52

پشتین اور نواز میں کوئی فرق نہیں

نغمہ حبیب

16 اکتوبریوں تو پاکستان کے پہلے وزیراعظم خان لیاقت علی خان کی برسی ہے لیکن اس بار کسی نے انہیں یاد نہیں کیا بلکہ سب اپوزیشن کے گوجرانوالہ جلسے کی فکر میں مبتلاء رہے۔موجودہ حکومت کے تقریباً سوا دو سال کے دور حکومت میں پہلی دفعہ اپوزیشن نے سنجیدہ کوشش کی کہ وہ خود کو اپوزیشن ثابت کرے لیکن یہاں بھی وہ کوئی ذمہ دارانہ کردار ادا نہ کر سکی۔ اور تو جلسے میں جو ہوا سو ہوا لیکن میاں نواز شریف نے لندن سے بیٹھ کر جو تقریر کی ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے دشمن ملک کا کوئی سیاستدان پاک فوج کو للکار رہا ہے۔ پی ٹی ایم کے منظور پشتین اور مسلم لیگ نون کے میاں نواز شریف میں کوئی فرق محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ فوج کے خلاف وہ نعرے لگواتا ہے نواز شریف بھی لگوارہے تھے وہ صرف پختونوں کے مسائل کے لیے فوج کوذمہ دار گرادنتا ہے نواز شریف پورے پاکستان کے لیے اسے ذمہ دار قراردے رہے تھے بس فرق تھا تو لفظوں کا تھا وہ دہشت گردی کے پیچھے وردی کا نعرہ لگواتا ہے یہاں نواز شریف قوم کے تمام مصائب کا ذمہ دارجنرل باجووہ کو ٹھہرارہے تھے۔ ہمارے ہاں سیاست کا یہ چلن کوئی نیا نہیں، جو حکومت میں ہوتا ہے وہ فوج کی تعریف کرتا ہے اور جو اپنی نااہلیوں کے باعث حکومت سے باہر ہوتا ہے وہ فوج کے بارے کم و بیش ایسی ہی زبان استعمال کرتا ہے اور یہ سب کچھ ریکارڈ پر موجود بھی ہے لیکن محترم نواز شریف اس میدان میں سب سے آگے ہی رہتے ہیں۔ وہ یہ سب کچھ کہتے ہوئے بھول جاتے ہیں کہ وہ خود سیاست میں کیسے تشریف آور ہوئے اور کیسے یہ سیڑھیاں چڑھتے چڑھتے وزیراعظم کے عہدے تک پہنچے بلکہ تین بار پہنچے یہ اور بات ہے کہ یہ تین موقع ملنے کے باوجود وہ خود کو نہ منوا سکے اور ہر بار اپنی نا اہلی کے باعث اپنی مدت پوری نہ کر سکے ہاں اپنی دولت میں اضافہ ضرور کرتے رہے اور بقول شہباز شریف کے ایک عام گھرانے سے تعلق ہونے کے باوجودترقی کرتے کرتے وہ آج ملک کے امیر ترین خاندانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ نواز شریف کو فوج کا سب سے زیادہ ممنون ہونا چاہیئے جس نے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ گوہر نایا ب تلاش کیا۔ مگر وہی گوہر نایاب آج اپنی ہی فوج کے سپہ سالارکو للکار رہا ہے مجھے قمر جاوید باجوہ کے بارے میں ان کے رویے پر تشویش نہیں لیکن آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کے بارے میں ان کے لہجے اور رویے پر اعتراض بھی ہے اور تشویش بھی کہ وہ کیسے اپنے ہی ملک کی فوج کو یوں پوری دنیا کے سامنے بے عزت کر رہے ہیں۔میاں نواز شریف حکومت کے خلاف جو کہنا چاہیں کہیں ان کے خلاف چاہیں تو تحریک چلائیں یہ ان کا جمہوری اور آئینی حق ہے۔وہ اپوزیشن کریں اور اپوزیشن کر کے حکومت کو پٹری پر رکھے ان کے اوپر یوں نگا ہ رکھے کہ وہ کوئی غلط کام نہ کریں لیکن انہوں نے اپنی توپوں کا رُخ مکمل طور پر فوج کی طرف رکھا اور ان کا یہ رویہ کوئی نیا نہیں تھا بلکہ وہ جب بھی حکومت میں رہے یا باہر رہے ہر جگہ انہوں نے فوج اور اس کے سربراہ کے خلاف محاذ گرم کیے رکھا ہے کسی آرمی چیف سے ان کی نہیں بنی صرف اور صرف فوج سے اپنی مخاصمت کی بنا پر وہ اس کے سربراہ سے دشمنی بنائے رکھتے ہیں۔اپنی حالیہ تقریر میں بھی وہ یہی کر رہے ہیں وہ براہ راست جنرل باجوہ باالفاظ دیگر پاک فوج کے اوپر انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگا رہے ہیں اور مسلسل اس بات کو دہراتے رہے کہ تمام مسائل کی ذمہ دار فوج ہے کھلے الفاظ میں فوج کو چور کہا اور کہا کہ فوج نے عوام کے ووٹ چوری کیے اُسے خائن کہا۔سوال کئی ہیں جو ان کی تقریر پر اٹھتے ہیں۔ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا وہ گجرانوالہ کے سٹیج پر کھڑے ہو کر یہی الفاظ استعمال کر سکتے تھے سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہ تقریر کسی بیرونی قوت کو خوش کرنے کے لیے ہو رہی تھی کیونکہ جلسہ تو حکومت کے خلاف تھا ایجنڈاتو حکومت کی نا اہلیاں تھیں مہنگائی کے خلاف تحریک تھی لیکن تقریر کا موضوع مستقل فوج تھا۔دراصل اب جناب نواز کو دوبارہ اپنے بر سر اقتدار آنے کے کوئی امکانات نظر نہیں آرہے ان کی سیاست اختتام کو پہنچی ہوئی لگ رہی ہیں جسے اختتام تک پہنچانے میں فوج سے زیادہ کردار ان کی اپنی صاحبزادی کا ہے جنہوں نے اپنے والد کو ایسے مشوروں سے نوازا کہ ان کی سیاست خود بخود ختم ہو گئی اور موجودہ رویہ ان کا اسی مردے میں دوبارہ جان ڈالنے کی ایک کوشش ہے لیکن پاکستان کے عوام اب سمجھ چکے ہیں اور اگر نہیں سمجھے تو سمجھ لینا چاہیئے کہ خاص کر نواز شریف اور دیگر سیاستدانوں کی اکثریت بھی صرف اپنے اپنے مفاد کے لیے کوشاں ہے اور اسی لیے وہ جب اقتدار میں نہیں ہوتے یا اقتدار سے علحدہ ہو جاتے ہیں تو وہ بجائے اپنی کارکردگی کے فوج کو اس کا ذمہ دار قرار دینے لگتے ہیں اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی باتیں کرنے لگتے ہیں یا یہ دعوے کرنے لگتے ہیں کہ فوج اب لڑنے کے قابل نہیں رہی لہٰذا قابلِ تعظیم نہیں اور یہ صف آرائی ویسی ہوتی ہے جیسے بھارت کا کوئی سیاستدان پاک فوج کے خلاف بول رہا ہو۔ان کا کہنا یہ ہے کہ جس جماعت کو فوج چاہے اقتدار میں لے آئے تو اگر فوج نے تین تین بار آپ کو ایوانِ اقتدار میں لا بٹھایا تو پھر اس پر حملے کیسے اور اس بات سے آپ انکار کربھی نہیں سکتے کہ آپ کی ساری سیاست اور کامیابی ایک فوجی حکمران کے ہی مرہونِ منت ہے آپ کو کو چہء سیاست کا راستہ بھی اسی فوجی نے دکھایا تھا لہٰذا دراصل آپ کو مسند وزارت اعظمٰی بھی انہی کی وجہ سے ملی اس میں آپ کے کسی ٹیلنٹ کو کوئی دخل نہیں اور نہ ہی آپ کے دل میں عوام کے لیے کوئی خلوص ہے۔ آپ اپنے جو کارنامے گنواتے رہتے ہیں اس میں بھی اگر آپ نے کچھ کیا بھی ہے تو جاتی عمرہ کا حصہ برابر نکلتا رہا ہے اور اس کا حدودِ اربعہ بھی بڑھتا ہی رہاہے اور اس کی دولت میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ موجودہ حکومت بھی عوام سے اپنے کیے ہوئے وعدے پورے کرے ورنہ یہ بڑے دکھ کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وہ اسی طرح ”سلیکٹڈ“ کہلا کر پاک فوج کی سبکی کا باعث بنتی رہے گی اور پاک فوج کو سیاست میں گھسیٹنے والے اسے گھسیٹتے رہیں گے لیکن انہیں یاد رکھنا چاہیئے کہ اسی طرح اسے سیاست کا حصہ بنانے کی چلن اگر جاری رہا تو خدا نخواستہ ایک دن یہ فوج ایک دفعہ پھر”سیاسی“ ہو ہی جائے گی اور پھر سیاستدانوں کو سر منہ چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی اس لیے دشمن کا ایجنڈاپورا کرتے کرتے وہ صرف مری ہوئی سیاست کو دوبارہ زندہ نہ کر سکیں گے بلکہ باہر پناہ میں بیٹھے ہوئے ملک کی بدنامی کا باعث بنتے رہیں گے۔
محترم نواز شریف صاحب بس اب اپنے دوست مودی اور بزنس پارٹنر بھارت کو خوش کرنا چھوڑ دیں اور اگر آپ ”بیماری“ کی وجہ سے جلسوں میں نہیں آسکتے تو اپنے ڈرائنگ روم سے ہماری قسمت کے فیصلے بھی کرنا چھوڑ دیں عوام اب آپ کے ڈھکو سلوں سے تنگ آچکے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email