکہ تمہاری،انقلابی شاعرہ بہن کا نمبر لیکر انہیں ایک ادبی تقریب میں شمولیت کی دعوت دے سکوں۔ وکیل نے کہا یہ میرا مسئلہ نہیں خود ڈھونڈ لو۔ بعدمیں پتہ چلا کہ یہ بھی ایک نو دولیتہ خاندان ہے۔ تکبر، رعونت اور اکھڑپن ان کی خاندانی بیماری ہے۔ یہی دانشور شاعرہ اکثر مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے ٹیلی ویژن پر آتی ہیں اور دکھ بھرے اشعار بھی سناتی ہیں۔ جس قوم کے اہل و علم کے دو دو چہرے ہوں ان پر آزادی کا نور کبھی آ نہیں سکتا۔جنگ اُحد کی رات اہل مدینہ کے لئے دکھ و غم کی رات تھی۔ حضورﷺ بھی غم ذدہ تھے۔آپ ﷺاُٹھ کر پہلے انصار کے محلوں میں گئے تو وہاں عورتیں اپنے شہیدوں اور غازیوں کی شان میں قصیدے اور نوعے پڑھ رہی تھیں۔ اس کے بعد آپ ﷺ مہاجر ین کی بستیوں میں آئے تو عورتیں ایک جگہ جمع خاموشی سے آنسو بہا رہی تھیں۔آپ ﷺ یہ منظر دیکھ کر آبدیدہ ہو گئے اور فرمایا آج حمزہ ؓ کی شان میں قصیدہ پڑھنے والا کوئی نہیں۔ خواتین نے کہا یا رسول اللہ ﷺہم نے سوچا کہ شاید آپ ﷺ پسند نہ فرمائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ آج غم کی رات ہے۔ آ پ شہیدوں کی شان میں ضرور پڑھیں۔افسوس آج لاکھوں کشمیریوں کے خون کے سودا گر مریم، نواز شریف، بلاول، صفدر اورفریال تالپور کے قصیدے لکھ کر عیش وعشرت کی زندگیاں جی رہے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email